کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت اور دیگر امور کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَلَا تَرْتَفِعُ قَصَبَةً إِلَّا فُتِحَ لَهَا بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ جَهَنَّمَ قَالَ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي هَاتَيْنِ السَّاعَتَيْنِ حِينَ تَطْلُعُ حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَنِصْفِ النَّهَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ، تو ابھی وہ ایک کانے ( نرکل ) جتنا بلند نہیں ہوتا کہ جہنم کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، جب نصف النہار کا وقت ہوتا ہے ، تو پھر اس کے لئے جہنم کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان دو اوقات میں نماز ادا کرنے سے منع کرتے تھے ، جب سورج طلوع ہو رہا ہو ، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے ، اور نصف النہار کے وقت ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَلَاثِ سَاعَاتٍ : عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَتَّى تَطْلُعَ ، وَنِصْفِ النَّهَارِ ، وَعِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین گھڑیوں میں نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ، سورج طلوع ہونے کے وقت یہاں تک کہ وہ طلوع ہو جائے ، اور نصف النہار کے وقت ، اور سورج غروب ہونے کے وقت ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف