کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مغرب کی نماز سے پہلے ، اور اس کے بعد نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3376
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّهُ لَزِمَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَزَعَمَ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُومَانِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ فَيَرْكَعَانِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي زِيَادَاتِهِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے ہیں ، زر کا یہ کہنا ہے : کہ دونوں حضرات جب سورج غروب ہو جاتا تھا ، تو مغرب کی نماز سے پہلے کھڑے ہو کر دو رکعات ( نفل ) ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3377
وَعَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُئِلَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ صَلَاةً بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ، عبید سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے مغرب اور عشا ، کے درمیان نماز کا ذکر کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3378
وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ سُئِلَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِصَلَاةٍ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ أَوْ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَمَدَارُ هَذِهِ الطُّرُقِ كُلِّهَا عَلَى رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے ، ان صاحب کے حوالے سے ، ایک اور روایت بھی نقل کی ہے : کہ اُن سے سوال کیا گیا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کے بعد ، یا فرض نماز کے علاوہ کوئی اور نماز ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! مغرب اور عشاء کے درمیان ( نماز ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے تمام طرق کا مدار ایک شخص پر ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے تمام طرق کا مدار ایک شخص پر ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3379
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِنَا فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ مِنْهَا قَالَ : " ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ لِلسُّبْحَةِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قُلْتُ لِأَبِي : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدٍ لَمْ يُجْزِئْهُ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهُمَا فِي بَيْتِهِ لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَذِهِ مِنْ صَلَوَاتِ الْبُيُوتِ " قَالَ : مَنْ قَالَ هَذَا ؟ قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ ، أَوْ قَالَ : مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ أَوْ مَا انْتَزَعَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو عبداشہل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ہماری مسجد میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ، جب آپ نے نماز کے بعد سلام پھیرا ، تو ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ دو رکعات ، اپنے گھر میں ادا کر لینا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کے بعد کے نوافل ( یعنی سنتوں ) کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد ( امام أحمد بن حنبل ) سے کہا: ایک شخص نے یہ بات بیان کی ہے : جو شخص مغرب کے بعد مسجد میں دو رکعات ادا کرتا ہے ، اس کی نماز درست نہیں ہوتی ، وہ اپنے گھر میں ہی ان دونوں کو ادا کرے گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے ، امام أحمد نے دریافت کیا : یہ بات کس نے کہی ہے ؟ میں نے جواب دیا : محمد بن عبدالرحمن نے ، انہوں نے فرمایا : انہوں نے کتنی اچھی بات کہی ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے جو نقل کیا ہے ، وہ کتنا اچھا ہے ، اور جو مسئلہ اخذ کیا ہے وہ کتنا اچھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد ( امام أحمد بن حنبل ) سے کہا: ایک شخص نے یہ بات بیان کی ہے : جو شخص مغرب کے بعد مسجد میں دو رکعات ادا کرتا ہے ، اس کی نماز درست نہیں ہوتی ، وہ اپنے گھر میں ہی ان دونوں کو ادا کرے گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے ، امام أحمد نے دریافت کیا : یہ بات کس نے کہی ہے ؟ میں نے جواب دیا : محمد بن عبدالرحمن نے ، انہوں نے فرمایا : انہوں نے کتنی اچھی بات کہی ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے جو نقل کیا ہے ، وہ کتنا اچھا ہے ، اور جو مسئلہ اخذ کیا ہے وہ کتنا اچھا ہے ۔
حدیث نمبر: 3380
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ( حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ) قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يُصَلِّي بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ( فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ؟ فَقَالَ ) : رَأَيْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَقَالَ : " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحُ بْنُ قَطَنٍ الْبُخَارِيُّ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : ) میرے والد نے ، میرے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مغرب کے بعد چھ رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ، میں نے دریافت کیا : اے ابا جان ! یہ کون سی نماز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے اپنے محبوب ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد چھ رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات ادا کرتا ہے ، اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : صالح بن قطن بخاری اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : صالح بن قطن بخاری اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3381
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ حَتَّى يَتَصَدَّعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے ، جن میں آپ طویل قرأت کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ اہل مسجد تھکاوٹ کا شکار ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3382
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : نِعْمَ سَاعَةُ الْغَفْلَةِ - يَعْنِي الصَّلَاةَ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غفلت کی بہترین ساعت ، مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہے ( اُن کی مراد یہ تھی کہ اس وقت میں لوگ غفلت کا شکار ہوتے ہیں ، اور نماز ادا کرنے کے لئے یہ بہترین وقت ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3383
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِيهَا إِلَّا وَجَدْتُهُ ( فِيهَا ) يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَقُلْتُ : سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُكَ فِيهَا ( قَطُّ ) إِلَّا وَجَدْتُكَ تُصَلِّي فِيهَا قَالَ : إِنَّهَا سَاعَةُ غَفْلَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس گھڑی میں ، میں جب بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے انہیں اُس گھڑی میں نماز ادا کرتے ہوئے ہی پایا ، وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز ادا کرتے رہتے تھے میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا: ایک گھڑی ایسی ہے کہ میں اُس گھڑی میں جب بھی آپ کے پاس آیا ، تو میں نے آپ کو اس گھڑی میں نماز ادا کرتے ہوئے ہی پایا ہے ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : یہ غفلت کی گھڑی ہے ( اس لئے میں اس دوران نماز ادا کرتا رہتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3384
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، اور آپ نے اس وقت بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو ، آپ اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے ہمیں حدیث بیان نہ کیجئے ، خواہ وہ دوسرا شخص ” ثقہ “ ہی کیوں نہ ہو ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعات میں ، اور مغرب کے بعد کی دو رکعات ( سنتوں میں ) سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔