حدیث نمبر: 3433
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الضُّحَى فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَادَى مُنَادٍ : أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا يُدِيمُونَ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى ؟ هَذَا بَابُكُمْ فَادْخُلُوهُ بِرَحْمَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایک دروازہ ہے ، جس کا نام ” چاشت “ ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، تو ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ لوگ کہاں ہیں ؟ جو باقاعدگی سے چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے ، یہ تم لوگوں کا مخصوص دروازہ ہے ، تم اللہ تعالی کی رحمت کے ساتھ ، اس میں داخل ہو جاؤ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ابو أحمد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3433
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3434
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ يَضَعُ جَنْبَهُ عِنْدَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى قَالَ : مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَتَمَرَّغُ كَتَمَرُّغِ الْحِمَارِ ! ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو چاشت کی دو رکعات کے وقت اپنا پہلو رکھ دیتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تم میں سے کسی ایک شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ گدھے کی طرح لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3434
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله عبد الله بن مسعود الهذلي باب 9307 الآثار لابي يوسف باب السهو 244»