حدیث نمبر: 3498
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " مَنْ آذَى وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ الْفَرَائِضِ ، وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، إِنَّ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةَ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ وَضَعَّفَهُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ عَيْنَهُ الَّتِي يُبْصِرُ بِهَا وَأُذُنَهُ الَّتِي يَسْمَعُ بِهَا وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَهُ هَارُونَ بْنَ كَامِلٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤ قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الزُّهْدِ فِي بَابِ مَنْ آذَى وَلِيًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے ، وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال کر لیتا ہے ، اور میرا بندہ فرائض جیسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا ، اور بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے ، تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے ، تو میں اسے قبول کرتا ہوں ، اور مجھے کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا تردد بندے کی وفات سے ہوتا ہے ، کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے ، اور میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو اسے بری لگتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوحد بن قیس بن عروہ ہے ، جسے ابوزرعہ ، عجلی اور دو روایات میں سے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ، اور اس کے کان بن جاتا ہوں ، جن کے ذریعے وہ سنتا ہے ، اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ، اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے “ ۔
باقی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان ( یعنی امام طبرانی ) کے استاد ہارون بن کامل کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس روایت کے بقیہ طرق ، زہد سے متعلق کتاب میں ، باب : جو شخص ولی کو اذیت پہنچائے ، میں آئیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوحد بن قیس بن عروہ ہے ، جسے ابوزرعہ ، عجلی اور دو روایات میں سے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ، اور اس کے کان بن جاتا ہوں ، جن کے ذریعے وہ سنتا ہے ، اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ، اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے “ ۔
باقی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان ( یعنی امام طبرانی ) کے استاد ہارون بن کامل کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس روایت کے بقیہ طرق ، زہد سے متعلق کتاب میں ، باب : جو شخص ولی کو اذیت پہنچائے ، میں آئیں گے ۔
حدیث نمبر: 3499
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَأَكُونُ أَنَا سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ ، فَإِذَا دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَإِذَا سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِذَا اسْتَنْصَرَنِي نَصْرَتُهُ وَأَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي عَبْدِي بِهِ النُّصْحُ لِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت رکھنے لگتا ہوں ، اور میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ سنتا ہے ، اس کی بصارت بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ گفتگو کرتا ہے ، اس کا دل بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ، جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے ، تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ، جب وہ مجھے سے کچھ مانگتا ہے ، تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، جب وہ مجھ سے مدد مانگتا ہے ، تو میں اس کی مدد کرتا ہوں ، اور میرا بندہ جس چیز کے ذریعے میری عبادت کرتا ہے ، اس میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ، میرے لیے ( اعتقاد کا ) خالص ہونا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3500
وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْعَدَاوَةِ ، ابْنَ آدَمَ لَنْ تُدْرِكَ مَا عِنْدِي إِلَّا بِأَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْكَ وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَحَبَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . ¤ وَفِي الطَّرِيقَيْنِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے ، ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے ولی کی توہین کرتا ہے ، وہ میرے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتا ہے ، اے ابن آدم ! میرے پاس جو موجود ہے ، تم اس تک صرف اس چیز کو ادا کرنے کے ذریعے پہنچ سکتے ہو ، جو میں نے تم پر فرض قرار دی ہے ، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میری محبت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں“ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : دونوں روایات کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3501
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي الشِّتَاءِ وَالْوَرَقِ يَتَهَاتَفُ فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ : فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لِيُصَلِّيَ الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا تَهَافَتَ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذَا الشَّجَرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے موسم میں تشریف لائے ، پتے گر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی شاخ پکڑی تو اس کے پتے گرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان بندہ جب نماز ادا کرتا ہے ، اور اس نماز کے ذریعے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ، تو اس بندے کے گناہ یوں گرتے ہیں ، جس طرح اس درخت سے یہ پتے گر رہے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3502
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي وَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَلَا يَقْعُدُ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وِتْرٍ فَقَالُوا : أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولُ لَهُ ؟ قَالَ : فَقُمْتُ فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا أَرَاكَ تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً " فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ : جَزَاكُمُ اللَّهُ مِنْ جُلَسَاءِ شَرٍّ أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں : میں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے نماز ادا کرنا شروع کی ، وہ رکوع اور سجدے کر رہا تھا ، لیکن قعدہ نہیں کر رہا تھا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے اس شخص کی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ جفت تعداد کے بعد نماز ختم کرے گا ؟ یا طاق تعداد کے بعد کرے گا ؟ اُن لوگوں نے کہا: تم اُٹھ کے اُس کے پاس جا کر ، اُس سے یہ بات کہ دو ! مطرف کہتے ہیں : میں اُٹھا میں نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہارے بارے میں مجھے یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ تم جفت رکعت کے بعد نماز ختم کرو گے ؟ یا طاق رکعت کے بعد کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : لیکن اللہ تعالیٰ کو تو یہ بات پتہ ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے ، اللہ تعالٰی اس سجدے کی وجہ سے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرتا ہے ، اور اس سجدے کی وجہ سے اس کے ایک گناہ کو ختم کر دیتا ہے ، اور اس سجدے کی وجہ سے اس کے ایک درجے کو بلند کرتا ہے “ ۔ مطرف کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ابوذر میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا ، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا بدلہ دے کہ جو برے ساتھیوں کو دیا جاتا ہے ، تم لوگوں نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو تعلیم دوں ؟ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے ان کو دیکھا کہ وہ طویل قیام کر رہے تھے ، اور بکثرت رکوع و سجود کر رہے تھے میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے اچھے طریقے سے نماز ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایک مرتبہ رکوع کرتا ہے ، یا ایک مرتبہ سجدہ کرتا ہے ، تو اس کے ذریعے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے ، اور اس کے ذریعے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند روایات مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان میں سے بعض کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند روایات مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان میں سے بعض کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3503
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ : " أَلَكَ حَاجَةٌ ؟ " قَالَ : حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي قَالَ : " وَمَا حَاجَتُكَ ؟ " قَالَ : حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ! قَالَ : " وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا ؟ " قَالَ : رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زیاد بن ابوزیاد ، جو زیاد ، بنو مخزوم کے غلام ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ خادم کوئی مرد تھا ، یا خاتون تھیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خادم سے یہ دریافت کرتے تھے : کہ کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ یہاں تک کہ ایک دن اس خادم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے ایک کام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ، اس خادم نے عرض کی : مجھے یہ ضرورت ہے کہ آپ قیامت کے دن میری شفاعت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری رہنمائی کس نے کی ہے ؟ خادم نے جواب دیا : میرے پروردگار نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، لیکن تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3504
وَعَنْ أَبِي فَاطِمَةَ قَالَ : قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا فَاطِمَةَ إِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَلْقَانِي فَأَكْثِرِ السُّجُودَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوفاطمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوفاطمہ ! اگر تم مجھ سے ( آخرت میں ) ملنا چاہتے ہو ، تو بکثرت سجدے کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3505
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّلَاةُ خَيْرُ مَوْضُوعٍ فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَسْتَكْثِرَ فَلْيَسْتَكْثِرْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز بہترین چیز ہے ، جو شخص اس کو بکثرت ادا کر سکتا ہو اسے بکثرت ادا کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبد المنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبد المنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3506
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَبْرٍ فَقَالَ : " مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ ؟ " فَقَالُوا : فُلَانٌ فَقَالَ : " رَكْعَتَانِ أَحَبُّ إِلَى هَذَا مِنْ بَقِيَّةِ دُنْيَاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قبر والا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : فلاں شخص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے نزدیک دو رکعات ادا کرنا ، تمہاری پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3507
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ شَابٌّ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَخِفُّ فِي حَوَائِجِهِ فَقَالَ : " سَلْنِي حَاجَتَكَ " فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى لِي بِالْجَنَّةِ قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَتَنَفَّسَ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنْ أَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا اور اپنی ضروریات پوشیدہ رکھتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : مجھ سے اپنی کسی ضرورت کو مانگ لو ! اس نے عرض کی : آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا کر دیں ، راوی کہتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا سانس لی ، اور پھر ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ، لیکن تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ تیمی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ تیمی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3508
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَارِي فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَوَيْتُ إِلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِتُّ عِنْدَهُ فَلَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ رَبِّي " حَتَّى أَمَلَّ أَوْ تَغْلِبَنِي عَيْنِي فَأَنَامَ فَقَالَ يَوْمًا : " يَا رَبِيعَةُ سَلْنِي فَأُعْطِيَكَ " فَقُلْتُ : أَنْظِرْنِي حَتَّى أَنْظُرَ ، وَتَذَكَّرْتُ أَنَّ الدُّنْيَا فَانِيَةٌ مُنْقَطِعَةٌ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّيَنِي مِنَ النَّارِ وَيُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ " قَالَ : قُلْتُ : مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ وَلَكِنِّي عَلِمْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ فَانِيَةٌ وَأَنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَنْتَ مِنْهُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ قَالَ : " إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دن کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، رات کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس آ جاتا ، اور وہاں رات گزار دیتا تھا ، میں آپ کو ”« سبحان الله سبحان الله سبحان الله سبحان ربي » پڑھتے سنتا رہتا ، یہاں تک کہ میں تھک جاتا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میری آنکھ لگ جاتی ، اور میں سو جاتا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ربیعہ ! تم مجھ سے مانگو ! میں تمہیں عطا کروں گا ، میں نے عرض کی : آپ مجھے موقع دیجے تاکہ میں غور کر لوں ، میں نے سوچا دنیا تو فنا ہونے والی ہے ، اور الگ ہو جانے والی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے جہنم سے نجات عطا کر دے اور مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس نے یہ کہا: ہے ؟ میں نے عرض کی : مجھے کسی نے یہ نہیں کہا: ، لیکن مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ دنیا الگ ہو جائے گی ، اور فنا ہو جائے گی ، اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مقام حاصل ہے ، وہ تو ہے ہی ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایسا کر دوں گا ، تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 3509
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِرَفْعِ رَأْسِهِ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي " فَقِيلَ : كَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ، وَذَرَارِيُّهُمْ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ ذَكَرْتُهَا فِي الْبَعْثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جسے ( قیامت کے دن ) سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی ، میں اپنا سر اٹھاؤں گا ، اور پھر اپنے دائیں اور بائیں موجود اپنی امت کے افراد کو پہچان لوں گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ سجدوں کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ، اور اُن کے بال بچے اُن کا نور ہوں گے ، جو اُن کے آگے موجود ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں امام أحمد نے نقل کیا ہے ، میں نے یہ روایت ” دوبارہ زندہ کیے جانے “ سے متعلق باب میں ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں امام أحمد نے نقل کیا ہے ، میں نے یہ روایت ” دوبارہ زندہ کیے جانے “ سے متعلق باب میں ذکر کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3510
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَا حَالٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَجِدَ الْعَبْدَ فِيهِ مِنْ أَنْ يَجِدَهُ عَافِرًا وَجْهَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النُّجُودِ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کوئی بھی حالت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے کہ وہ بندے کو ایسی حالت میں پائے کہ اُس نے اپنا چہرہ خاک پر رکھا ہوا ہو ( یعنی سجدہ کیا ہوا ہو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3511
وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ تَفَلُّتَ الْقُرْآنِ مِنِّي وَمَشَقَّتَهُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَحْمِلْ عَلَيْكَ مَا لَا تُطِيقُ وَعَلَيْكَ بِالسُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرَقِ بْنِ الْحِمْصِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : غَيْرُ مُعْتَمَدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ مجھے قرآن یاد نہیں ہوتا ، اسے یاد کرنے میں مشقت پیش آتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے اوپر وہ بوجھ نہ لادو ، جس کی تم میں طاقت نہیں ہے ، تم پر سجدے کرنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق بن حمصی سے نقل کی ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ غیر معتمد ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق بن حمصی سے نقل کی ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ غیر معتمد ہے ۔
حدیث نمبر: 3512
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ ، وَالْبِرُّ يَتَنَاثَرُ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا كَانَ فِي صَلَاةٍ ، وَمَا تَقَرَّبَ عَبْدٌ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ - يَعْنِي الْقُرْآنَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن نوفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کسی بھی بندے کی کسی بات کو اتنا پسند نہیں کرتا جتنی فضیلت دو رکعات ، یا اس سے زیادہ ( رکعات ) ادا کرنے کو حاصل ہے ، نیکی بندے کے سر پر چھڑکی جاتی رہتی ہے ، جب تک وہ نماز کی حالت میں رہتا ہے ، اور کوئی بھی بندہ اللہ تعالی کا قرب کسی ایسی چیز کے ذریعے حاصل نہیں کرتا ہے ، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ، جو چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد قرآن تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3513
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ أَفْضَلَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الصَّلَاةِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ : الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ سیدھے رہو ، اور شمار نہ کرو ، اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے زیادہ فضیلت نماز کی ہے ، اور نماز کو باقاعدگی کے ساتھ کوئی مؤمن ہی ادا کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3514
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنِ اسْتَقَمْتُمْ وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ مستقیم رہو ! اور یہ اچھی بات ہے اگر تم مستقیم رہو ، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبادہ کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبادہ کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3515
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَدِمَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ بِإِيلِيَاءَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ فَطُلِبَ فَلَمْ يُوجَدْ - [ أَوْ ] قَالَ : فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ - فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي بِبِرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ قَالَ : فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَا لِنُحْدِثَ بِكَ عَهْدًا أَوْ نَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ قَالَ : فَعِنْدِي جَائِزَتُكُمْ ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا رِعَايَةُ الْإِبِلِ يَوْمًا فَكَانَ يَوْمِي الَّذِي أَرْعَى فِيهِ قَالَ : فَرَوَّحْتُ الْإِبِلَ وَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ طَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : فَأَهْمَلْتُ الْإِبِلَ وَتَوَجَّهْتُ نَحْوَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُرِيدُ بِهِمَا وَجْهَ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا " فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ فَضَرَبَ رَجُلٌ عَلَى كَتِفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : يَا ابْنَ عَامِرٍ مَا كَانَ قَبْلَهَا أَفْضَلُ ، قُلْتُ : مَا كَانَ قَبْلَهَا ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَمَالِكُ بْنُ قَيْسٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُ النَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
مالک بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، جو ایلیاء میں موجود تھے ، تھوڑی دیر کے بعد وہ تشریف لے گئے ، انہیں تلاش کیا گیا ، تو وہ نہیں ملے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے انہیں تلاش کیا ، تو ہم نے انہیں نہیں پایا ، پھر ہم ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھلی جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں آئے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ سے دوبارہ ملیں اور آپ کا جو حق ہے اس کو ادا کریں ( یعنی آپ سے استفادہ کریں ) ، انہوں نے فرمایا : میرے پاس تمہاری ضرورت کی چیز ہے ، ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہم میں سے ہر ایک شخص کے ذمہ اونٹ کی ایک دن کی دیکھ بھال لازم تھی ، جب میرا مخصوص دن آیا ، جس دن میں ، میں نے اونٹ کو چرانا تھا ، تو میں اونٹوں کو چرانے کے لئے لے گیا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے پاس آ جا رہے تھے ، اور آپ بات چیت کر رہے تھے ، میری توجہ اونٹوں سے ہٹ گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مبذول ہو گئی ، جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ، پھر دو رکعات نماز ادا کرے اور ان دونوں کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا “ ۔ میں نے اللہ اکبر کہا: ، تو کسی صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے فرمایا : اے عامر کے صاحبزادے ! اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے ، میں نے دریافت کیا : اس سے پہلے کیا بات تھی ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے ، وہ شخص جنت کے جس بھی دروازے میں سے چاہے گا ، اندر داخل ہو جائے گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، مالک بن قیس نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، مالک بن قیس نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔