حدیث نمبر: 3435
عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الصُّبْحِ : الْوَتْرَ الْوَتْرَ " . ¤ أَلَا وَإِنَّهُ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ قَالَ أَبُو تَمِيمٍ : فَكُنْتُ أَنَا وَأَبُو ذَرٍّ قَاعِدَيْنِ قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عَلَى الْبَابِ الَّذِي يَلِي بَابَ عَمْرٍو فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا أَبَا بَصْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَادَكُمْ صَلَاةً فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ : الْوَتْرَ الْوَتْرَ " ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ إِسْنَادَانِ عِنْدَ أَحْمَدَ أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَلِيَّ بْنَ إِسْحَاقَ السُّلَمِيَّ شَيْخَ أَحْمَدَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوتمیم جیشانی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے ، تو تم اسے عشاء سے لے کر ، صبح کی نماز کے درمیان میں ادا کرو ، وہ وتر ہے ، وتر ہے “ ۔ خبردار ! وہ راوی سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے ۔ ابوتمیم کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر ہم چلتے ہوئے سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو ہم نے انہیں اس دروازے کے پاس پایا ، جو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب تھا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبصرہ ! کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے ، تو تم اسے عشاء سے لے کر ، صبح کی نماز کے درمیان میں ادا کرو ، وہ وتر ہے ، وتر ہے “ ۔ تو سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، جن میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد کے استاد علی بن اسحاق سلمی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے وہ ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، جن میں سے ایک سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد کے استاد علی بن اسحاق سلمی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے وہ ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3436
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " زَادَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - صَلَاةً وَهِيَ الْوَتْرُ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مُتَّهَمٌ ، وَمُعَاوِيَةُ لَمْ يَتَأَمَّرْ فِي زَمَنِ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن رافع تنوخی ، جو افریقہ کے قاضی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے ، اہل شام وتر ادا نہیں کرتے تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے ؟ میں نے اہل شام کو وتر ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا یہ اُن پر واجب ہیں ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے پروردگار نے مجھے ایک مزید نماز عطا کی ہے ، اور وہ وتر ہیں ، جو عشاء سے لے کر صبح صادق تک کے درمیانی وقت میں ادا کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور اس پر تہمت عائد کی ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ، امیر نہیں بنے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور اس پر تہمت عائد کی ہے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ، امیر نہیں بنے تھے ۔
حدیث نمبر: 3437
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّ اللَّهَ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً فَحَافِظُوا عَلَيْهَا وَهِيَ الْوَتْرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ایک مزید نماز عطا کی ہے ، تو تم اسے باقاعدگی سے ادا کرو ، وہ وتر ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3438
وَلَهُ عِنْدَهُ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْقِنِّينَ ( وَالْكُوبَةَ ) وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوِتْرِ " . ¤ وَكِلَا الطَّرِيقَيْنِ لَا يَصِحُّ ؛ لِأَنَّ فِي الْأُولَى الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الثَّانِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، یہ روایت بھی نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب ، جوئے ، مزر ( مخصوص قسم کی شراب ، جو گندم ، جو ، یا شہد کے ذریعے بنائی جاتی ہے ، ) قنین ( اس سے مراد ” عود “ یعنی مخصوص قسم کا ساز ہے ) ، کو بہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد چوسر ہے ، اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ، ڈھول ہے ) کو حرام قرار دیا ہے ، اور مجھے وتر کی نماز مزید عطا کی ہے “ ۔
اس روایت کے دونوں طرق مستند نہیں ہیں ، تاہم پہلی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جب کہ دوسری سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبدالرحمن بن رافع ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
اس روایت کے دونوں طرق مستند نہیں ہیں ، تاہم پہلی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جب کہ دوسری سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبدالرحمن بن رافع ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 3439
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : شَيْخٌ صَالِحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص وتر ادا نہیں کرتا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ بزرگ اور صالح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ بزرگ اور صالح ہے ۔
حدیث نمبر: 3440
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوِتْرُ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ فِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وتر ، ہر مسلمان پر واجب ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے سفیان ثوری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے سفیان ثوری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3441
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبِشْرُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، خوشی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے ، اور وہ وتر ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3442
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَادَكُمْ صَلَاةً خَيْرًا لَكُمْ مَنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرَ وَهِيَ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے ، تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے ، اور وہ وتر ہے ، وہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح صادق تک کے درمیانی وقت میں ادا کی جائے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے جم کبیر اور منجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے جم کبیر اور منجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3443
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ : " الْوَتْرُ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” وتر ہر مسلمان پر واجب ہیں ، جو شخص پانچ وتر ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو ، وہ پانچ وتر ادا کرے ، جو پانچ وتر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، وہ تین ادا کر لے ، اور جو شخص تین وتر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، وہ ایک وتر ادا کر لے ، اور جو شخص ایک وتر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، وہ اشارہ کر لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3444
وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : " الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ " فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : وَفِي إِسْنَادِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً " . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي رِوَايَةُ أَحْمَدَ فِي عَدَدِ الْوِتْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ روایت منقول ہے : ” وتر حق ہیں ، جو شخص چاہے ، وہ سات وتر ادا کر لے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ کہا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جو شخص ایک وتر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، وہ اشارہ کر لے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد کی روایت ، جو وتر کی تعداد کے بارے میں ہے ، وہ آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ کہا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جو شخص ایک وتر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، وہ اشارہ کر لے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد کی روایت ، جو وتر کی تعداد کے بارے میں ہے ، وہ آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 3445
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا إِلَّا وِتْرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ وتر ہے ، اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے “ ۔ نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وتر کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3446
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوِتْرُ عَلَى أَهْلِ الْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْخَيَّاطُ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يَكَادُ يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اہل قرآن پر ، وتر لازم ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران خیاط ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران خیاط ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3447
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرْدٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَاكُوا وَتَنَظَّفُوا وَأَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَوْرَمَةَ ذَكَرَهُ فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسواک کرو ! پاکیزگی حاصل کرو وتر ادا کرو ، بے شک اللہ تعالی وتر ہے ، اور وتر کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے امام حاتم ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابراہیم بن اور مہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعریف بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے امام حاتم ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابراہیم بن اور مہ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تعریف بیان کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3448
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الضُّحَى وَصَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ وَلَمْ يَتْرُكِ الْوِتْرَ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ نُهَيْكٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص چاشت کی نماز ادا کرے ، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھے ، اور سفر اور حضر کے دوران وتر ترک نہ کرے ، اُس شخص کے لئے شہید کا اجر نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن نہیک ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : کہ یہ غلطی کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن نہیک ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : کہ یہ غلطی کرتا ہے ۔