کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
حدیث نمبر: 3629
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جبرائیل نے مجھ سے کہا: آپ کے نزدیک نماز کو محبوب بنایا گیا ہے ، تو آپ اس میں سے جتنی چاہیں ، اختیار کر لیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3629
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب، 2144 مسند أحمد بن حنبل ، مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب ، حديث 2238 مسند أحمد بن حنبل، مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب، 2616 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما أسد عبد الله بن عباس رضى الله عنهما، يوسف بن مهران، حديث 12713 مسند عبد بن حميد، مسند ابن عباس رضى الله عنه 667»
حدیث نمبر: 3630
وَعَنْ سَفِينَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَعَبَّدَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَاعْتَزَلَ النِّسَاءَ حَتَّى صَارَ كَأَنَّهُ شَنٌّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَفِينَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : لَيْسَ بِثِقَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انتقال سے پہلے ( اہتمام کے ساتھ ) عبادت کرتے رہے ، اور خواتین سے لاتعلقی اختیار کی ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہو جاتے ، جیسے بوسیدہ مشکیزہ ہو ( یعنی وہ کسی استعمال میں نہیں آتا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے محمد بن عبدالرحمن بن سفینہ کی ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : وہ ثقہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3630
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار، ما أسند سفينة 3242»
حدیث نمبر: 3631
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ شَهْوَةً ، وَإِنَّ شَهْوَتِي فِي قِيَامِ اللَّيْلِ إِذَا قُمْتُ فَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ خَلْفِي ، وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ طُعْمَةً ، وَإِنَّ طُعْمَتِي هَذَا الْخُمْسُ فَإِذَا قَضَيْتُ فَهُوَ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقُ : لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُوهُ : وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی دلچسپی کی چیز بنائی ہے ، اور میری دلچسپی کی چیز رات کے وقت نوافل ادا کرنا ہے ، جب میں نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوؤں ، تو کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا نہ ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی عطیہ دیا ہے ، اور میرا عطیہ یہ خمس ہے ، جب میرا انتقال ہو جائے گا ، تو یہ میرے بعد والے حکمران کو ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے اسحاق بن عبداللہ بن کیسان نے نقل کیا ہے ۔ ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، اور اس کے باپ کو یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما أسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما باب 12344»
حدیث نمبر: 3632
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ - أَوْ سَاقَاهُ - فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ ! قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نوافل ادا کرتے ہوئے ) اتنا ( طویل ) قیام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں ورم آلود ہو جاتی تھیں ، اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : کیا ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3632
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي، قتادة 2830 معجم ابن الأعرابي 691 المعجم الأوسط للطبراني، باب العين باب الميم من اسمه محمد ، 5844 التهجد وقيام الليل لابن أبى الدنيا باب ذكر القائمين حتى تورمت أقدامهم 213»
حدیث نمبر: 3633
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى وَرِمَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3633
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الصغير للطبراني من اسمه جعفر 328 المعجم الأوسط للطبراني، باب الجيم من اسمه جعفر، 3455»
حدیث نمبر: 3634
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے اتنی طویل ) نماز ادا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ ایسا کرتے ہیں ؟ جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس یہ بات آ چکی ہے کہ اُس نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «صحيح ابن خزيمة جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن جماع أبواب صلاة التطوع بالليل باب استحباب الصلاة وكثرتها وطول القيام فيها يشكر الله لما يولى 1115 معجم ابن الأعرابي ، 131 شعب الإيمان للبيهقي، فصل فى براءة نبينا صلى الله عليه وسلم فى النبوة 1466 الشمائل المحمدية للترمذى باب ما جاء فى عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم 254 سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة، باب ما جاء فى طول القيام فى الصلوات 1416 السنن الصغرى، كتاب قيام الليل وتطوع النهار الاختلاف على عائشة فى إحياء الليل 1634 السنن الكبرى للنسائى كتاب قيام الليل وتطوع النهار ذكر صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل واختلاف ألفاظ حديث 1302»
حدیث نمبر: 3635
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ اللَّيْلَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيِسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ وَرَوَى عَنْهُ الْعُقَيْلِيُّ وَكَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں پھول جاتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت نہیں کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : یہ بعض اوقات غلطی کرتا ہے ، عقیلی نے اس سے روایات نقل کی ہیں ان کا یہ کہنا ہے : یہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الأوسط للطبراني، باب العين باب الميم من اسمه محمد 7331»
حدیث نمبر: 3636
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کے وقت طویل نفل ) نماز ادا کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت نہیں کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے ، جسے امام أحمد ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3636
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبرانى بقية الميم باب الواؤ على بن الأقمر ، 18210 ، معجم ابن الأعرابي باب الدال 1606»
حدیث نمبر: 3637
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ وَلَا يَأْمُرُ بِشَيْءٍ وَسَلَّمَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو ، یا تین مرتبہ مسواک کیا کرتے تھے ، جب آپ رات کی نماز ادا کرنے کے لئے اٹھتے تھے ، تو آپ چار رکعات یوں ادا کرتے تھے کہ درمیان میں کوئی کلام نہیں کرتے تھے ، اور کسی چیز کا حکم نہیں دیتے تھے ، لیکن دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3637
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند الأنصار حديث أبى أيوب الأنصاري، 22942 المعجم الكبير للطبراني باب الخاء، باب من اسمه خزيمة أبو سورة ابن أخي أبى أيوب 3957 مسند عبد بن حميد حديث أبى أيوب الأنصارى رضى الله عنه، 220»
حدیث نمبر: 3638
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ زِيَادَاتِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سولہ رکعات ادا کرتے تھے ، جو فرض نماز کے علاوہ ہوتی تھیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3639
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ بَعْدَ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ ثَابِتِ وَثَابِتٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ نَافِعٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُدْرِكْهُ وَإِنَّمَا رَوَى عَنْ أَبِيهِ ثَابِتٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ، تو اس کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے ، اور ایک وتر ادا کرتے تھے ، یہ آپ رات کی نماز کے بعد ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ثابت ہے ( نافع کا والد ثابت ) سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کا بیٹا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، نافع نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، اور نہ ہی ان کا زمانہ پایا ہے ، اس نے اپنے والد ثابت کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3639
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند المدنيين حديث عبد الله بن الزبير بن العوام 15814، البحر الزخار مسند البزار نافع بن ثابت ، 1956 ، المعجم الكبير للطبراني، من اسمه عبد الله ومما أسند عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ، نافع بن ثابت بن عبد الله بن الزبير 13676، مسند الروياني حديث عبد الله بن الزبير 1325»
حدیث نمبر: 3640
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ نَامَ فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ ؟ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، میں نے آپ کی رات کی نفل نماز کا جائزہ لیا ، آپ نے عشاء کی نماز ادا کی ، پھر آپ سو گئے جب نصف رات ہوئی ، تو آپ بیدار ہوئے آپ نے سورہ آل عمران کی دس آیات کی تلاوت کی ، پھر آپ نے مسواک کی ، پھر وضو کیا ، پھر آپ نے کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کی ، جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ آپ کے قیام ، رکوع اور سجود میں سے کون سا زیادہ طویل ہے ؟ پھر آپ نے نماز ختم کی ، پھر آپ سو گئے ، پھر آپ نے دوبارہ ایسا ہی کیا ، آپ مسلسل ایسا ہی کرتے رہے ، جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا ، یہاں تک کہ آپ نے گیارہ رکعت ادا کر لیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3640
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3641
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ! ! فَقَالَتْ : أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ التَّمَامِ فَكَانَ يَقْرَأُ بِالْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ وَرَغِبَ إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَجَاءَ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ : يَقْرَأُ أَحَدُهُمَا الْقُرْآنَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی : کچھ لوگ ایک رات میں پورا قرآن ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پڑھ لیتے ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اُن لوگوں نے تلاوت کی بھی ہے ، اور نہیں بھی کی ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات نوافل ادا کرتی رہتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اور سورۂ نساء کی تلاوت کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی ایسی آیت کو پڑھتے تھے ، جس میں خوف دلانے کا ذکر ہوتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے ، اور اس چیز کے حوالے سے پناہ مانگتے تھے ، اور جب بھی کوئی آیت پڑھتے تھے ، جس میں کوئی خوشخبری ہوتی تھی ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے ، اور اس کی طرف سے رغبت کا اظہار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان دونوں میں سے ایک ، قرآن کو دو مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھ لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3641
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3642
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَكَانَ يَقْرَأُ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ( نفلی ) روزے رکھتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے اور آپ کبھی نفلی روزہ ترک کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ نفلی روزہ نہیں رکھیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری رات میں سورہ بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت بنی اسرئیل اور سورت زمر کی تلاوت کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل حديث السيدة عائشة رضى الله عنها 23862»
حدیث نمبر: 3643
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا ؟ فَخَرَجْتُ فِي فِتْيَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ وَبَيْنَهُمَا قَرْيَبٌ مِنْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مِيلًا فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ فَقَالَ : أَوْرِدْنَا فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَوْرَدَ ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا ، فَقَامَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذُكِرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے موقع پر ہم آ رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم نے ” سقیا“ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہمارے مشکیزوں میں پانی لا کر دے گا ؟ تو میں انصار کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ نکلا ، یہاں تک کہ ہم اس پانی کے پاس آ گئے جو ” اثایہ “ کے مقام پر ہے ، اس کے اور بستی کے درمیان تیرہ میل کا فاصلہ تھا ، ہم نے اپنے مشکیزوں میں پانی ڈال دیا ، یہاں تک کہ جب شام ہو گئی ، تو اسی دوران ایک شخص اپنے اونٹ کو حوض پر آنے سے روک رہا تھا ، اس نے کہا: ہم آ گئے ہیں ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، آپ تشریف لائے ، میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا ، اور اُسے بٹھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر عشاء کی نماز ادا کی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو گئے ، اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعات ادا کیں ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، اسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3643
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3644
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نفل نماز میں ایک رکعت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا «لا اله الا انت» “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3644
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل ، حديث السيدة عائشة رضى الله عنها 24470»
حدیث نمبر: 3645
وَعَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فَصَلَّى بِالْقَوْمِ ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابُهُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمُ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوُا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشَمَالِهِ فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا نُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا لِنَفْسِهِ وَيَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ أَنْ يَتْلُوَ فَقَامَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَسْأَلَهُ إِلَى مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي قُمْتَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ كَثِيرًا قَالَ : " دَعَوْتُ لِأُمَّتِي " قَالَ : فَمَاذَا أُجِبْتَ ، أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوِ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ " قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " بَلَى " فَانْطَلَقْتُ يَمِينًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا اتَّكَلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ ؟ ! فَنَادَاهُ أَنِ ارْجِعْ فَرَجَعَ وَتِلْكَ الْآيَةُ : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْهُ أَنَّهُ قَامَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جسره بنت دجاجہ بیان کرتی ہیں : وہ عمرہ کرنے کے لئے گئیں ، وہ ” ربذہ “ پہنچیں ، تو میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی ، آپ کے اصحاب آپ کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے قیام اور ان کے پیچھے موجود ہونے کو ملاحظہ فرمایا ، تو آپ اپنے گھر تشریف لے گئے پھر جب آپ نے یہ دیکھا کہ لوگ اس جگہ سے چلے گئے ہیں ، تو آپ واپس اپنی جگہ پر آ گئے آپ نے نماز ادا کی ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ، تو آپ نے اپنے دائیں دست مبارک کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا ، تو میں آپ کے دائیں طرف آ کے کھڑا ہو گیا ، پھر عبداللہ بن مسعود آئے اور وہ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بائیں طرف آ جاؤ ! تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ، تو ہم تینوں نے اس طرح کھڑے ہو کر نماز ادا کی کہ ہم میں سے ہر ایک انفرادی طور پر نماز ادا کر رہا تھا اور اس نے قرآن کا جو حصہ پڑھنا تھا وہ پڑھ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی ایک آیت پڑھتے رہے ، اور اسے دُہراتے رہے ، جب آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی ، تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ رات جو کیا تھا ، اُس کا مقصد کیا تھا ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھوں گا ، جب تک آپ خود بیان نہیں کر دیتے ، تو میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے رہے ، حالانکہ آپ کو اور بھی قرآن آتا ہے ؟ اگر ہم میں سے کوئی ایک شخص ایسا کرتا ، تو ہم اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت کے لئے دعا کرتا رہا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ کو کیا جواب ملا ؟ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے جو جواب ملا ، اگر لوگ اس پر مطلع ہو جائیں تو بہت سے لوگ نماز ہی ترک کر دیں ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سناؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، وہ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے ، اتنی دور کہ جتنا پتھر پھینکیں ، تو پتھر جاتا ہے ، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اسے لوگوں کی طرف بھیج رہے ہیں ، وہ لوگ عبادت کو چھوڑ کر اسی پر اکتفاء کر لیں گے ، انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکارا کہ تم واپس آ جاؤ ! وہ واپس آ گئے ، وہ یہ آیت تھی ( جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کر رہے تھے : ) ” اگر تو انہیں عذاب دے ، تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے ، تو بے شک تو غلبے والا ، حکمت والا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہونے تک ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3645
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3646
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمٍ النَّاجِي وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہونے تک ایک ہی آیت بار ، بار پڑھتے رہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلم ناجی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3646
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل ، مسند أبى سعيد الخدرى رضى الله عنه 11387، شعب الإيمان للبيهقي، فصل فى إحضار القارء قلبه ما يقرؤه والتفكر فيه 1976»
حدیث نمبر: 3647
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا هَجَّرْتُ إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں جدا ہوا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ کو دو رکعات میں تقسیم کر کے پڑھا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3647
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3648
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورت بقرہ کو دو رکعات میں تقسیم کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3649
وَعَنْ أَنَسٍ : وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فَلَمَّا أَصْبَحَ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَثَرَ الْوَجَعِ عَلَيْكَ بَيِّنٌ قَالَ : " إِنِّي عَلَى مَا تَرَوْنَ قَدْ قَرَأَتُ الْبَارِحَةَ السَّبْعَ الطِّوَالَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز ( یعنی تکلیف ) پائی ، جب صبح ہوئی ، تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ پر طبیعت کی خرابی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ رات میں نے سات طویل سورتوں کی تلاوت کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3650
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قَالَ : فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں نماز ادا کر رہے تھے ، آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آئے ، اور آپ کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، ایسا کئی مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ آپ نماز ادا کرتے تھے ، جب صبح ہوئی ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی ، ہماری یہ خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کو طول دیتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری موجودگی کے بارے میں مجھے پتہ تھا ، لیکن میں نے جان بوجھ کے ایسا کیا ہے ( یعنی تمہیں نماز نہیں پڑھائی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك رضي الله تعالي عنه، 11796 مسند عبد بن حميد ، مسند أنس بن مالك حديث 1411 مسند أبى يعلى الموصلي، حميد الطويل»
حدیث نمبر: 3651
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَسَوَّكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّمَا رَقَدَ فَاسْتَيْقَظَ اسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ رَكْعَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْمَدِينِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ، دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے تھے ، جب آپ سو جاتے تھے ، اور پھر بیدار ہوتے تھے ، تو آپ مسواک کرتے تھے ، وضو کرتے تھے ، دو رکعات یا ایک رکعت ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر مدینی ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3651
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «صحيح ابن خزيمة كتاب الإمامة فى الصلاة ، جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن، باب الرخصة فى الاقتداء بالمصلى الذى ينوى الصلاة منفردا ، 1529 المعجم الأوسط للطبراني باب العين من بقية من أول اسمه ميم من اسمه ،موسي 8370»
حدیث نمبر: 3652
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ رات کے وقت سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مظاہر بن اسلم ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3652
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3653
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ سَبْعَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي الْأَرْبَعِ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَتَشَهَّدُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ تَشَهُّدَهُ فِي التَّسْلِيمِ وَيُوتِرُ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَيَرْقُدُ فَإِذَا انْتَبَهَ مِنْ نَوْمِهِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنَامَنِي فِي عَافِيَةٍ وَأَيْقَظَنِي فِي عَافِيَةٍ " ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَتَفَكَّرُ ثُمَّ يَقُولُ : " رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " فَيَقْرَأُ حَتَّى يَبْلُغَ : إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ يُكْثِرُ فِيهِمَا الدُّعَاءَ حَتَّى إِنِّي لَأَرْقُدُ وَأَسْتَيْقِظُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَضْطَجِعُ فَيُغْفِي ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا تَكَلَّمَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ هُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، وَهُوَ فِيهِمَا أَشَدُّ تَضَرُّعًا وَاسْتِغْفَارًا حَتَّى أَقُولَ : هَلْ هُوَ مُنْصَرِفٌ ؟ وَيَكُونُ ذَلِكَ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُغْفِي قَلِيلًا فَأَقُولُ : هَذَا غَفِيَ أَمْ لَا ؟ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَدْعُو بِالسِّوَاكِ فَيَسْتَنُّ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاتَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ، پھر آپ مسجد میں چھ رکعات ادا کرتے تھے جو گھر واپس آنے سے پہلے ادا کرتے تھے ، آپ ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے ، اور تین وتر ادا کرتے تھے ، وتر کی پہلی دو رکعات کے بعد آپ تشہد میں بیٹھتے تھے ، پھر جب سلام پھیرنا ہوتا تھا ، تب بھی آپ تشہد میں بیٹھتے تھے ، آپ وتر میں معوذات کی تلاوت کرتے تھے ، جب آپ گھر تشریف لاتے تھے ، تو دو رکعات ادا کرتے تھے پھر سو جاتے تھے پھر جب بیدار ہوتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے عافیت میں نیند عطا کی اور عافیت میں بیدار کیا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر غور و فکر کرتے تھے ، پھر یہ پڑھتے تھے : ” اے ہمارے پروردگار ! تو نے اسے فضول میں پیدا نہیں کیا ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات تلاوت کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ پڑھتے تھے : ” بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے “ ۔ پھر آپ وضو کرتے تھے ، پھر کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کرتے تھے ، جن میں آپ طویل قرأت ، رکوع اور سجود کرتے تھے ، آپ ان رکعات میں بکثرت دعا کرتے تھے ، یہاں تک کہ میں سو جاتی تھی ، پھر بیدار ہو جاتی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کر کے لیٹ جاتے تھے ، اور سو جاتے تھے ، پھر آپ اٹھتے تھے ، پھر آپ اُسی طرح دعا پڑھا کرتے تھے ، جس طرح پہلی دفعہ میں پڑھتے تھے ، پھر آپ کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کرتے تھے ، جو پہلی والی دو رکعات سے زیادہ طویل ہوتی تھیں ، اور آپ ان میں زیادہ گریہ وزاری اور زیادہ استغفار کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچتی کہ کیا آپ اس نماز کو ختم کریں گے ؟ ایسا رات کے آخر تک ہوتا رہتا تھا ، پھر آپ نماز ختم کرتے تھے ، اور تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے تھے ، تو میں یہ سمجھتی کہ آپ سوئے بھی ہیں ، یا نہیں سوئے ؟ یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا تھا ، آپ پھر اُسی کی مانند کلمات پڑھتے تھے ، جو پہلی مرتبہ میں پڑھے تھے ، پھر آپ بیٹھ کے مسواک منگواتے تھے ، مسواک کرتے تھے ، وضو کرتے تھے ، پھر دو مختصر رکعت ادا کرتے تھے ( جو فجر کی دو سنتیں ہوتی تھیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں احادیث منقول ہیں ، جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اُس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3653
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3654
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَصَلَّيْتُ بِصَلَاتِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرْكَعُ ثُمَّ مَضَى ، قَالَ سِنَانُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا أَعْلَمْتَنِي ؟ " قَالَ حُذَيْفَةُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَأَجِدُهُ فِي ظَهْرِي حَتَّى السَّاعَةَ ! ؟ قَالَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ وَرَائِي لَخَفَّفْتُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : سِنَانُ بْنُ هَارُونَ أَخُو سَيْفٍ وَسِنَانُ أَحْسَنُهُمَا حَالًا ، وَقَالَ مَرَّةً : سِنَانُ أَوْثَقُ مِنْ سَيْفٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ ابْنِ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شروع کی ، آپ کو اس بات کا پتہ نہیں چلا ، آپ نے سورت بقرہ پڑھنا شروع کر دی ، میں نے یہ گمان کیا کہ آپ تھوڑی دیر بعد رکوع میں چلے جائیں گے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے ، یہاں سنان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : انہوں نے یہ بیان کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات ادا کیں ، اور آپ کا رکوع بھی ، قیام کی طرح ( طویل ) تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ، مجھے اس وقت بھی اپنی کمر میں ( اتنے طویل قیام کی وجہ سے درد کی کیفیت ) محسوس ہو رہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم میرے پیچھے کھڑے ہو ، تو میں مختصر نماز ادا کرتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون برجمی ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : سنان بن ہارون ، سیف کا بھائی ہے ، اور ان دونوں میں سے سنان زیادہ بہتر حالت کا مالک ہے ، ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: ہے : سنان ، سیف سے زیادہ ثقہ ہے ، یحیی بن معین کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3654
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3655
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعَا فَاسْتَقَى مَاءً فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقَرَأَهَا حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ رَكَعَ فَقَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي " ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَزِعًا فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَيَيْنِ فَقَرَأَ حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَيَضْطَجِعُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَأَمَّا أَبُو حَاتِمٍ فَرَضِيَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا ، وضو کیا ، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت کیں : ” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ انہیں سورت کے آخر تک تلاوت کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ پڑھنی شروع کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک ایک ، حرف کو پڑھا ، یہاں تک کہ وہ پوری سورت ختم کر دی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، پھر آپ نے سبحان ربی العظیم پڑھا ، پھر آپ سجدے میں گئے ، تو آپ نے سبحان ربی الاعلی پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا ، تو دو سجدوں کے درمیان یہ پڑھا : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے ، مجھ پر رحم کر ، مجھے رزق عطا فرما ، مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے دوسری رکعت میں سورت آل عمران کی تلاوت کی ، پھر آپ رکوع میں گئے اور سجدے میں گئے اور آپ نے ایسا ہی کیا ، جس طرح آپ نے پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر آپ لیٹ گئے پھر آپ اٹھے اور آپ نے ویسا ہی کیا ، جس طرح آپ نے پہلی دو رکعات میں کیا تھا ، آپ نے ایک ، ایک حرف کی تلاوت کی ، یہاں تک کہ آپ نے آٹھ رکعات ادا کر لیں ، آپ ہر دو رکعات کے بعد لیٹ جاتے تھے ، پھر آپ نے تین وتر ادا کیے ، پھر فجر کی دو رکعات ( یعنی سنتیں ) ادا کیں “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جہاں تک ابوحاتم کا تعلق ہے ، تو وہ اس سے راضی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3655
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما أسند عبد الله بن عباس رضى الله عنهما سعيد بن جبير، 12137»
حدیث نمبر: 3656
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرَةَ فَاسْتَصْغَرَهَا [ ثُمَّ ] قَالَ [ لِي ] : انْطَلِقْ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَائِتِ فَقُلْ : إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ أَسَنُّ مِنْهَا فَابْعَثْ بِهَا إِلَيْنَا ؟ [ فَأَتَيْتُ بِهَا ] فَقَالَ : " ابْنَ عَمِّي وَجِّهْهَا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ " ، فَوَجَّهْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ فَقَالَ : " مَا تُرِيدُ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَ خَالَتِكَ اللَّيْلَةَ قَدْ أَمْسَيْتَ ؟ " فَوَافَقْتُ لَيْلَتَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهَا فَعَشَّتْنِي وَوَطَّأَتْ لِي عَبَاءَةً بِأَرْبَعَةٍ فَافْتَرَشْتُهَا فَقُلْتُ : لَأَعْلَمَنَّ مَا يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّيْلَةَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا مَيْمُونَةُ ! " فَقَالَتْ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " مَا أَتَاكِ ابْنُ أُخْتِكِ ؟ " قَالَتْ : بَلَى ، هُوَ هَذَا ، قَالَ : " أَفَلَا عَشَّيْتِيهِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " قَالَتْ : قَدْ فَعَلْتُ ، قَالَ : " فَوَطَّأْتِ لَهُ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ فَمَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَضْطَجِعْ عَلَيْهِ وَاضْطَجَعَ حَوْلَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى الْفِرَاشِ فَمَكَثَ سَاعَةً فَسَمِعْتُهُ نَفَخَ فِي النَّوْمِ فَقُلْتُ : نَامَ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَيْقِظِ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ قَامَ حَيْثُ قُلْتُ : ذَهَبَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى سِوَاكًا لَهُ وَمَطْهَرَةً فَاسْتَاكَ حَتَّى سَمِعْتُ صَرِيرَ ثَنَايَاهُ تَحْتَ السِّوَاكِ ، [ وَهُوَ يَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ وَضَعَ السِّوَاكَ ] ثُمَّ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ فَخَشِيتُ أَنْ يَذَرَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِقْدَارَ خَمْسِينَ آيَةً يُطِيلُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَاضْطَجَعَ هَوْنًا فَنَفَخَ وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ : لَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ أَوْ قَدَرُ ذَلِكَ قَامَ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَنَفَخَ فَقُلْتُ : ذَهَبَ بِهِ النَّوْمُ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ قَامَ حِينَ بَقِيَ سُدُسُ اللَّيْلِ أَوْ أَقَلُّ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَافْتَتَحَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ قَرَأَ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَنَتَ فَرَكَعَ وَسَجَدَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَعَدَ حَتَّى إِذَا مَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَانِي فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " قُمْ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِنَائِمٍ " فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ سَالِمٍ الْخَفَّافُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ غَيْرُهُ : ضَعِيفٌ وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَلَكِنَّهُ دَفَنَ كُتُبَهُ فَلَا يَثْبُتُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کو ایک جوان اونٹنی تحفے میں دی ، میرے والد نے اسے کم عمر سمجھا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ ، تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں ، اگر آپ کے پاس اس سے زیادہ عمر والی کوئی اونٹنی ہو ، تو وہ ہمیں بھجوا دیں ، میں وہ اونٹنی لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میرے چچا کے بیٹے ! تم اسے صدقہ کے اونٹوں کی طرف لے جاؤ ، میں اسے وہاں لے گیا پھر میں مسجد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی ، آپ نے فرمایا : کیا تم آج رات اپنی خالہ کے ہاں نہیں ٹھہرو گے ؟ کیونکہ شام ہو چکی ہے ، تو اس رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہرنے کے لئے تیار ہو گیا ، میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر آیا ، انہوں نے مجھے کھانا دیا اور میرے لئے ایک عبا بچھا دی ، میں نے سوچا میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کس طرح عمل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میمونہ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارا بھانجا تمہارے پاس آ گیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! وہ یہاں موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارے پاس کچھ تھا ، تو تم نے اسے کھانے کے لئے دے دینا تھا ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں نے ایسا کر لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کچھ بچھایا ہے ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچھونے سے ایک طرف ہو کر لیٹ گئے ، آپ اس پر نہیں لیٹے ، آپ اس کے ارد گرد لیٹ گئے ، اور آپ نے اپنا سر بچھونے پر رکھ دیا کچھ دیر گزری ، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نیند کے دوران خراٹے لینے لگے ، میں نے یہ سوچا کہ اب آپ سو گئے ہیں ، اور رات کو نوافل ادا نہیں کریں گے ، پھر میرے اندازے کے مطابق جب رات کا ایک چوتھائی حصہ ، یا ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، اس وقت آپ اُٹھے آپ اپنی مسواک اور وضو کے پانی کے پاس تشریف لائے ، آپ نے مسواک کرنا شروع کی ، یہاں تک کہ مسواک کے نیچے میں نے آپ کے دانتوں کی حرکت کو سنا ، آپ یہ آیات تلاوت کر رہے تھے : ” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
پھر آپ نے مسواک رکھی اور اُٹھ کر مشکیزے کی طرف گئے اور آپ نے اسے کھولا ، پہلے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اُٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرواتا ہوں ، لیکن پھر مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمل میں سے کسی چیز کو ( میری وجہ سے ) ترک نہ کر دیں ، جب آپ نے وضو کر لیا ، تو آپ نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، آپ نے ہر رکعت میں تقریبا پچاس آیات کی تلاوت کی ، آپ نے ان آیات میں طویل ، رکوع اور سجود کیا ، پھر آپ اپنی جگہ پر آ گئے ، جہاں آپ پہلے موجود تھے ، اور وہاں آپ آرام سے لیٹ گئے اور سونے کے دوران خراٹے لینے لگے ، میں نے سوچا کہ اب آپ رات کے وقت نوافل ادا نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ صبح ہو جائے گی ، جب ایک تہائی رات ، یا اس کا نصف ، یا اُس کے آس پاس کا حصہ گزر گیا ، تو پھر آپ نے ایسا ہی کیا ، آپ اپنی نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، جو اُسی طرح تھیں پھر اپنی لیٹنے کی جگہ پر آئے اور وہاں سو گئے اور خراٹے لینے لگے ، میں نے سوچا اب آپ کو نیند آ گئی ہے ، اب آپ صبح ہونے تک نہیں اٹھیں گے ، لیکن جب رات کا چھٹا حصہ ، یا اس سے کچھ کم حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھے آپ نے وضو کیا ، آپ نے مسواک کی ، پھر سورت فاتحہ پڑھی ، پھر سورت الاعلیٰ کی تلاوت کی پھر رکوع میں گئے ، سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، سورت فاتحہ پڑھی ، پھر آپ نے سورت الکافرون پڑھی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور سورت اخلاص پڑھی ، پھر آپ نے دعائے قنوت پڑھی ، پھر آپ نے رکوع کیا ، اور پھر آپ سجدے میں چلے گئے ( یعنی آپ نے وتر ادا کیے ) جب آپ فارغ ہوئے ، تو آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے مجھے پکارا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! اللہ کی قسم ! تم نہیں سوؤ گے ، میں اُٹھا میں نے وضو کیا ، اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی ، آپ نے سورت فاتحہ اور سورت اخلاص کی تلاوت کی پھر آپ رکوع میں چلے گئے اور سجدے میں گئے ، پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے ، تو آپ نے سورت فاتحہ اور سورت الکافرون کی تلاوت کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سالم خفاف ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ ضعیف ہے ، یہ ایک نیک شخص تھا ، لیکن اس کی کتابیں دفن ہو گئیں تھیں ، تو اس کی نقل کردہ حدیث ” ثبت “ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3656
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3657
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَاهُ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ قَالَ : فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُكَلِّمَهُ فَلَمَّا صَلَّى الْمَغْرِبَ قَامَ يَرْكَعُ حَتَّى انْصَرَفَ مَنْ بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَتَبِعْتُهُ ، فَلَمَّا سَمِعَ حِسِّي قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : " ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ ؟ " قُلْتُ : ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ : " مَرْحَبًا بِابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کام کے سلسلے میں بھیجا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا پایا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکا ، جب آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی ، تو آپ اُٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل ادا کرنے شروع کیے ، یہاں تک کہ مسجد میں موجود لوگ واپس چلے گئے ، آپ بھی اپنے گھر چلے گئے ، میں آپ کے پیچھے آیا ، جب آپ نے میری آہٹ محسوس کی ، تو دریافت کیا : کون ہے ؟ تو میں نے عرض کی : ابن عباس ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کا چچا زاد ؟ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کا چچا زاد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے رسول کے چچا زاد کو خوش آمدید ہے !
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ، جو ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3658
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحْيِي اللَّيْلَ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ رُكُوعُهُنَّ وَسُجُودُهُنَّ كَقِرَاءَتِهِنَّ وَيُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ وَقَدِ اتَّهَمَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت آٹھ رکعات ادا کرتے تھے ، جن کے رکوع اور سجدے ، اُن کی قرأت جتنے ( طویل ) ہوتے تھے ، آپ ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن ابومروان ہے ، جس پر ابوحاتم نے تہمت عائد کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3658
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3659
وَعَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَنَافِعٌ : ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع بن خالد خزاعی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ایسی جگہ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے ، جہاں لوگ دیکھ رہے ہوتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجود مکمل کرتے تھے ، لیکن مختصر نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ نافع نامی راوی کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني، باب الخاء، باب من اسمه خزيمة خالد أبو نافع الخزاعي 4004 الآحاد والمثانى لابن أبى عاصم خالد الخزاعي رضي الله عنه، 2060»
حدیث نمبر: 3660
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَاضْطِجَاعُهُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، فِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے مالک کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعات ادا کی تھیں ، اور دائیں پہلو کے بل لیٹ گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، کچھ رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3661
وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ غَزِيَّةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنَّهُ قَدْ تَهَجَّدَ ، إِنَّمَا التَّهَجُّدُ : الْمَرْءُ يُصَلِّي الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ ثُمَّ الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حجاج بن غزیہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ فرماتے ہیں : تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جب کوئی شخص رات کو نوافل ادا کرتا رہے ، اور صبح ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتا ہے ، تو اُس نے تہجد ادا کر لی ، حالانکہ تہجد ادا کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے ، جو کچھ دیر سونے کے بعد نماز ادا کرے ، پھر کچھ دیر سونے کے بعد نماز ادا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ یہ صحیح سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3662
وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْمَازِنِيِّ قَالَ : أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنْ قَدْ تَهَجَّدَ ، إِنَّمَا التَّهَجُّدُ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ رَقْدَةٍ ثُمَّ الصَّلَاةِ بَعْدَ رَقْدَةٍ ، وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ وَفِي بَعْضِهَا : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَهَجَّدُ بَعْدَ نَوْمِهِ وَكَانَ يَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ يَتَهَجَّدَ وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْثِ ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، ابْنُ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حجاج بن عمرو مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو شخص صبح ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتا رہے اس نے تہجد ادا کر لی ، حالانکہ تہجد یہ ہوتی ہے کہ سونے کے بعد نماز ادا کی جائے ، پھر سونے کے بعد نماز ادا کی جائے ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بعد ( بیدار ہو کر ) تہجد ادا کرتے تھے ، اور آپ تہجد سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔ اس روایت کا مدار عبداللہ بن صالح پر ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اس کے بارے میں عبدالملک بن شعیب بن لیث نے یہ کہا: ہے : یہ ثقہ اور مامون ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف