کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت اور دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 3344
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهُمَا ، قَالَ قَبِيصَةُ : فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ ; لِأَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ - يَعْنِي بَعْدَهَا - ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
قبیصہ بن ذؤیب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے گھرانے کے افراد کو یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دو رکعات ادا کی تھیں ، تو وہ لوگ اُن دو رکعات کو ادا کرتے تھے ۔
قبیصہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مغفرت کرے !
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے تھے ، اصل میں ہوا یہ تھا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوپہر کے وقت حاضر ہوئے ، وہ بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرتے رہے ، اور آپ انہیں شرعی احکام بیان کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور اس کے بعد کی سنتیں ادا نہیں کیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ان لوگوں کو مسائل بیان کرتے رہے ، یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ، پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے ، آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کے بعد سنتیں ادا نہیں کی تھیں ، تو آپ نے وہ دو رکعات عصر کے بعد ادا کر لیں تھیں ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، امام طبرانی نے اس روایت کا آخری حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3344
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3345
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُصَلَّى إِذَا طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ أَوْ غَابَ قَرْنُهَا إِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ، جب سورج کا کنارہ طلوع ہوتا ہے ، یا جب اس کا کنارہ غروب ہوتا ہے ، کیونکہ وہ ( یعنی سورج ) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3346
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَمًّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ ، مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ فَإِذَا اعْتَدَلْتَ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَا أَدْرِي سَمِعَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ مِنْهُ أَمْ لَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں ، جس سے آپ واقف ہیں اور میں اُس سے ناواقف ہوں ، رات کی اور دن کی کون سی گھڑیاں ایسی ہیں ، جن میں نماز ادا کرنے کو آپ مکروہ قرار دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم صبح کی نماز ادا کر لو ، تو تم نماز ادا کرنے سے رک جاؤ ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، جب وہ طلوع ہو جائے تو پھر تم نماز ادا کرو ، کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے ، اور وہ قبول ہوتی ہے ، ایسا اس وقت تک کر سکتے ہو ، جب تک ( سورج ) تمہارے سر پر نیزے کی مانند برابر نہیں ہو جاتا ( یعنی عین دوپہر کا وقت نہیں ہو جاتا ) جب وہ بالکل تمہارے سر پر آ جائے ، تو یہ وہ گھڑی ہے ، جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے ، اور اس میں جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، ایسا اُس وقت تک ہو گا ، جب تک وہ ( سورج ) ڈھل نہیں جاتا ، جب وہ ڈھل جائے تو تم نماز ادا کر سکتے ہو ، کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے ، اور وہ قبول ہوتی ہے ، اور تم نماز اس وقت تک ادا کر سکتے ہو ، جب تک تم عصر کی نماز ادا نہیں کر لیتے “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے مسند أحمد کی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ مجھے نہیں معلوم کہ سعید مقبری نے ان سے سماع کیا ہے ، یا نہیں کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ امام ابن ماجہ نے
یہ روایت سعید مقبری کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے : ( وہ بیان کرتے ہیں : ) سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول الله ! ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3346
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3347
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَلَاتَانِ لَا يُصَلَّى بَعْدَهُمَا ؛ الصُّبْحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالْعَصْرُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” دو نمازیں ہیں ، جن کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، صبح کی نماز ، جب تک سورج نکل نہیں آتا ، اور عصر کی نماز ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3348
وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ - أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ السُّلَمِيِّ - قَالَ شُعْبَةُ : وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مُرَّةَ أَوْ كَعْبٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ " ثُمَّ قَالَ : " الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَتَكُونَ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ مَقَامَ الرُّمْحِ ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْعَصْرُ ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ إِحْدَاهُمَا هَذِهِ وَالْأُخْرَى عَنْ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ ، وَقَالَ : " حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ " بَدَلَ : " حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْإِسْنَادَ الثَّانِيَ فِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا کعب بن مرہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : کہ منصور نے ، سالم کے حوالے سے ، مرہ کے حوالے سے ، یا شاید کعب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : رات کے کون سے حصے میں ( دعا ) زیادہ سنی جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخری نصف حصہ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے ، پھر ( فجر کے فرضوں اور سنتوں کے علاوہ ) کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج طلوع نہیں ہو جاتا ، اور جب تک وہ ایک یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا ، پھر نماز مقبول ہو گی ، یہاں تک کہ سایہ نیزے کی جگہ پر کھڑا ہو جائے ، پھر اُس وقت تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ، پھر نماز مقبول ہو گی یہاں تک کہ عصر کی نماز ادا کر لی جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے ، اور دوسری سند سالم کے حوالے سے ، ایک شخص کے حوالے سے کعب بن مرہ بہزی سے منقول ہے ، جو کسی شک کے بغیر ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کر لی جائے “ ۔ یہ ان الفاظ کی جگہ ہے : ” یہاں تک کہ صبح ( صادق ) طلوع ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ دوسری سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3349
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ ، وَلَا نِصْفِ النَّهَارِ فَإِنَّهَا عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ أَخِي أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَحْوِهِ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَابِطٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيٌّ حِينٍ تُكْرَهُ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " مِنْ حِينِ يَطْلُعُ الصُّبْحُ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ وَمِنْ حِينِ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ إِلَى غُرُوبِهَا " وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سورج طلوع ہونے کے وقت نماز ادا نہ کرو ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ، اور ہر کافر اس کے لئے سجدہ کرتا ہے ، اور اُس کے غروب ہونے کے وقت بھی نماز ادا نہ کرو ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ، اور ہر کافر اس کے لئے سجدہ کرتا ہے ، اور نصف النہار کے وقت بھی نماز ادا نہ کرو ، کیونکہ یہ جہنم کے بھڑکائے جانے کا وقت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، یا سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بھائی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت کو ابوسابط کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ ” پھر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کون سے وقت میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صبح صادق ہو جانے کے بعد سے لے کر سورج کے ایک یا دو نیزوں جتنا بلند ہونے تک ، اور اُس وقت جب سورج زرد ہو چکا ہو ، اُس کے وقت سے لے کر ، اُس کے غروب ہونے تک “ ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، تاہم یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3349
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3350
وَعَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا حِينَ تَسْقُطُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ بَعْضُهَا بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِي بَعْضِهَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ أَيَّ سَاعَةٍ شِئْنَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ غَيْرَ أَنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَجْتَنِبَ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَغُرُوبَهَا ، وَقَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَغِيبُ مَعَهَا حِينَ تَغِيبُ وَيَطْلُعُ مَعَهَا حِينَ تَطْلُعُ " وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ اس وقت نماز ادا نہ کرو ، جب سورج طلوع ہوتا ہے ، اور نہ ہی اس وقت ادا کرو ، جب وہ غروب ہوتا ہے ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ، اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ مختلف طرق کے ساتھ منقول ہے ، جن میں سے بعض اس کی مانند ہیں ، اور بعض میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کا حکم دیتے تھے کہ ہم رات اور دن کی کسی بھی گھڑی میں نماز ادا کر سکتے ہیں ، البتہ آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم سورج کے طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا کرنے سے اجتناب کریں ، آپ یہ فرماتے تھے : جب یہ غروب ہوتا ہے ، تو شیطان بھی اُس کے ہمراہ غروب ہو جاتا ہے ، اور جب یہ طلوع ہوتا ہے ، تو شیطان بھی اُس کے ہمراہ طلوع ہوتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3351
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتا رہا ہوں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی عصر کے بعد ، یا صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3351
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 7649»
حدیث نمبر: 3352
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ : رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ وَنَهَانِي وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ أَبَا يَعْلَى قَالَ : رَآنِي أَبُو هُبَيْرَةَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن نافع بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں سورج طلوع ہونے کے وقت چاشت کی نماز ادا کر رہا تھا ، تو انہوں نے اس کے حوالے سے مجھ پر اعتراض کیا اور مجھے اس سے منع کیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اس وقت تک نماز ادا نہ کرو ، جب تک سورج بلند نہیں ہو جاتا ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم امام ابویعلیٰ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ابوہبیرہ نے مجھے دیکھا “ امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3353
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ : رَآنِي أَبُو الْيُسْرِ وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى فَنَهَانِي ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " لَا تُصَلُّوا حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں چاشت کی نماز ادا کر رہا تھا ، انہوں نے مجھے منع کیا اور ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ اُس وقت تک نماز ادا نہ کرو ، جب تک سورج بلند نہیں ہو جاتا ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3354
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورج طلوع ہونے کے وقت نماز ادا کرنے سے منع کرتے تھے ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کے مفہوم والی روایت نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3355
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَهُمْ وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” عصر کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں روایت منقول ہے ، جو سورج طلوع ہونے کے بعد نماز کی ممانعت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3356
وَعَنْ حَيِّي بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ - أَوْ قِيلَ لَهُ - : أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُصَلِّي قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ! قَالَ يَعْلَى : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " قَالَ يَعْلَى : فَلِأَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَيِيُّ بْنُ يَعْلَى وَلَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
حیی بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کو سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اُن سے کہا: ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے کہا: گیا : آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک فرد ہیں ، اور سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کر رہے ہیں ؟ تو سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے “ ۔ سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ ایسی حالت میں طلوع ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل پیرا ہو ( یعنی نماز ادا کر رہے ہو ، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی حالت میں طلوع ہو کہ تم غفلت کا شکار ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیی بن یعلی ہے ، اور وہ معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3356
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3357
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَضْلٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن رباح نے ، ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کر لی ، پھر ایک شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے ملاحظہ کیا ، تو اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اہل کتاب اس لئے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، کہ اُن کی نماز کے لئے کوئی فصل نہیں ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3357
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3358
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، قَالَ : فَكُنَّا نُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَعِنْدَ غُرُوبِهَا ، وَنِصْفِ النَّهَارِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں سورج طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت اور نصف النہار کے وقت نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3358
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3359
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ وَتَطْلُعُ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ ، صَلُّوا بَيْنَ ذَلِكَ مَا شِئْتُمْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سورج طلوع ہونے کے وقت ، یا اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا نہ کرو ، کیونکہ وہ شیطان کے سینگ پر طلوع ہوتا ہے ، اور غروب ہوتا ہے ، اُن کے درمیان تم جب بھی چاہو ، نماز ادا کر لو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3359
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3360
عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد ، سورج غروب ہونے تک اور فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک ، نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3360
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3361
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ حِينَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حَتَّى تَرْتَفِعَ وَيَقُولَ : " إِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنِ شَيْطَانٍ ، وَيَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ حِينَ تُقَارِبُ الْغُرُوبَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہونے کے وقت نماز ادا کرنے سے منع کرتے تھے ، جب تک وہ بلند نہیں ہو جاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے : ” یہ شیطان کے سینگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے “ ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت نماز ادا کرنے سے بھی منع کرتے تھے ، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3361
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3362
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَيَأْتِيَ فِي كِتَابِ الْعِتْقِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : رات کے کون سے حصے میں زیادہ سنا جاتا ہے ( یعنی دعا یا عبادت جلدی قبول ہوتی ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کا آخری نصف حصہ ، پھر نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ایک نیزے یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا ، پھر نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سایہ نیزے جتنا ہو جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ، پھر نماز مقبول ہوتی ہے یہاں تک کہ سورج ایک نیزے یا دو نیزے جتنا رہ جائے ( یعنی غروب ہونے کے اتنا قریب ہو ) پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ حدیث آگے چل کر غلام آزاد کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3362
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3363
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا الشَّيْطَانُ فَإِذَا انْبَسَطَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلزَّوَالِ قَارَنَهَا فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْمَغِيبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَابَتْ فَارَقَهَا " فَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ لِصَفْوَانَ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سورج طلوع ہوتا ہے ، تو شیطان کا سینگ اس کے ساتھ مل جاتا ہے ، جب وہ طلوع ہو جاتا ہے ، تو وہ سینگ اس سے الگ ہو جاتا ہے پھر جب وہ زوال کے قریب ہوتا ہے ، تو وہ سینگ پھر اس کے ساتھ مل جاتا ہے ، جب وہ ڈھل جاتا ہے ، تو وہ سینگ اس سے الگ ہو جاتا ہے ، جب وہ غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے ، تو وہ سینگ اس کے ساتھ مل جاتا ہے ، جب وہ غروب ہو جاتا ہے ، تو وہ سینگ اُس سے الگ ہو جاتا ہے ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اوقات میں نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس سے پہلے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول وہ حدیث گزر چکی ہے ، جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3364
وَعَنْ أَبِي أَسِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عصر کے بعد ، نماز ادا نہیں کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فروہ بن ابوفروہ ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3365
وَعَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ قَالُوا : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ أَبِي سَعْدٍ الْهَرَوِيِّ فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
کریب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد یحیی بن منصور ابوسعد ہروی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3366
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نُهِينَا عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ أَبُو نُعَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہمیں سورج طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3366
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3367
وَعَنْ قَبِيصَةَ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ مِنَ الدَّهْرِ تَحْبِسُنَا عَنِ الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ : " لَا إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَهُوَ صَدُوقٌ فِي نَفْسِهِ صَحِيحُ الْكِتَابِ وَلَكِنَّهُ سَاءَ حِفْظُهُ وَقَبِلَ التَّلْقِينَ . ¤
محمد محی الدین
قبیصہ بن مہلب ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا : کہ کیا کوئی ایسا وقت بھی ہے ، جو ہمیں نماز ادا کرنے سے روک دیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! البتہ سورج طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت ( نماز ادا نہیں کی جائے گی ) کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ، اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے صدوق ہے ، اور تحریر میں مستند ہے ، لیکن حافظے کے اعتبار سے برا ہے ، وہ تلقین کو قبول کرتا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف