حدیث نمبر: 3372
عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ أَخَذَ بِحَلْقَةِ بَابِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ وَثَّقَهُ أَيْضًا وَقَالَ : يُخْطِئُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے خانہ کعبہ کے دروازے کے ایک حلقے کو پکڑا ، اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عصر کی نماز کے بعد ، سورج غروب ہونے تک ، اور فجر کی نماز کے بعد ، سورج طلوع ہونے تک ، کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی البتہ مکہ کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل مخزومی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل مخزومی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3373
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بَنِي عَبْدِ مُنَافٍ لَا أَعْرِفَنَّكُمْ مَا مَنَعْتُمْ أَحَدًا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنْ يُصَلِّيَ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ فَإِنْ كَانَ هُوَ الْجَزَرِيَّ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ أَبِي الْمُخَارِقِ فَهُوَ ضَعِيفٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنوعبدمناف ! میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں ، کہ تم نے کسی کو ، رات یا دن کے کسی بھی حصے میں ، بیت اللہ کا طواف کرنے سے اور نماز ادا کرنے سے منع کیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالکریم کی مجاہد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اگر تو یہ جزری ہے ، تو پھر یہ ” ثقہ “ ہے ، اور اگر یہ ابن ابومخارق ہے ، تو پھر یہ ” ضعیف “ ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالکریم کی مجاہد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اگر تو یہ جزری ہے ، تو پھر یہ ” ثقہ “ ہے ، اور اگر یہ ابن ابومخارق ہے ، تو پھر یہ ” ضعیف “ ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3374
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ مُنَافٍ ( يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ) إِذَا وُلِّيتُمْ هَذَا الْأَمْرَ فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أَنْ يُصَلِّيَ أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَقَالَ : يَعْنِي رَكْعَتِي الطَّوَافِ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فِي كُلِّ النَّهَارِ . ¤ وَفِيهِ سَلِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَشَّابُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنوعبدمناف ! اے بنوعبدالمطلب ! اگر تمہیں اس معاملے کا نگران بنا دیا جائے ، تو تم اس گھر کا طواف کرنے والے کسی بھی شخص کو ، رات یا دن کی کسی بھی گھڑی میں ، نماز ادا کرنے سے نہ روکنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ طواف کی دو رکعات صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے ، اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ، کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیم بن مسلم خشاب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ طواف کی دو رکعات صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے ، اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ، کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیم بن مسلم خشاب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3375
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا تُكْرَهُ الصَّلَاةُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا انہوں نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا ، پھر دو رکعات ادا کر لیں ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : سورج طلوع ہونے کے وقت نماز ادا کرنا مکروہ ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔