کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: رات اور دن کی ( نفل ) نماز دو ، دو کر کے ادا کی جائے گی
حدیث نمبر: 3588
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً " قُلْتُ : أَوْجَبُهُ ؟ قَالَ : " لَا أَجْوَبُهُ " يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِهِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْجَبُهُ دَعْوَةً " فَقُلْتُ : أَجْوَبُهُ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنْ أَوْجَبُهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رات کی نماز دو ، دو کر کے ادا کی جائے گی ، اور رات کے آخری نصف حصے میں ، ( دعا یا عبادت ) زیادہ قبول ہوتی ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : لفظ ” اجوب “ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ ( دعا یا عبادت ) قبول ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ، انہوں نے اسے اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” رات کا آخری نصف حصہ ، دعا کی قبولیت کے لئے زیادہ موزوں ہے “ ۔ میں نے دریافت کیا : لفظ ” اجوب “ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ لفظ ” اوجب“ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ، انہوں نے اسے اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” رات کا آخری نصف حصہ ، دعا کی قبولیت کے لئے زیادہ موزوں ہے “ ۔ میں نے دریافت کیا : لفظ ” اجوب “ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ لفظ ” اوجب“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3589
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْتِرْ قَبْلَ أَنْ تَنَامَ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : سونے سے پہلے وتر ادا کر لینا ، اور رات کی ( نفل ) نماز دو ، دو کر کے ادا کی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3590
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” رات کی نماز دو ، دو کر کے ادا کی جاتی ہے ، اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 3591
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي بِالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَفِيهِ : الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن کی ( نفل ) نماز دو ، دو کر کے ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن ہلال ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن ہلال ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔