کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مختصر عمل کرنا ، لیکن باقاعدگی سے کرنا
حدیث نمبر: 3560
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ مَوْلَاةٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَالشِّرَّةُ إِلَى فَتْرَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز تھی ، جو دن کے وقت روزہ رکھا کرتی تھی ، اور رات کے وقت نوافل پڑھا کرتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : وہ دن کے وقت روزہ رکھتی ہے ، اور رات کو نفل پڑھتی رہتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر عمل میں ایک اہتمام ہوتا ہے ( یعنی آدمی اس کے لیے چاق و چوبند ہوتا ہے ، ) اور ہر اہتمام میں فرق ( یعنی کزوری یا کاہلی کا پہلو ) آ جاتا ہے ، تو جس شخص کا فرق ، میری سنت کی طرف ہو گا ، وہ ہدایت حاصل کر لے گا ، اور جس شخص کا فرق اس کے علاوہ ہو گا ، وہ گمراہ ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3561
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالی تھکتا نہیں ہے ، بلکہ تم تھک جاتے ہو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3561
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3562
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ قَالَا : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُهُ كَدَوِيِّ النَّحْلِ [ مِنْ ] قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فَقَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ لِيَتَّسِعُ ثُمَّ تَكُونُ فَتْرَةً فَمَنْ كَانَتْ لَهُ فَتْرَةٌ إِلَى غُلُوٍّ وَبِدْعَةٍ فَأُولَئِكَ أَهْلُ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام کشادہ ہو جاتا ہے ، پھر اس میں ضعف آ جاتا ہے ، تو جس شخص کا ضعف ، غلو اور بدعت کی طرف ہو گا ، تو وہ لوگ اہل جہنم میں سے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3562
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3563
وَعَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلًى لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يُصَلِّي وَلَا يَنَامُ وَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ : " أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ، لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ تَكُنْ فَتْرَتُهُ إِلَى السُّنَّةِ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ تَكُنْ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنوعبدالمطلب کے غلام کا ذکر کیا گیا ، جو نماز پڑھتا رہتا تھا اور سوتا نہیں تھا ، ( نفلی ) روزے رکھتا رہتا تھا ، اور کوئی روزہ ترک نہیں کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ( نفلی ) نماز ادا کرتا بھی ہوں ، اور سو بھی جاتا ہوں ، میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ، اور ترک بھی کر دیتا ہوں ، ہر عمل کے لیے نشاط ( یعنی چاق و چوبند ہونے کا پہلو ) ہوتا ہے ، اور ہر چاق و چوبند ہونے میں ضعف ( اور تھکاوٹ کا پہلو ) آ جاتا ہے ، تو جس شخص کا ضعف ( یعنی عمل ترک کر دینے کا پہلو ) سنت کی طرف ہو گا ، وہ ہدایت حاصل کر لے گا ، اور جس کا اُس ( سنت ) کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو گا ، وہ گمراہ ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3564
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُذُوا مِنَ الْعِبَادَةِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْأَمُ حَتَّى تَسْأَمُوا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اتنی ( نفلی ) عبادت اختیار کرو ! جس کی تم طاقت رکھتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا ہے بلکہ تم تھک جاتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3564
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3565
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ بِمَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر اتنا عمل کرنا لازم ہے ، جس کی تم طاقت رکھتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا ہے ، اور تم تھک جاتے ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله من اسمه عفيف ابو المليح بن اسامة الهذلي ، 15382»
حدیث نمبر: 3566
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ النَّفْسَ مَلُولَةٌ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي قَدْرَ الْمُدَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ مِنَ الْعِبَادَةِ مَا يُطِيقُ ثُمَّ لِيُدَاوِمْ عَلَيْهِ فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنَّ قَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک نفس ملول ہو جاتا ہے ، اور تم میں سے کوئی ایک بھی مدت کے بارے میں نہیں جانتا ( کہ اُسے کتنی زندگی نصیب ہوتی ہے ؟ ) تو آدمی کو عبادت کے حوالے سے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے جس کی وہ طاقت رکھ سکتا ہو ، پھر اُسے باقاعدگی سے کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے ، جسے باقاعدگی سے کیا جائے ، اگر وہ تھوڑا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جارود بن یزید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3566
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3567
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَصَلَّيْتُ بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا جَلَسَ خَفَّفَ فِي قِيَامِهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَيُسْمِعُنِي السَّلَامَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : " اكْلَفِي مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقِينَ " يَقُولُهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ، میں آپ کے پیچھے کھڑی ہو گئی ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ، تو آپ نے مختصر قیام کیا ، پھر آپ نے دو مختصر رکعت ادا کیں ، پھر آپ نے سلام پھیر دیا ، پھر آپ کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے دو رکعات ادا کیں ، پھر آپ نے سلام پھیر دیا ، آپ نے سلام کی آواز مجھ تک پہنچائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ” اتنے عمل کا خود کو پابند کرو ، جس کی تم طاقت رکھتی ہو “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3567
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3568
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا فَقَالَ : " تِلْكَ ضَرُورَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ فَنِعْمَ مَا هُوَ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَقَدْ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ فَذَهَبَ التَّدْلِيسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا ، جو بہت اہتمام کے ساتھ عبادت کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اسلام کی ضرورت اور اس کے لیے نشاط ( یعنی چاق و چوبند ہونا ) ہے ، اور ہر نشاط میں کسلمندی آ جاتی ہے ، تو جس شخص کا ( کسلمندی کی وجہ سے عمل کو ) ترک کرنا ، میانہ روی کی طرف ہو گا ، تو یہ اچھی چیز ہو گی ، اور جس شخص کا ( کسلمندی کی وجہ سے عمل کو ) ترک کرنا گناہ کی طرف ہو گا ، تو یہی لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، ابن اسحاق نے یہ بات بیان کی ہے : ابوزبیر نے مجھے حدیث بیان کی ، تو اس طرح تدلیس ختم ہو جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3569
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا كَحِيلَةُ مُتَبَذِّلَةٌ ؟ أَلَيْسَ عُثْمَانُ شَاهِدًا ؟ " قَالَتْ : بَلَى وَمَا اضْطَجَعَ عَلَى فِرَاشٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا وَيَصُومُ النَّهَارَ فَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ : " مُرِيهِ أَنْ يَأْتِيَنِي " فَلَمَّا جَاءَ قَالَتْ لَهُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَبَكَى ثُمَّ قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَكَ عَنِّي أَمْرٌ ! قَالَ : " أَنْتَ الَّذِي تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَقَعُ جَنْبُكَ عَلَى فِرَاشٍ ؟ " قَالَ عُثْمَانُ : قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِعَيْنِكَ حَظٌّ وَلِجَسَدِكَ حَظٌّ ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَائْتِ زَوْجَكَ فَإِنِّي أَنَا أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنَامُ وَأُصَلِّي وَآتِي النِّسَاءَ فَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى ، وَمَنْ تَرَكَهَا ضَلَّ ، وَإِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْغَفْلَةِ فَهِيَ الْهَلَكَةُ وَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْفَرِيضَةِ فَلَا يَضُرُّ صَاحِبَهَا شَيْئًا ، فَخُذْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُ فَإِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ فَلَا تُثْقِلْ عَلَيْكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ لَا تَدْرِي مَا طُولُ عُمُرِكَ ؟ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تُشْبِهُ هَذَا فِي النِّكَاحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے گھر سے باہر نکلے اور دروازے پر ٹھہر گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے کہیلہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تمہاری حالت اتنی خراب کیوں ہے ؟ کیا عثمان گھر میں موجود نہیں ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! وہ اتنے ، اتنے عرصے سے کبھی بستر پر لیٹے نہیں ہیں ( یعنی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں ) ، وہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں ، کوئی روزہ ترک نہیں کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے کہنا کہ وہ میرے پاس آئے ، جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ( گھر ) آئے ، تو اس خاتون نے انہیں بتایا ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یاد کیا ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے منہ پھیر لیا ، وہ رونے لگے اور پھر انہوں نے کہا: مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ میرے بارے میں کوئی بات آپ تک پہنچی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ، جو دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو ؟ اور رات بھر اپنا پہلو بستر پر نہیں رکھتے ہو ؟ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے بھلائی کے حصول کے لئے ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ، تمہارے جسم کا بھی حصہ ہے ، تمہاری بیوی کا بھی حصہ ہے ، تم ( نفلی ) روزہ رکھا بھی کرو اور ترک بھی کر دیا کرو ، سو بھی جایا کرو اور نقل بھی پڑھ لیا کرو ، اپنی بیوی کے پاس بھی جایا کرو ، میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ، اور ترک بھی کر دیتا ہوں ، سوتا بھی ہوں ، اور ( نفل ) نماز بھی پڑھ لیتا ہوں ، اور خواتین کے ساتھ بھی رہتا ہوں ، جو شخص میری سنت کو اختیار کرے گا ، وہ ہدایت حاصل کر لے گا ، اور جو شخص اُسے ترک کرے گا ، وہ گمراہ ہو جائے گا ، ہر عمل میں ایک چستی ہوتی ہے اور ہر چستی میں سستی آ جاتی ہے ، تو جس شخص کی سستی غفلت کی طرف ہو گی ، تو یہ ہلاکت ہو گی ، اور جب سستی فرض کی طرف ہو گی ، تو پھر ایسا کرنے والے کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، تم اتنا عمل کرو ، جتنی تم طاقت رکھتے ہو ، کیونکہ مجھے بالکل سیدھے اور آسان راستے کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ، تم اپنے اوپر ، اپنے پروردگار کی عبادت کا بوجھ نہ لادو ، کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ تمہاری عمر کتنی طویل ہو گی ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، میں یہ کہتا ہوں : کچھ احادیث ، جو اس روایت سے مشابہہ ہیں ، وہ نکاح سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3570
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تُغَالَبُوا هَذَا اللَّيْلَ فَإِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوهُ فَإِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْصَرِفْ إِلَى فِرَاشِهِ فَإِنَّهُ أَسْلَمُ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ اس رات پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو ( یعنی رات بھر عبادت نہ کرتے رہو ) کیونکہ تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ہو ، جب کسی شخص کو اونگھ آ جائے ، تو وہ اپنے بستر کی طرف چلا جائے ، یہ اس کے لئے زیادہ سلامتی کا باعث ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3571
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ نَجْلِسُ بَعْدَهُ فَيَتَثَبَّتُ النَّاسُ فِي الْقِرَاءَةِ فَإِذَا قُمْنَا صَلَّيْنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ : أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمِّلُهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ؟ تُصَلُّونَ فَيَرَوْنَ ذَلِكَ وَاجِبًا عَلَيْهِمْ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي بُيُوتِكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اُٹھ جانے کے بعد ہم لوگ اُن کے بعد بھی بیٹھے رہتے تھے ، کچھ لوگ قرأت کرنے میں مشغول رہتے تھے ، پھر جب ہم اٹھتے تھے ، تو نفل پڑھنے لگ پڑتے تھے ، انہیں جب اس بارے میں اطلاع ملی ، تو جب ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ لاد رہے ہو ؟ جو اللہ تعالی نے اُن پر لاگو نہیں کیا ہے ، تم رضی اللہ عنہ لوگ یوں ( نفل ) نماز ادا کرتے ہو کہ یہ سمجھتے ہو کہ یہ تم پر لازم ہے اگر تم لوگوں نے ایسا ضرور ہی کرنا ہے ، تو تم لوگ اپنے گھروں میں کیا کرو ( یعنی تم لوگ اپنے گھروں میں نوافل پڑھا کرو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3572
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ : أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ لَهُمْ مِنْهُمْ : إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ : بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ لَتُبَيِّنَنَّهُ قُمْ يَا فُلَانُ - رَجُلٌ مِنْهُمْ - فَأَخْبِرْهُ قَالَ : فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ ، فَادْعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ : لَقَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلِمَ تُبْغِضُهُ ؟ " قَالَ : أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي فَرَّطْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ : فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ ! " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَدْ تَقَدَّمَ وَلَكِنْ هَاهُنَا أَحْسَنُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا مُظَفَّرَ بْنَ مُدْرِكٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ، اُس نے ان لوگوں کو سلام کیا ان لوگوں نے اسے سلام کا جواب دیا ، جب وہ ان لوگوں سے آگے گزر گیا ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، اہل محفل نے کہا: اللہ کی قسم ! تم نے بری بات کہی ہے ، تم نے یہ بات اُسے بیان کرنی تھی ، اے فلاں ! تم اٹھو ، انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص سے یہ کہا: ، اور اُسے اس بارے میں بتاؤ ، اُن لوگوں کا قاصد اس دوسرے شخص کے پاس گیا ، اور اسے پہلے شخص کے قول کے بارے میں بتایا ، تو وہ شخص وہاں سے مڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں لوگوں کے پاس سے گزرا ، جس میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا ، ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا ، جب میں ان لوگوں سے آگے گزر گیا ، ، تو اُن میں سے ایک شخص میرے پاس آیا ، اور اس نے مجھے یہ بات بتائی کہ فلاں شخص نے یہ کہا: ہے : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اس شخص سے بغض رکھتا ہوں ، یا رسول اللہ ! آپ اُسے بلائیے ! اور اُس سے دریافت کیجئے کہ وہ کس وجہ سے مجھ سے بغض رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ، جو دوسرے شخص نے آپ کو بتائی تھی تو اس شخص نے اس کا اعتراف کر لیا اور یہ کہا: یا رسول اللہ ! میں نے یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس سے کیوں بغض رکھتے ہو ؟ اُس شخص نے کہا: میں اس کا پڑوسی ہوں ، اور اس کی خبر گیری کرتا رہتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی کوئی ( نفل ) نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ شخص صرف وہ فرض نماز ادا کرتا ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار ادا کر لیتا ہے ، تو دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھیئے کہ اس نے کبھی مجھے دیکھا کہ میں نے نماز کو اس کے وقت سے تاخیر سے ادا کیا ہو ؟ یا میں نے رکوع یا سجدہ صیح طریقے سے نہ کیا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا ، تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر اُس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی ( نفلی ) روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ صرف اُس مہینے کے روزے رکھتا ہے ، جس کے روزے ہر نیک اور گنہگار رکھتا ہے ، تو دوسرے شخص نے کہا: آپ اس سے پوچھیئے کہ کیا اس نے مجھے اس روزے کے بارے میں کبھی افراط کرتے ہوئے ، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا ، تو اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی مانگنے والے کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا ، اور نہ ہی کبھی اسے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے مال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کی ہو ، البتہ یہ وہ زکوۃ ادا کرتا ہے ، جو ہر نیک اور گنہگار ادا کرتا ہے ، تو دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھیئے کہ کیا میں نے کبھی زکوۃ میں سے کوئی چیز روکی ہے ؟ یا میں نے کبھی زکوۃ وصول کرنے والے سے جھگڑا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس شخص سے دریافت کیا : تو اس نے کہا: جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُٹھ جاؤ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ( جسے تم ناپسند کرتے ہو ) شاید تم سے بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ،
یہ روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے ، لیکن یہاں زیادہ بہتر طور پر ذکر ہوئی ہے ، اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، مظفر بن مدرک کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ” ثقہ “ اور ثبت ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3573
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ أَكْسَفُ أَحْوَلُ أَوْقَصُ أَحْنَفُ أَفْحَمُ أَعْسَرُ أَرْسَحُ أَفْحَجُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ ؟ فَلَمَّا أَخْبَرَهُ قَالَ : إِنِّي أُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا أَزِيدَ عَلَى فَرِيضَةٍ قَالَ : " لِمَ ؟ " قَالَ : لِأَنَّهُ خَلَقَنِي أَكَسَفَ أَحْوَلَ أَفْحَمَ أَعْسَرَ أَرْسَحَ أَفْحَجَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَيْنَ الْعَاتِبُ عَلَى رَبِّهِ ، عَاتَبَ رَبًّا كَرِيمًا فَاعْتِبْهُ قَالَ : قُلْ لَهُ : أَلَا تَرْضَى أَنْ تُبْعَثَ فِي صُورَةِ جِبْرِيلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ : " إِنَّكَ عَاتَبْتَ رَبًّا كَرِيمًا فَأَعْتَبَكَ أَفَلَا تَرْضَى أَنْ يَبْعَثَكَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى صُورَةِ جِبْرِيلَ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! قَالَ : فَإِنِّي أُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا يَقْوَى جَسَدِي عَلَى شَيْءٍ يَرْضَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا حَمَلْتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَبِيرٍ اللَّيْثِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جو برے حال میں تھا ، بھینگا تھا ، اس کی گردن چھوٹی تھی ، لنگڑا تھا ، کالا تھا ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا تھا ، اس کے کندھوں پر گوشت کم تھا ، اس کے زانوں کے درمیان کی جگہ کشادہ تھی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا چیز فرض قرار دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا ، تو اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کو باقاعدگی سے کروں گا ، اور فرض میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے برے حال والا ، بھینگا ، کالا ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا ، کندھوں پر تھوڑے گوشت والا ، زانوں کے درمیان کشادہ جگہ والا پیدا کیا ہے ، پھر وہ شخص چلا گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے پروردگار سے ناراضگی کا اظہار کرنے والا شخص کہاں ہے ، اس نے کریم پروردگار پر ناراضگی کا اظہار کیا تو پروردگار نے اُس پر ناراضگی کا اظہار کیا ، سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ اس سے کہہ دیں کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن تمہیں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی صورت میں زندہ کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو پیغام بھیجا اور فرمایا : تم نے کریم پروردگار پر ناراضگی کا اظہار کیا ، تو اُس نے تم پر ناراضگی کا اظہار کیا ، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ، کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں جبرائیل کی شکل و صورت میں زندہ کرے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! یا رسول اللہ ! پھر اُس نے کہا: اب میں اللہ تعالیٰ کے نام پر یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا جسم جو بھی ایسا عمل کرنے کی قوت رکھتا ہو ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہو ، تو میں وہ کام کروں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3573
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً