کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
حدیث نمبر: 3256
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : عیدین کے موقع پر ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) کھلی جگہ کی طرف جانا سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3256
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3257
وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ أَيْضًا قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ الصَّلَاةُ فِي الْجَبَّانِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ نماز عید کھلی جگہ پر ادا کی جائے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3257
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3258
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا فِي السُّوقِ يَوْمَ الْعِيدِ يَنْظُرُ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِمَا : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعِيدَيْنِ أَتَى وَسَطَ الْمُصَلَّى فَقَامَ فَنَظَرَ [ إِلَى ] النَّاسِ كَيْفَ يَنْصَرِفُونَ وَكَيْفَ سَمْتُهُمْ ثُمَّ يَقِفُ سَاعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ فِيهِمُ الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ فَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا عید کے دن آپ بازار میں کھڑے ہوئے تھے ، اور لوگوں کو گزرتے ہوئے ملاحظہ فرما رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے ان دونوں میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ عید کی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ عیدگاہ کے درمیان تشریف لے آئے اور کھڑے ہو کر لوگوں کو دیکھنے لگے کہ وہ کیسے واپس جا رہے ہیں اور ان کا طور طریقہ کیا ہے ؟ آپ کچھ دیر کھڑے رہے پھر آپ بھی واپس تشریف لے گئے “ ۔
امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان میں ایک راوی منکدر بن محمد بن منکدر ہے ، اس کو امام أحمد امام ابوداؤد اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3258
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3259
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيْنَا جَارِيَةٌ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ فِطْرٍ نَاشِرَةً شَعْرَهَا مَعَهَا دُفٌّ تُغَنِّي فَزَجَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِيهَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حسان بن ثابت کی کنیز ، عید کے دن ہمارے پاس آئی ، اس نے بال پھیلائے ہوئے تھے ، اور اس کے پاس دف تھی ، وہ گا رہی تھی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے ڈانٹا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلمہ ! اسے رہنے دو ، کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ، اور یہ ہماری عید ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3260
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ اللَّعَّابِينَ كَانُوا يَلْعَبُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قُلْتُ : هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْهَا ، وَلَا يُعْرَفُ عَمْرٌو وَلَا أَبُوهُ
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : کھیل کود کرنے والے لوگ کھیل کود کر رہے ہوتے تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح عمرو بن عطیہ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ، عمرو اور اُس کے باپ کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3261
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ [ بْنِ عَفَّانَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ عُثْمَانُ ] فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّذِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَاكْتَسَبْتُمُوهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہو گیا ، اس وقت مدینہ منورہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکلے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، جس میں ہر رکعت میں دو مرتبہ رکوع کیا ، اور دو مرتبہ سجدہ کیا ، راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نماز ختم کی ، تو وہ اپنے گھر تشریف لے گئے ، جب کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھ گئے اور ہم بھی اُن کے پاس بیٹھ گئے ، انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ، جب تم دیکھو کہ انہیں گرہن لگ گیا ہے ، تو تم نماز کی طرف جاؤ ، کیونکہ اگر یہ وہ صورت حال ہوئی جس سے تم بچنا چاہ رہے ہو ، تو تم غفلت کی حالت میں نہیں ہو گے ، اور اگر وہ صورت حال نہ ہوئی ، تو تم بھلائی حاصل کر لو گے ، اور اسے کما لو گے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3262
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يس [ أ ] وَنَحْوَهَا ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ [ السُّورَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ الْ] سُورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ أَيْضًا [ قَدْرَ السُّورَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا ] حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَلِكَ فَعَلَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : راوی بیان کرتے ہیں : سورج گرہن ہوا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں سورت یسین اور اس جیسی سورت کی تلاوت کی ، پھر وہ رکوع میں گئے اور اتنی دیر رکوع میں رہے ، جتنی دیر انہوں نے تلاوت کی تھی ، پھر انہوں نے اپنے سر کو اٹھایا اور «سمع الله لِمَنْ حَمِدَه» پڑھا ، اور پھر اتنی دیر تک کھڑے ہوئے دعا کرتے رہے ، اور تکبیر کہتے رہے ، جتنی دیر انہوں نے اس سورت کی تلاوت کی تھی ، پھر وہ رکوع چلے گئے اور وہ رکوع بھی اُن کی قرأت جتنا تھا ، پھر انہوں نے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه» کہا: ، پھر وہ اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر میں اس سورت تلاوت ہوتی ہے ، پھر وہ رکوع میں اتنی دیر تک گئے یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ رکوع کیا ، پھر انہوں نے «سمع اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه» پڑھا اور پھر سجدے میں چلے گئے ، پھر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے ، تو انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی ، جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی ، پھر وہ بیٹھ کر دعا کرتے رہے ، اور رغبت کا اظہار کرتے رہے ، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا ، پھر انہوں نے لوگوں کو بتایا : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3263
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ [ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلَا وَإِنَّهُمَا لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا كَذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ " ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بَعْضَ الذَّارِيَاتِ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا نتقال ہوا ، تو سورج گرہن ہو گیا ، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ہیں ، اُن کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، خبردار ! یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو ، تو مساجد کی طرف آ جاؤ ! “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور سورت الذاریات کا کچھ حصہ تلاوت کیا پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے دو مرتبہ سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ویسا ہی کیا جس طرح آپ نے پہلی رکعت میں کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ورجالہ رجال الصحیح۔
حدیث نمبر: 3264
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْخُسُوفِ فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنْ قَوْلِهِ : فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ حَرْفًا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز خسوف ادا کی ، تو میں نے آپ کے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک حرف بھی نہیں سنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حرف بھی نہیں سنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3265
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ عَلِيٌّ فَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ : مَا صَلَّاهَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدٌ غَيْرِي رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَلِيٍّ مِنْ مُسْنَدِ أَحْمَدَ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : سورج گرہن ہوا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے پانچ مرتبہ رکوع کیا اور دو مرتبہ سجدہ کیا پھر انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی ، پھر یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ، یہ نماز میرے علاوہ اور کسی نے ادا نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس سے پہلے مسند أحمد میں مذکور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3266
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ " فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ أَوَّلَ الْبَابِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس دن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، سورج گرہن ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک چاند اور سورج ، یہ دونوں نشانیاں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، جو باب کے آغاز میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حسان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواھدہ
حدیث نمبر: 3267
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا " رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جب تم انہیں ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو ، تو اس نماز کی مانند نماز ادا کرو ، جو نماز تم نے سب سے قریب ترین ادا کی تھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبدالرحمن بن ابولیلی نامی راوی نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع، ورجالہ ثقات۔
حدیث نمبر: 3268
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ : لَا يَرْكَعُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ : لَا يَرْفَعُ مِنْ طُولِ الرُّكُوعِ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ كَنَحْوِ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِي الْأُخْرَى عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَرَوَى الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ مِنْ رِوَايَةِ قَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عظیم شخصیت کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ نے طویل قیام کیا ، یہاں تک کہ آپ کے طویل قیام کی وجہ سے یہ بات کہی گئی کہ آپ شاید رکوع میں نہیں جائیں گے ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، اور طویل رکوع کیا ، یہاں تک کہ آپ کے طویل رکوع کی وجہ سے یہ کہا: گیا : کہ آپ رکوع سے اٹھیں گے نہیں ، پھر آپ اُٹھے تو طویل قیام کیا ، جو آپ کے پہلے والے قیام جتنا تھا ، پھر آپ نے رکوع کیا تو طویل رکوع کیا ، جو آپ کے پہلے رکوع جتنا تھا ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، یوں آپ نے چار رکوع کیے اور چار سجدے کیے ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جب تم ان دونوں کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو ، تو نماز کی طرف آ جاؤ ! “
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کی سند میں مسلم بن خالد نامی راوی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، جب کہ دوسری سند میں علی بن فضل ہے ، اور وہ متروک ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے وہ حصہ نقل کیا ہے ، جو قاسم بن محمد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے : ” بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، جب تم ان دونوں کو دیکھو ، تو نماز ادا کرو ! “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، البتہ اصل متن صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہونے کی وجہ سے صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3269
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ كَمَا قَرَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ كَمَا رَكَعَ ثُمَّ رَكَعَ كَمَا قَرَأَ ، فَصَنَعَ ذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ إِلَى الثَّانِيَةِ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَمْ يَقْرَأْ بَيْنَ الرُّكُوعِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى فِيهِ كَلَامٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر نماز ادا کی ، آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے تکبیر کہی پھر آپ نے تلاوت کی ، پھر آپ رکوع میں گئے ، اور اتنی دیر رہے جتنی دیر آپ نے تلاوت کی تھی ، پھر آپ اُٹھے اور اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر آپ نے رکوع کیا تھا ، پھر آپ رکوع میں گئے اور اتنی دیر رہے جتنی آپ نے تلاوت کی تھی ، ایسا آپ نے چار مرتبہ کیا ، یہ سجدے میں جانے سے پہلے کی بات ہے ، پھر آپ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے ، تو آپ نے وہ رکعت بھی اسی طرح ادا کی آپ رکوع کے درمیان قرأت کرتے رہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3270
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْكُمْ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يَسْتَعْتِبُ بِهِمَا عِبَادَهُ لِيَنْظُرَ مَنْ يَخَافُهُ وَمَنْ يَذْكُرُهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ فَاذْكُرُوهُ " رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند ، تم میں سے کسی ایک کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ کرتا ہے ، تاکہ اس بات کو ظاہر کرے کہ کون اس سے ڈرتا ہے ، اور اس کا ذکر کرتا ہے ، جب تم یہ صورت حال دیکھو ، تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ اور اس کا ذکر کرو !“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
حدیث نمبر: 3271
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : سِحْرُ الشَّمْسِ فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ فَإِنْ كَانَ هُوَ التُّسْتَرِيَّ فَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَا أَعْرِفُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، لوگوں نے کہا: سورج پر جادو کیا گیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” قیامت قریب آ گئی ہے ، چاند دو ٹکڑے ہو گیا ہے ، اگر وہ کوئی آیت دیکھتے ہیں ، تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : یہ جاری رہنے والا جادو ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن زکریا ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے ، اگر وہ تستری ہے ، تو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3272
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِشَيْءٍ تُحْدِثُونَهُ وَلَكِنَّ ذَلِكُمْ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ يَشْكُرُ مَنْ يَخَافُهُ وَمَنْ يَذْكُرُهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ بَعْضَ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ فَاذْكُرُوهُ وَاخْشَوْهُ " وَكَانَ صَلَّى لَنَا يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ وَعَظَنَا وَذَكَّرَنَا ثُمَّ قَالَ : " مَا رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فِي الدُّنْيَا لَهُ لَوْنٌ وَلَا نُبِّئْتُمْ بِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا فِي النَّارِ إِلَّا قَدْ صُوِّرَ لِي فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمْ صَلَاتِي هَذِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ مُصَوَّرًا فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے کی وجہ سے ، یا کسی اور واقعہ کے رونما ہونے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، ، جن کے ذریعے اللہ کے بندے عبرت حاصل کرتے ہیں ، جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ، اور شکر کرتا ہے ، اور اس کا ذکر کرتا ہے ، جب تم اللہ تعالیٰ کی نشانی کو دیکھو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف چلے جاؤ ، اس کا ذکر کرو اور اس سے ڈرو ! “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سورج گرہن ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی ، پھر یہ بات ارشاد فرمائی : ” دنیا میں جو بھی چیز تم نے دیکھی ، جس کا کوئی رنگ ہو ، یا جنت کے بارے میں ، یا جہنم کے بارے میں ، یا جس چیز کے بارے میں تمہیں بتایا گیا ، تو وہ اس دیوار پر میرے سامنے تصویر کی شکل میں پیش کی گئی ، جب سے میں تمہیں نماز پڑھا رہا تھا ، تو میں نے مسجد کی دیوار میں اس کی تصویر دیکھ لی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں ضعیف راوی موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه سمرة ما اسند سمرة بن جندب سليمان بن سمرة عن ابيه حديث 6902»
حدیث نمبر: 3273
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ مِنْ - أَهْلِ الْبَصْرَةِ - قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي عَرْضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ اسْوَدَّتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا مُؤْمَةٌ قَالَ : [ فَقَالَ ] أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا قَالَ : فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ قَالَ : وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ قَالَ : فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ ؟ ( فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ ؟ ) قَالَ : فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ ( ثُمَّ سَكَتُوا ) ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُوهُ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى - لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَخْرُجُ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ - وَقَالَ حَسَنٌ : بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ - وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ - أَوْ قَالَ : سَوْفَ يَظْهَرُ - عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يَحْضُرُ الْمُؤْمِنُونَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى أَنَّ جَذْمَ الْحَائِطِ - أَوْ قَالَ : أَصْلَ الْحَائِطَ - قَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَتُنَادِي - أَوْ قَالَ : تَقُولُ : - يَا مُؤْمِنُ - أَوْ قَالَ : يَا مُسْلِمُ - هَذَا يَهُودِيٌّ - أَوْ قَالَ هَذَا كَافِرٌ - تَعَالَ فَاقْتُلْهُ قَالَ : وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ وَتَسْأَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا ؟ وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " قَالَ : ثُمَّ شَهِدَ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا قُلْتُ : فِي السُّنَنِ بَعْضُهُ فِي الْكُسُوفِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : " وَأَنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ " وَقَالَ أَيْضًا : قَالَ الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ : وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : " فَيُصْبِحُ فِيهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَهْزِمُهُ اللَّهُ وَجُنُودَهُ " ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ قَالَ التِّرْمِذِيُّ فِيمَا رَوَاهُ مِنْهُ : حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
محمد محی الدین
ثعلبہ بن عباد عبدی ، جن کا تعلق اہل بصرہ سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھا ، انہوں نے اس خطبے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی : انہوں نے بیان کیا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ، ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا ، نشانہ بازی کر رہے تھے ، یہاں تک کہ سورج دیکھنے والے کی نظر میں دو نیزوں ، یا تین نیزوں جتنا ہو گیا ، وہ سیاہ ہو گیا تھا اور ” مومتہ “ ( یہاں مسند أحمد میں لفظ ” تنومۃ “ تحریر ہے اور اس سے مراد ایک مخصوص نباتات ہے ) کی طرح لگتا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی ہم دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کہ ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں ، اللہ کی قسم ! سورج کے اس معاملے کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ضرور کوئی نئی بات پیش آئے گی ، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد کی طرف گئے ، تو ہم نے یہ بات پائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف تشریف لائے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگئے بڑھے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جو طویل ترین نماز تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اپنی طویل نماز کبھی نہیں پڑھائی تھی ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دی ، پھر آپ سجدے میں چلے گئے اور وہ سب سے طویل سجدہ تھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی نماز میں ہمیں کروایا ہو ، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دی تھی ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے بعد بیٹھے ہوئے تھے ، تو اسی دوران سورج روشن ہو گیا ، زہیر نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا ، آپ نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی ، اور اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کے تبلیغ کے حوالے سے کوئی کوتاہی کی ہے ، تو تم مجھے بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ میں نے اپنے پروردگار کا پیغام اسی طرح تبلیغ کر دیا ہے ، جس طرح اس کی تبلیغ کی جانی چاہیے تھی ، اور اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ہے ، تو تم مجھے اس بارے میں بتا دو ! “ راوی بیان کرتے ہیں : تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہ بات کہی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ، اپنی امت کی خیرخواہی کی ، اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کیا ، پھر وہ لوگ خاموش ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں اس سورج کا گرہن ہونا یا چاند کا گرہن ہونا ، یا ستاروں کا اپنی جگہ سے زائل ہو جانا ، زمین پر موجود بڑے لوگوں کے مرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ، ایسے لوگ غلط کہتے ہیں : بلکہ ایسی چیزیں ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالی کے بندے عبرت حاصل کرتے ہیں ، اور اللہ تعالی یہ بات دیکھتا ہے کہ ان بندوں میں سے کون توبہ کرتا ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب میں کھڑا ہوا یہاں نماز ادا کر رہا تھا ، تو میں نے ہر اس چیز کو دیکھ لیا جس کا سامنا تم لوگ دنیا میں کرو گے اور آخرت میں کرو گے ، اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک تیس کذاب نہیں نکلیں گے ، جن میں سے آخری ” کانا دجال ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ پر پھیرا گیا ہو گا ، وہ ابویحی کی آنکھ کی مانند ہو گئی ، یہ بات آپ نے ایک عمر رسیدہ شخص کے بارے میں کہی ، جس کا تعلق انصار سے تھا ، اور وہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان موجود تھا ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جب وہ نکلے گا ، تو وہ یہ کہے گا : کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے ، جو شخص اس پر ایمان لائے گا ، اس کی تصدیق کرے گا ، اس کی پیروی کرے گا ، اس کا پہلے والا کوئی عمل اسے فائدہ نہیں دے گا ، جو شخص اس کا کفر کرے گا ، اُسے جھٹلائے گا ، اس کے کسی عمل پر اس کا مواخذہ نہیں ہو گا ، یہاں پر حسن نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے : وہ عنقریب ظاہر ہو گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ) وہ پوری روئے زمین پر غلبہ حاصل کر لے گا ، صرف حرم اور بیت المقدس پر حاصل نہیں کر سکے گا ، اُس وقت اہل ایمان بیت المقدس میں اکھٹے ہوں گے ، وہاں ایک زبردست زلزلہ آئے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس ( رجال ) کو ہلاک کر دے گا ، یہاں تک کہ ایک دیوار کی جڑ ( یہاں پر ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) درخت کی جڑ ، پکار کر یہ کہے گی : اے مؤمن ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے مسلمان ! یہ یہودی ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ کافر ہے ، تم آگے آؤ ، اور اسے قتل کر دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک تم کچھ اور امور نہیں دیکھو گے ، جن کے بارے میں تمہیں اپنے ذہن میں الجھن ہو گی ، اور تم ایک دوسرے سے اس کے بارے میں دریافت کرو گے کہ کیا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی چیز کا ذکر کیا تھا ؟ اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے ، پھر اُس کے بعد قبض کیا جانا ہو گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد وہ پھر ایک مرتبہ سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں شریک ہوئے ، جس میں انہوں نے یہ بات بیان کی تو انہوں نے اس میں نہ تو کوئی بات آگے کی ، اور نہ ہی کوئی کلام اپنی جگہ سے پیچھے کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سن “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، جو سورج گرہن کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” عنقریب وہ حرم اور بیت المقدس کے علاوہ پوری روئے زمین پر غلبہ حاصل کر لے گا “ ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے ، اسود بن قیس بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات کہی تھی : ” تو اُن لوگوں کے درمیان سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تشریف لائیں گے ، تو وہ دجال اور اس کے لشکر کو ختم کر دیں گے “ ۔ اس کے بعد باقی حدیث حسب سابق ہے ، امام ترمذی نے اس میں سے جو حصہ نقل کیا ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن اور امام ترمذی کے بقول یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3274
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّاسُ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو سورج گرہن ہو گیا ، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے یا جینے پر گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم انہیں ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو ، تو نماز کی طرف جاؤ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، سعید بن اسد بن موسیٰ نامی راوی کا ذکر امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور اس کے متن کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
حدیث نمبر: 3275
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : انْكَسَفَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ قُلْتُ : حَدِيثُهُ الَّذِي رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَهَذَا فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ وَلَمْ يُتِمَّ هَذَا وَلَكِنْ أَحَالَهُ عَلَيْهِ - وَفِي إِسْنَادِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چاند گرہن ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے ابن جریج کی نقل کردہ حدیث کی مانند روایت نقل کی ہے :
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ان کی حدیث وہ ہے ، جسے ابن جریج نے سورج گرہن کے بارے میں نقل کیا ہے ،
یہ روایت چاند گرہن کے بارے میں ہے ، انہوں نے اسے مکمل نہیں کیا ، بلکہ ان کی طرف منسوب کر دیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3275
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3276
وَعَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سُفْيَانَ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ فَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا فَإِذَا قَامَتْ قَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ فَقَالَ : " كَذَبَتْ إِنَّمَا ذَلِكَ لِأَهْلِ الْكِتَابِ " فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يَقُولُ فِيهِمَا مِثْلَ قِيَامِهِ وَيَرْكَعُ مِثْلَ رُكُوعِهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا التَّابِعِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
موسیٰ بن عبدالرحمن نے اُم سفیان کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ایک یہودی عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئی اور ان کے پاس بات چیت کرنے لگی ، جب وہ اُٹھ کر جانے لگی ، تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے غلط کہا: ہے ، یہ اہل کتاب کے لئے ہے ( یعنی انہیں عذاب قبر ہو گا ) پھر سورج گرہن ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، پھر آپ نے تکبیر کہی اور قیام کیا اور طویل قیام کیا اور رکوع کیا اور طویل رکوع کیا ، پھر اپنے سر کو اٹھایا اور کھڑے ہوئے تو طویل قیام کیا پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا ، لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا ، پھر آپ نے دو رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ دو رکعات ادا کیں ، ان دونوں میں آپ کا قیام اتنا ہی تھا ، اور رکوع آپ کے رکوع جتنا ہی تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے موسیٰ بن عبدالرحمن نامی راوی تابعی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3276
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3277
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ رِيحٍ شَدِيدَةٍ كَانَ مَفْزَعُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى تَسْكُنَ الرِّيحُ ، وَإِذَا حَدَثَ فِي السَّمَاءِ حَدَثٌ مِنْ خُسُوفِ شَمْسٍ أَوْ قَمَرٍ كَانَ مَفْزَعُهُ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى تَنْجَلِيَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ زِيَادِ بْنِ صَخْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب شدید ہوا والی رات ہوتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لے آتے تھے ، جب تک ہوا رک نہیں جاتی تھی ، اور جب آسمان میں کوئی چیز رونما ہوتی تھی ، جیسے سورج یا چاند گرہن ہو جاتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے تھے ، جب تک وہ ختم نہیں ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں زیاد بن صخر کی سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3277
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف