حدیث نمبر: 3399
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الضُّحَى قَطُّ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ أَوْ يَقْدِمَ مِنْ سَفَرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوْ يَخْرُجَ وَكَّلَاهُمَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَّاحَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسٌ . ¤ قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَأَغْفَلَهُ الشَّرِيفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، البتہ اگر آپ کسی سفر پر تشریف لے جانے لگتے ، یا سفر سے واپس تشریف لاتے ( تو اُس وقت نماز ادا کر لیتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے ، البتہ اگر آپ کسی سفر سے تشریف لاتے ، یا سفر پر تشریف لے جانے لگتے ، تو ایسا کر لیتے تھے ۔ یہ دونوں روایات عبداللہ بن رواحہ نے نقل کی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور شریف نے بھی اُن سے غفلت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3399
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالك رضي الله تعالى عنه حديث 12398 مسند ابي يعلي الموصلى سعيد بن سنان ، 4222»
حدیث نمبر: 3400
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الضُّحَى إِلَّا مَرَّةً رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَمْ يُصَلِّ الضُّحَى إِلَّا مَرَّةً وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک مرتبہ چاشت کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک مرتبہ چاشت کی نماز ادا کی تھی “ ۔ اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3400
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابى هريرة رضى الله عنه 10001 مصنف ابن ابي شيبة كتاب صلاة التطوع والإمامة وابواب متفرقة من كان يصليها 7674 السنن الكبرى للنسائي كتاب الصلاة التسهيل فى تركها 472 ناسخ الحديث و منسوخه لابن شابين كتاب الصلاة الخلاف فى ذلك 209»
حدیث نمبر: 3401
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَاهُ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي ( صَلَاةَ ) الضُّحَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : اُن کے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) چاشت کی نماز ادا نہیں کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے ، اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3401
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3402
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ صَلَّى الضُّحَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكْنَى بِأَبِي الزَّوَائِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَفِيهِمْ مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : صُوَيْلِحٌ ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : فِي حَدِيثِهِ وَهْمٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے جس شخص نے چاشت کی نماز ادا کی تھی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں ، جن کی کنیت ” ابوزائد “ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے رجال میں ایک راوی معمر بن بکار ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح ہے ، ازدی کہتے ہیں : اس کی حدیث میں وہم پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3403
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الضُّحَى إِلَّا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عننہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی ادا نہیں کی ، صرف فتح مکہ کے دن ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو ضرر کا باعث نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3404
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3405
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاهُمْ وَكَثْرَةِ غَنِيمَتِهِمْ وَسُرْعَةِ رَجْعَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَقْرَبَ مِنْهُمْ مَغْزًى وَأَكْثَرَ غَنِيمَةً وَأَوْشَكَ رَجْعَةً ؟ " ( مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ بِسُبْحَةِ الضُّحَى ، فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى ، وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً ، وَأَوْشَكُ رَجْعَةً ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ لِأَنَّهُ جَعَلَ بَدَلَ ابْنِ لَهِيعَةَ ابْنَ وَهْبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ، انہیں مال غنیمت حاصل ہوا ، اور وہ لوگ جلدی واپس آ گئے ، تو لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی کہ ان کی جنگ کی جگہ قریب تھی ، مال غنیمت زیادہ حاصل ہوا ، اور یہ لوگ جلدی بھی واپس آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی اُس چیز کی طرف نہ کروں کہ جس میں زیادہ دور بھی نہیں جانا پڑتا ، غنیمت بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے ، اور واپسی بھی جلدی ہو جاتی ہے ، جو شخص وضو کرنے کے بعد مسجد کی طرف جائے ، تاکہ چاشت کی نماز ادا کرے ، تو ایسے شخص کو زیادہ دور بھی نہیں جانا پڑتا ، غنیمت بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے ، اور واپسی بھی جلدی ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، امام طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، البتہ انہوں نے ابن لہیعہ کی جگہ ، ابن وہب کا ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3406
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا بَعْثًا قَطُّ أَسْرَعَ كَرَّةً وَلَا أَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ ! فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَسْرَعَ كَرَّةً مِنْهُ وَأَعْظَمَ غَنِيمَةً ؟ رَجُلٌ تَوَضَّأَ ( فِي بَيْتِهِ ) فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ ثُمَّ عَقَّبَ بِصَلَاةِ الضَّحْوَةِ فَقَدْ أَسْرَعَ وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی ، انہیں بہت سارا مال غنیمت حاصل ہوا ، اور وہ جلدی واپس بھی آ گئے ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے ایسی کوئی مہم نہیں دیکھی ، جو اتنی جلدی واپس آ گئی ہو ، جسے ان لوگوں سے زیادہ غنیمت حاصل ہوئی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے زیادہ جلدی واپسی والی ، اور اس سے زیادہ غنیمت والی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ شخص جو اپنے گھر میں وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر وہ مسجد کی طرف جائے اور اس میں صبح کی نماز ادا کرے ’ پھر اُس کے بعد چاشت کی نماز ادا کرے ، تو وہ جلدی واپس آ جاتا ہے ، اور زیادہ غنیمت حاصل کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3407
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَضَحَنَا قَالَ : وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ : ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الضُّحَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحٍ أَوْ بِعَسٍّ وَفِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ فَرَشَّ عَلَيْهِمْ أَوْ نَضَحَ عَلَيْهِمْ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پانی تھوڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، تو وہ پانی آپ نے ہمیں دے دیا ، راوی کہتے ہیں : ہم میں سے خوش نصیب وہ تھا ، جسے وہ پانی مل گیا ، اور اس ( پانی ) کے بارے میں ہمارا یہ خیال ہے کہ وہ تمام لوگوں کو مل گیا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ ، یا ایک برتن لایا گیا ، جس میں تھوڑا پانی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ لوگوں پر چھڑک دیا گیا ( چھڑکنے کے لئے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3407
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3408
وَعَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي بَيْتِهِ سُبْحَةَ الضُّحَى . ¤ قُلْتُ : لَعِتْبَانَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں چاشت کے نوافل ادا کیے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3408
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3409
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ اكْفِنِي أَوَّلَ النَّهَارِ بِأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالٌ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم دن کے ابتدائی حصے میں چار رکعات میرے لئے ادا کر لو ، میں دن کے آخری حصے تک ، اس کی وجہ سے تمہاری کفایت کروں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3409
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3410
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ابْنَ آدَمَ لَا تَعْجَزَنَّ مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ لِأَكْفِكَ آخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم دن کے ابتدائی حصے میں چار رکعات سے عاجز نہ رہنا ، ( یعنی انہیں ادا کر لینا ) میں اُس ( دن ) کے آخری حصے تک تمہاری کفایت کروں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3410
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار من مسند القبائل من حديث أبى الدرداء عويمر ، 26878»
حدیث نمبر: 3411
وَعَنْ أَبِي مُرَّةَ الطَّائِفِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ابْنَ آدَمَ صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومرہ طائفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم دن کے ابتدائی حصے میں ، میری خاطر چار رکعات ادا کرو میں اُس ( دن ) کے آخری حصے تک تمہاری کفایت کروں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3412
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ : ابْنَ آدَمَ صَلِّ لِي رَكْعَتَيْنِ أَوَّلَ النَّهَارِ أَضْمَنْ لَكَ آخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم میری خاطر دن کے ابتدائی حصے میں دو رکعات ادا کرو ، میں اُس ( دن ) کے آخری حصے تک تمہیں ضمانت دیتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3412
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3413
وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ابْنَ آدَمَ لَا تَعْجِزَنَّ مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم دن کے ابتدائی حصے میں چار رکعات ادا کرنے سے عاجز نہ رہ جانا ، میں اُس ( دن ) کے آخری حصے تک تمہاری کفایت کروں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ“ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3414
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ارْكَعْ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَلْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تم دن کے ابتدائی حصے میں ، میری خاطر چار رکعات ادا کر لینا ، میں اُس ( دن ) کے آخری حصے تک تمہاری کفایت کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3414
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3415
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ يَوْمَ فَتْحِهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ، مکہ میں آٹھ رکعات ادا کی تھیں ، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت اور طویل رکوع کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شعیب ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3415
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3416
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ : " مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقْبَلَتْهُ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَكَانَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ، ایک دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اُس وقت کھڑا ہو ، جب سورج اُس کے سامنے آ چکا ہو ، اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ، تو اس کے گناہوں کی ( اللہ تعالیٰ ) مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ شخص یوں ہو جاتا ہے ، جیسے اُس دن تھا ، جب اُس کی والدہ نے اُسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3416
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3417
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَصَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ وَسَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، ( أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينِ ، وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ ) أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ، جس میں رغبت بھی پائی جاتی ہے ، اور اس میں ڈرنے کا پہلو بھی ہے ، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزیں مانگی تھیں ، تو اُس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں ، اور ایک چیز مجھے عطا نہیں کی ، میں نے اُس سے یہ مانگا تھا ( اُس کے بعد اصل متن میں کچھ الفاظ نہیں ہیں : ) اور یہ کہ وہ میری امت کو قحط سالی میں مبتلاء نہیں کرے گا ، اور اُس کے دشمن کو ان پر غالب نہیں کرے گا ، تو اس نے ایسا ہی کیا ، اور میں نے اس سے یہ دعا کی : کہ وہ اُن کو مختلف گروہوں میں تقسیم نہیں کرے گا ، تو اُس نے میری یہ بات نہیں مانی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3418
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ : يَا عَمَّاهُ أَوْصِنِي قَالَ : سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنْ صَلَّيْتَ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ لَمْ تُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ وَإِنْ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا كُتِبْتَ مِنَ الْعَابِدِينَ ، وَإِنْ صَلَّيْتَ سِتًّا كُفِيتَ ، وَإِنْ صَلَّيْتَ ثَمَانِيًا كُتِبْتَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَإِنْ صَلَّيْتَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةَ بُنِيَ لَكَ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَا مِنْ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ وَلَا سَاعَةٍ إِلَّا وَلِلَّهِ فِيهَا صَدَقَةٌ يَمُنُّ بِهَا عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا مَنَّ عَلَى عَبْدٍ مِثْلَ أَنْ يُلْهِمَهُ ذِكْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَطَاءٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُدَلِّسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: اے چچا جان ! آپ مجھے کوئی وصیت کیجیے ! انہوں نے فرمایا : تم نے مجھ سے اُس چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم چاشت کے وقت دو رکعات ادا کر لو ، تو تمہارا نام ” غافلین “ میں نوٹ نہیں کیا جائے گا ، اور اگر تم چار رکعات ادا کر لو ، تو تمہارا نام عبادت گزاروں میں نوٹ کیا جائے گا ، اور اگر تم چھ رکعات ادا کر لو ، تو تمہیں کوئی گناہ لاحق نہیں ہو گا ، اگر تم آٹھ رکعات ادا کر لو ، تو تمہارا شمار ” قانتین “ میں کیا جائے گا ، اگر تم بارہ رکعت ادا کر لو ، تو تمہارے لئے جنت میں گھر بنا دیا جائے گا ، رات اور دن کی ہر ایک گھڑی میں ، اللہ تعالیٰ صدقہ کرتا ہے ، جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی ایسا احسان نہیں کرتا ، جو اس چیز کی مانند ہو کہ اللہ تعالی نے اس کو اپنے ذکر کی توفیق نصیب کی ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عطاء ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ، اور تدلیس کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3418
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3419
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ صَلَّى أَرْبَعًا كُتِبَ مِنَ الْعَابِدِينَ ، وَمَنْ صَلَّى سِتًّا كُفِيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَمَنْ صَلَّى ثَمَانِيًا كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، وَمَا مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا لِلَّهِ مَنٌّ يَمُنُّ بِهِ عَلَى عِبَادِهِ وَصَدَقَةٌ ، وَمَا مَنَّ اللَّهُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ عِبَادِهِ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ يُلْهِمَهُ ذِكْرَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَفَّهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص چاشت کے وقت دو رکعات ادا کرتا ہے ، اس کا شمار ” غافلین “ میں کیا جاتا ہے ، جو شخص چار رکعات ادا کرتا ہے ، اس کا شمار عبادت گزاروں میں کیا جاتا ہے ، جو شخص چھ رکعات ادا کرتا ہے ، اس دن میں اس کی کفایت ہو جاتی ہے ، جو شخص آٹھ رکعات ادا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا نام ” قانتین “ میں نوٹ کر لیتا ہے ، جو شخص بارہ رکعات ادا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ، اور رات اور دن میں ، ہر وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان کرتا ہے ، اور صدقہ کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک پر کوئی ایسا فضل نہیں کرتا ، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اُسے اپنے ذکر کی توفیق نصیب کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3420
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنِ ابْنِ آدَمَ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَا الضُّحَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ لَهُ تَرْجَمَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر ، یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” انسان کے ہر ایک جوڑ پر ، روزانہ صدقہ دینا لازم ہے ، اور اُن سب کے حوالے سے ، چاشت کی دو رکعات کفایت کر جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کے حالات میں نے نہیں پائے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3420
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3421
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلَعِهَا كَهَيْئَتِهَا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ حِينَ تَغْرُبُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَصَلَّى رَجُلٌ رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجْدَاتٍ فَإِنَّهُ لَهُ أَجْرُ ذَلِكَ الْيَوْمِ " وَحَسِبْتُهُ قَالَ : " وَكُفِّرَ عَنْهُ خَطِيئَتُهُ وَإِثْمُهُ " وَأَحْسَبُهُ قَالَ : " وَإِنْ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّ فِيهِمْ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب سورج اپنے طلوع ہونے کے مقام سے اتنا طلوع ہو جاتا ہے ، جس طرح وہ عصر کی نماز کے وقت ، مغرب کی طرف ہوتا ہے ، اس وقت اگر کوئی شخص دو رکعات ادا کر لے اور چار سجدے کر لے ، تو اسے اس دن کا اجر مل جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : کہ اُس کی خطائیں اور اس کے گناہ اس سے دور ہو جاتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : اگر وہ اس دن میں انتقال کر جائے ، تو جنت میں داخل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون بن زید ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : امام ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ان میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3421
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبرانى باب الصاد ما اسند ابو امامة ثابت بن عجلان ، 7650»
حدیث نمبر: 3422
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى سِتَّ رَكَعَاتٍ فَمَا تَرَكْتُهُنَّ بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز میں چھ رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس کے بعد میں نے کبھی ان رکعات کو ترک نہیں کیا ہے ۔ حسن بصری بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میں نے بھی کبھی انہیں ترک نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ اُموی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3422
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3423
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قُطِعَ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمَلَنِي عَلَى جَمَلٍ فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَضْرِبُهُ فِي آخِرِ النَّاسِ فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَوْطٍ فَمَا زَالَ فِي أَوَائِلِ النَّاسِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرُدُّهُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي سِتَّ رَكَعَاتٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹ سواری کے لئے دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا ، تو میں لوگوں میں سب سے پیچھے تھا اور اسے مار کر چلا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اپنی چھڑی ماری ، تو وہ لوگوں سے آگے نکلنے لگا ، یہاں تک کہ جب ہم مکہ آ گئے ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں وہ ( اونٹ ) آپ کو واپس کرنا چاہتا تھا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت چھ رکعات ادا کی تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3423
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3424
وَفِي رِوَايَةٍ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرِضُ عَلَيْهِ بَعِيرًا لِي فَرَأَيْتُهُ صَلَّى الضُّحَى سِتَّ رَكَعَاتٍ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرٍ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تاکہ آپ کے سامنے اپنا اونٹ پیش کروں ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت چھ رکعات ادا کی تھیں ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، محمد بن قیس کے حوالے سے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اس راوی کا ( یعنی محمد بن قیس کا ) تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3424
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب الالف باب من اسمه إبراهيم 2777»
حدیث نمبر: 3425
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى الضُّحَى أَرْبَعًا وَقَبْلَ الْأُولَى أَرْبَعًا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَا يُعْرَفُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص چاشت کے وقت چار رکعات ادا کرے ، اور ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرے ، اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3425
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3426
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3426
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3427
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُ صَلَّى الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ حِينَ بُشِّرَ بِالْفَتْحِ وَحِينَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ الصَّلَاةَ حِينَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ شَعْثَاءُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَحَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے چاشت کے وقت دو رکعات ادا کیں ، تو ان کی اہلیہ نے اُن سے کہا: آپ نے دو رکعات ادا کی ہیں ؟ تو انہوں نے یہ بتایا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح کی خوشخبری دی گئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں دو رکعات ادا کی تھیں ، اور جب آپ کو ابوجہل کے سر کی خوشخبری دی گئی تھی ( تو اُس وقت بھی دو رکعات ادا کی تھیں ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ، اس صحابی کے حوالے سے صرف
یہ روایت نقل کی ہے : کہ ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کے سر کی خوشخبری دی گئی ، تو آپ نے نماز ادا کی تھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعشاء ہے ، میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور نہ ہی اُس پر جرح کرتے ہوئے پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3427
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3428
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ وَسَتَرَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَأُمُّ سُلَيْمٍ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِمِلْحَفَةٍ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ هَانِئٍ فَصَلَّى الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَلَهَا فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک لحاف کے ذریعے پردہ تان لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت چار رکعات ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3428
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3429
وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَلَّى الضُّحَى سِتَّ رَكَعَاتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَلَهَا حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ : أَنَّهُ صَلَّاهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ . ¤
محمد محی الدین
اُنہى کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : فتح مکہ کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت چھ رکعات ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جس میں یہ ذکر ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات ادا کی تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3430
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمُرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَمَا أَدْرِي مَا هِيَ ؟ قَوْلُهُ : بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فِي جَفْنَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثُمَّ قَالَ : " يَا أُمَّ هَانِئٍ هَذِهِ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِي وَجَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے میں یہ آیت « بالعشي والا شراق » تلاوت کیا کرتا تھا ، لیکن مجھے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث بیان کی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں وضو کا پانی منگوایا ، جس میں مجھے آٹے کا نشان نظر آ رہا تھا ، نبی اکر صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ نے چاشت کے وقت نماز ادا کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اُم ہانی ! یہ نماز اشراق ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح“ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے علی بن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3430
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3431
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَتْرُكُ الضُّحَى فِي السَّفَرِ وَلَا غَيْرِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران ، یا اس کے علاوہ چاشت کی نماز ترک نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3431
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3432
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَفِيهِ كَلَامٌ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” چاشت کی نماز باقاعدگی سے صرف ” اوّاب “ ( یعنی توبہ کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی طرف بکثرت رجوع کرنے والا شخص ، اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ” مطیع “ شخص ہے ) ہی ادا کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3432
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف