مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ لِسَبَبٍ . باب: کسی سبب کی وجہ سے نماز کا جواز
عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَفَتَ إِلَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ : " أَلَمْ تُصَلِّ مَعَنَا ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَا الْفَجْرِ لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا قَالَ : فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوِيَانِ لَمْ يُسَمَّيَا ، وَبَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مِنْهَالٍ بِالْعَنْعَنَةِ وَالْجَرَّاحُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ . ¤سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، تو آپ میری طرف متوجہ ہوئے ، میں نے نماز ادا کرنا شروع کر دی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھتے رہے ، اور میں نماز ادا کرتا رہا ، جب میں فارغ ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر یہ کون سی نماز تھی ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ فجر کی دو رکعات سنتیں تھیں ، جو میں ادا نہیں کر پایا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، بقیہ بن ولید نے جراح بن منہال کے حوالے سے ” عنعنہ “ کے ساتھ
یہ روایت نقل کی ہے ، جراح نامی راوی منکر الحدیث ہے ، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم نے بیان کی ہے ۔