حدیث نمبر: 3449
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ بِتِسْعٍ حَتَّى إِذَا بَدَنَ وَكَثُرَ لَحْمُهُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ بِ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو وتر ادا کرتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری ہو گیا اور گوشت زیادہ ہو گیا ، تو آپ سات وتر ادا کرنے لگے ، دو رکعات آپ بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے ، جس میں آپ سورت زلزال اور سورت الکافرون کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3450
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْتِرْ بِخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم پانچ وتر ادا کرو ، اگر تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، تو تین ادا کرو ، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ، تو ایک ادا کرو اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ، تو اشارہ کر لو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کے مختلف طرق اس سے پہلے والے باب میں گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3451
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ قَامَ فَأَوْتَرَ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہر گیا ، جب صبح صادق ( قریب ) ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر نو رکعت ادا کیں ، آپ نے ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیرا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3451
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3452
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ فِي الْأُولَى بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ : " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْبَزَّارُ : أَخْطَأَ هَاشِمٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر ادا کرتے تھے ، اُن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں سورت الاعلیٰ کی ، دوسری رکعت میں سورت الکافرون کی ، اور تیسری رکعت میں سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ، جب آپ سلام پھیرتے تھے ، تو سبحان الملک القدوس پڑھتے تھے ، اور اسے بلند آواز میں پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن سعید ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے امام بزار کہتے ہیں : ہاشم نے اس حدیث میں غلطی کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3452
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3453
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابِيٍّ قَالَ : جِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بِعَرَفَةَ فَرَأَيْتُهُ وَقَدْ ضَرَبَ فُسْطَاطًا فِي الْحِلِّ وَفُسْطَاطًا فِي الْحَرَمِ فَقُلْتُ لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ : تَكُونُ صَلَاتِي فِي الْحَرَمِ وَإِذَا خَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي كُنْتُ فِي الْحِلِّ قُلْتُ : كَيْفَ تُوتِرُ ؟ قَالَ : أَعْجَبُ الْوِتْرِ إِلَيَّ سَبْعٌ ; خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا وَالْأَرَضِينَ سَبْعًا وَالْأَيَّامَ سَبْعًا وَجَعَلَ الطَّوَافَ سَبْعًا وَ [ السَّعْيَ ] بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ سَبْعًا وَرَمْيَ الْجِمَارِ سَبْعَ حَصَيَاتٍ ثُمَّ قَالَ : مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا هَذِهِ الْيَاقُوتَةَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ ، وَاللَّهِ لِيُرْفَعَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ رَوَى عَنْهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن بابی بیان کرتے ہیں : میں عرفہ میں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے حرم کی حدود کے باہر ایک خیمہ لگایا ہے ، اور حرم کی حدود کے اندر ایک خیمہ لگایا ہے ، میں نے ان سے دریافت کیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس لئے تاکہ میری نماز حرم کی حدود میں ہو ، اور جب میں نکل کر اپنے اہل کی طرف جاؤں ، تو میں حرم کی حدود سے باہر ہو جاؤں ، میں نے دریافت کیا : آپ وتر کیسے ادا کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے نزدیک سات رکعت وتر ادا کرنا زیادہ پسندیدہ ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا کیے ہیں ، سات زمینیں بنائی ہیں ، سات دن بنائے ہیں ، طواف میں سات چکر ہوتے ہیں ، صفا اور مروہ کے درمیان سعی میں سات چکر ہوتے ہیں ، جمرات کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں ، پھر انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ تعالیٰ نے جنت کی کوئی بھی چیز زمین میں پیدا نہیں کی ہے ( یعنی رکھی نہیں ہے ) صرف اس یا قوت ( یعنی حجر اسود ) کا معاملہ مختلف ہے ، اور قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمر ہے ، اسحاق بن راہویہ نے اس سے روایت نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3454
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوِتْرُ ثَلَاثٌ كَثَلَاثِ الْمَغْرِبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مغرب کی تین رکعات کی طرح ، وتر کی تین رکعات ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبحر بکر اوی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3454
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3455
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : وِتْرُ اللَّيْلِ كَوِتْرِ النَّهَارِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ ثَلَاثٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رات کے وتر ، دن کے وتر کی مانند ہیں کہ مغرب کی نماز میں تین رکعات ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3456
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ فَأَعْلَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تین وتر ، یا اس سے زیادہ ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، عبد الله بن مسعود الهذلي باب 9265»
حدیث نمبر: 3457
وَعَنْ حُصَيْنٍ قَالَ : بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّ سَعْدًا يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ قَالَ : مَا أَجَزَأَتْ رَكْعَةٌ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَحُصَيْنٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حصین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر ادا کرتے ہیں ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : ایک رکعت ادا کرنا ، کبھی درست نہیں ہو سکتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، حصین نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3458
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : تُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ؟ ! فَقَالَ سَعْدٌ : أَوَلَيِسَ إِنَّمَا الْوِتْرُ بِوَاحِدَةٍ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَلَى وَلَكِنْ ثَلَاثٌ أَفْضَلُ قَالَ : فَإِنِّي لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ : أَتَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ أُوتِرَ بِرَكْعَةٍ وَأَنْتَ تُوَرِّثُ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ أَفَلَا تُوَرِّثُ حَوَّاءَ امْرَأَةَ آدَمَ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ لِأَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص سے کہا: کیا آپ ایک وتر ادا کرتے ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وتر ، ایک نہیں ہوتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن تین ادا کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، انہوں نے کہا: لیکن میں تو ایک سے زیادہ ادا نہیں کروں گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، سیدنا سعد نے کہا: کیا آپ اس بات کی وجہ سے مجھ پر غصے میں آئے ہیں کہ میں ایک رکعت وتر ادا کرتا ہوں ، اور آپ خود تو تین دادیوں کو وارث قرار دیتے ہیں تو آپ سیدنا آدم علیہ السلام کی اہلیہ سیدہ حواء رضی اللہ عنہا کو وارث قرار کیوں نہیں دیتے ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور صحیح ہے ، تاہم ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3458
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 3459
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے سفیان ثوری اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3459
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3460
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وتر ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3460
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3461
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا أَصْبَحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَاحِدٌ يُحِبُّ الْوَاحِدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری بلی نیز بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ملا رات کے وقت دو دورکعات نفل ادا کرتے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت دو ، دو رکعات نفل ادا کرتے تھے ، جب صبح صادق ہونے والی ہوتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے ، اور یہ ارشاد فرماتے تھے : ” بے شک اللہ تعالی ایک ہے ، اور وہ ایک کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ولید وصافی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3461
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف