کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گھروں میں نوافل ادا کرنا
حدیث نمبر: 3494
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنے گھروں میں نماز ادا کرو ! اور انہیں قبرستان نہ بناؤ “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3495
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اپنے گھروں میں نماز ادا کرو ، تم انہیں اپنے لئے قبرستان نہ بناؤ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3496
وَعَنْ صُهَيْبِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ عَلَى صَلَاتِهِ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ كَفَضْلِ الْمَكْتُوبَةِ عَلَى النَّافِلَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی کے اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کو ، اُس کے ایسی جگہ نماز ادا کرنے ، جہاں اُسے لوگ دیکھ رہے ہوں ، پر اس طرح فضیلت حاصل ہے ، جو فرض نماز کو نفل نماز پر حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب قرقسانی ہے ، اسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3497
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ، وَلَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَسَلَامَكُمْ تَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے گھروں میں ( نفل ) نماز ادا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ اور میرے گھر کو عید نہ بنانا مجھ پر درود اور سلام بھیجنا تمہارا درود اور تمہار اسلام مجھ تک پہنچے گا ، خواہ تم جہاں کہیں بھی ہو“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3497
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف