کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عید سے پہلے اور اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3230
عَنْ أَيُّوبَ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ : وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
ایوب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حسن بصری کو دیکھا ہے کہ وہ عید کے دن امام کے آنے سے پہلے ( نفل ) نماز ادا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن سیرین کو دیکھا ہے کہ وہ آ کر بیٹھ گئے تھے انہوں نے ( نفل نماز ) ادا نہیں کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ نقل کیا ہے : کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چار رکعات ادا کی تھیں ۔ امام ابویعلیٰ کی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3230
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے راوی صحیح بخاری ومسلم کے راوی ہیں۔
حدیث نمبر: 3230
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : أَنَّ أَنَسًا كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
امام طبرانی رحمہ اللہ نے (المعجم) الکبیر میں روایت کیا ہے : ” سیدنا انس رضی اللہ عنہ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے “ ، اور (مسند) ابویعلیٰ کے راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3230
حدیث نمبر: 3231
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَقَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ ثَمَانٍ وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا مُرْسَلَةٌ
محمد محی الدین
ابن سیرین اور قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد چار ، یا شاید آٹھ رکعات ادا کی تھیں ، وہ اس ( یعنی نماز عید ) سے پہلے نوافل ادا نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مستند اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم یہ روایت مرسل ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3231
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
حدیث نمبر: 3232
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الصَّلَاةُ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : عید کے دن امام کے آنے سے پہلے نفل پڑھنا سنت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله من اسمه عقيل الاسود بن هلال 14528»
حدیث نمبر: 3233
وَعَنْ فَائِدٍ أَبِي الْوَرْقَاءِ قَالَ : قُدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى إِلَى الْجَبَّانِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ : أَدْنِنِي مِنَ الْمِنْبَرِ فَأَدْنَيْتُهُ فَجَلَسَ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ، وَأَخْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفَائِدٌ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
فائدہ ابوورقاء بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر عید کے دن میدان کی طرف جا رہا تھا انہوں نے فرمایا : تم مجھے منبر کے قریب لے جانا ، جب میں نے انہیں قریب کر دیا تو وہ بیٹھ گئے اور انہوں نے نماز عید سے پہلے ، یا اس کے بعد نوافل ادا نہیں کیے ، اور یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے یا اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے فائد نامی راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3234
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ كَانَا يَنْهَيَانِ النَّاسَ - أَوْ قَالَ - يُجْلِسَانِ مَنْ يَرَيَاهُ يُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ [ فِي الْعِيدِ ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ : أُنْبِئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو منع کرتے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان افراد کو بٹھا دیتے تھے ، جنہیں وہ امام کے آنے سے پہلے نوافل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے ایسا عید کے دن ہوتا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض میں یہ بات مذکور ہے : مجھے یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ( ایسا کرتے تھے ) تو
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ولکنہ مرسل۔
حدیث نمبر: 3235
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى فَجَلَسَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْإِمَامُ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى انْصَرَفَ الْإِمَامُ وَالنَّاسُ ذَاهِبُونَ كَأَنَّهُمْ عُنُقٌ نَحْوَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ : أَلَا تَرَى ؟ فَقَالَ : هَذِهِ بِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةٍ : إِنَّ كَثِيرًا مِمَّا نَرَى جَفَاءٌ وَقِلَّةُ عِلْمٍ ، إِنَّ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ سُبْحَةُ هَذَا الْيَوْمِ حَتَّى تَكُونَ هَذِهِ الصَّلَاةُ تَدْعُوكَ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ
محمد محی الدین
عبدالملک بن کعب بن عجرہ بیان کرتے ہیں : میں عید کے دن سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ کی طرف گیا ، وہ امام کے آنے سے پہلے بیٹھ گئے ، اور انہوں نے ( کوئی نفل نماز ) ادا نہیں کی ، یہاں تک کہ امام اور لوگوں نے نماز عید ادا کر لی ، تو وہ لوگ مسجد کی طرف یوں روانہ ہوئے ، جیسے وہ ” عنق “ ( شاید یہاں مراد ہر اول دستہ ہے ) ہوں ، میں نے کہا: کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ بدعت ہے ، اور سنت کو ترک کرنا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : بہت سی چیزیں جو ہم دیکھتے ہیں ، وہ زیادتی ہوتی ہیں ، اور علم کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہیں ، آج کے دن میں یہ دو رکعات ہی نفل ہیں ، یہاں تک کہ یہی نماز تمہیں بلائے ( یعنی تمہیں صرف اسی نماز کی ادائیگی کے لیے آنا چاہیے ) ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، عبدالملک کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3236
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَسَأَلَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا ثُمَّ جَاءَ قَوْمٌ فَسَأَلُوا كَمَا سَأَلُوهُ - الَّذِينَ كَانُوا قَبْلَهُمْ - فَمَا رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّلَاةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ فَكَبَّرَ سَبْعًا وَخَمْسًا ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ نَزَلَ فَرَكِبَ فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ يُصَلُّونَ ؟ قَالَ : فَمَا عَسَيْتُ أَنْ أَصْنَعَ ؟ سَأَلْتُمُونِي عَنِ السُّنَّةِ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَمَنْ شَاءَ فَعَلَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ أَتَرَوْنِي أَمْنَعُ قَوْمًا يُصَلُّونَ فَأَكُونُ بِمَنْزِلَةِ مَنْ مَنَعَ عَبْدًا إِذَا صَلَّى ؟ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قُلْتُ : وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین
ولید بن سریع بیان کرتے ہیں : ہم لوگ امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عید کے دن ( نماز عید کی ادائیگی کے لئے نکلے ) آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے آپ سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! عید کے دن نماز عید سے پہلے ، یا اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ، پھر کچھ اور لوگ آئے انہوں نے بھی پہلے لوگوں کی مانند سوال کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کوئی جواب نہیں دیا ، جب ہم عیدگاہ پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سات اور پانچ تکبیریں کہیں ، پھر انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر منبر سے نیچے اترے اور سوار ہو گئے ، لوگوں نے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! یہ کچھ لوگ ( نفل ) نماز ادا کر رہے ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں کیا کر سکتا ہوں ؟ تم لوگوں نے مجھ سے سنت کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے پہلے ، یا اس نماز کے بعد کوئی نفل نماز ادا نہیں کی ہے ، جو شخص چاہے وہ ایسا کرے اور جو شخص چاہے وہ اسے ترک کر دے ، کیا تم لوگ میرے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو ؟ کہ میں نماز پڑھنے والوں کو منع کروں گا ، اور میں اس شخص کی مانند ہو جاؤں گا ( جس کا ذکر قرآن میں ہے ) کہ اس نے بندے کو روکا ، جب وہ نماز پڑھ رہا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3237
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مَاشِيًا يُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : يُصَلِّي بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز کے لئے پیدل چل کر جاتے تھے اور آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز عید ادا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام این ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” آپ اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبداللہ بن ابورافع کے حوالے سے نقل کی ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” اثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3237
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد فی الصحیحین
حدیث نمبر: 3238
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي يَوْمِ الْأَضْحَى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَخَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ مَالَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى كَثُرَ مَعَ بِلَالٍ الْمَتَاعُ قُلْتُ : لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کی ، پھر آپ نے مردوں کو خطبہ دیا ، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے انہیں خطبہ دیا اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دی ، یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا سامان اکٹھا ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ اور دوسری کتابوں میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ
حدیث نمبر: 3239
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَكَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجِلْسَةٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وِجَادَةً ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کے بغیر عید کی نماز ادا کی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خطبے ارشاد فرمائے تھے ، جن کے درمیان آپ نے بیٹھ کر فصل کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3239
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3240
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمَا رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز میں دو رکعات ادا کرتے تھے آپ ان دونوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے ، مزید کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں شہر بن حوشب راوی ضعیف ہے، نیز یہ روایت دیگر صحیح اور مستند احادیث کے معارض
حدیث نمبر: 3241
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكِ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں سورت الاعلیٰ اور سورت الغاشیہ کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3242
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بِعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں سورت عم یتسائلون او سورت والشمس کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3243
عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْجَهْرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
حارث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے : عید کی نماز میں بلند آواز سے تلاوت کرنا سنت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حارث نامی راوی ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3243
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3244
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُخْرَجُ لَهُ الْعَنَزَةُ فِي الْعِيدَيْنِ حَتَّى يُصَلِّيَ إِلَيْهَا ، وَكَانَ يُكَبِّرُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - يَفْعَلَانِ ذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَجَلِيُّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَقَدْ ذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ لِلتَّمْيِيزِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدین کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک نیزہ لے جایا جاتا تھا ، جس کی طرف رُخ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے تھے ، آپ تیرہ تکبیریں کہتے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حماد بجلی ہے ، اسے کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ، اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ، مزی نے اس کا ذکر امتیاز کے لئے کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3244
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3245
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً فِي الْأُولَى سَبْعًا وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا ، وَكَانَ يَذْهَبُ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نمازوں میں بارہ تکبیریں کہا: کرتے تھے ، پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے ، اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ، آپ ایک راستے سے تشریف لے جاتے تھے ، اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3245
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح لوجود شاهدٍ له
حدیث نمبر: 3246
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ وَعَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالنَّاسِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَكَبَّرَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى سَبْعًا وَقَرَأَ : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ، وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا وَقَرَأَ : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي وَاقِدٍ فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الْقِرَاءَةُ خَالِيَةٌ عَنِ التَّكْبِيرِ ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا الْقِرَاءَةَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتیں ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن عید کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہی تھیں اور سورت ق کی تلاوت کی تھی ، جب کہ دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ، اور سورت اقتربت الساعۃ کی تلاوت کی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، اور اس میں تلاوت کا ذکر ہے ، تکبیر کا ذکر نہیں ہے ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ، اور انہوں نے قرأت کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3246
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ؛ قراءت کا حصہ صحیح مسلم
حدیث نمبر: 3247
وَعَنْ كُرْدُوسٍ قَالَ : أَرْسَلَ الْوَلِيدُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَأَبِي مَسْعُودٍ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَقَالَ : إِنَّ هَذَا عِيدٌ لِلْمُسْلِمِينَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ ؟ فَقَالُوا : سَلْ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ! فَسَأَلَهُ فَقَالَ : يَقُومُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا يَرْكَعُ فِي آخِرِهِنَّ فَتِلْكَ تِسْعٌ فِي الْعِيدَيْنِ ، فَمَا أَنْكَرَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
کردوس بیان کرتے ہیں : ولید نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو شام ہو جانے کے بعد پیغام بھیجا ؟ اُس نے کہا: اب مسلمانوں کی عید آ گئی ہے ، تو نماز کیسے ادا کی جائے ؟ تو ان حضرات نے کہا: تم ابوعبدالرحمن ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سوال کرو ! اس نے اُن سے سوال کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کھڑا ہو کر چار تکبیریں کہے گا ، پھر سورت فاتحہ کی اور مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی ایک سورت کی تلاوت کرے گا ، پھر وہ چار تکبیریں کہے گا ، جن میں سے آخری تکبیر کے ساتھ وہ رکوع میں چلا جائے گا ، تو یہ عیدین میں نو تکبیریں ہوں گی ، تو اُن حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3247
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3248
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى فِي عَرْصَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْوَلِيدُ : إِنَّ الْعِيدَ قَدْ حَضَرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : تَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَحْمَدُ اللَّهَ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو اللَّهَ ثُمَّ تُكَبِّرُ اللَّهَ وَتَحْمَدُهُ وَتُثْنِي عَلَيْهِ وَتُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَدْعُو ، ثُمَّ كَبِّرْ وَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ كَبِّرْ وَارْكَعْ وَاسْجُدْ ثُمَّ قُمْ فَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ كَبِّرْ وَاحْمَدِ اللَّهَ وَاثْنِ عَلَيْهِ وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَادْعُ ثُمَّ كَبِّرْ ، وَاحْمِدِ اللَّهَ ، وَأَثْنِ عَلَيْهِ ، وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] وَارْكَعْ وَاسْجُدْ قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مُوسَى : أَصَابَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكْ وَاحِدًا مِنْ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ مسجد میں داخل ہوا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری مسجد کے صحن میں موجود تھے ، ولید نے کہا: عید آ گئی ہے ، تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : اللہ اکبر ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو ، اُس کی ثنا بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو ! اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ، اس کی حمد بیان کرو ، اس کی ثناء بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو ! پھر تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ، اس کی حمد بیان کرو ، اس کی ثناء بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو ! اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، پھر تم اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ، اس کی حمد بیان کرو ، اس کی ثناء بیان کرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور دعا کرو ! پھر تم تکبیر کہو اور سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر تم تکبیر کہو اور رکوع میں چلے جاؤ اور سجدہ کرو پھر تم اٹھو اور سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر تکبیر کہو اس کی حمد بیان کرو اس کی ثناء بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو پھر تکبیر کہو اس کی حمد بیان کرو اس کی ثناء بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور رکوع میں چلے جاؤ اور سجدہ کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابراہیم نامی راوی نے ان صحابہ کرام میں سے کسی کا زمانہ بھی نہیں پایا ہے ،
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل ورجالہ ثقات۔
حدیث نمبر: 3249
وَعَنْ كُرْدُوسٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ تِسْعًا تِسْعًا يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَاحِدَةً فَيَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فَيَبْدَأُ فَيَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا يَرْكَعُ بِإِحْدَاهُنَّ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
کردوس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز میں نو ، نو تکبیریں کہتے تھے ، وہ سب سے پہلے آغاز میں چار تکبیریں کہتے تھے ، پھر تلاوت کرتے تھے ، پھر ایک تکبیر کہتے تھے ، اور اس کے ذریعے رکوع میں چلے جاتے تھے ، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوتے تھے ، تو پہلے تلاوت کرتے تھے پھر چار تکبیریں تھے ، اور ان میں سے ایک تکبیر کے ذریعے وہ رکوع میں چلے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3249
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 3250
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ قَدْرَ كَلِمَةٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک کلمے جتنا وقفہ ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3250
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3251
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ أَرْبَعًا كَالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عیدین میں ، نماز جنازہ کی طرح چار تکبیریں کہی جائیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3251
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، عبد الله بن مسعود الهذلي باب حديث 9365»
حدیث نمبر: 3252
عَنْ أَبِي طَرَفَةَ عَبَّادِ بْنِ الرَّيَّانِ اللَّخْمِيِّ الْحِمْصِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ وَهُوَ فِي قَرْيَةٍ عَلَى أَمْيَالٍ مِنْ حِمْصَ يَوْمَ عِيدٍ فَقُلْنَا : اخْرُجْ فَصَلِّ بِنَا الْعِيدَ فَقَالَ : لَا ، صَلُّوا فُرَادَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو طَرَفَةَ لَا أَعْرِفُهُ
محمد محی الدین
ابوطرفہ عباد بن ریان لخمی حمصی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، جو حمص سے چند میل دور ایک گاؤں میں رہتے تھے ، یہ عید کے دن کی بات ہے ، ہم نے کہا: آپ تشریف لے جائیں اور ہمیں عید کی نماز پڑھائیں انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! تم لوگ اکیلے ، اکیلے نماز ادا کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوطرفہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3252
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3253
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : مَنْ فَاتَتْهُ الْعِيدُ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص کی عید کی نماز فوت ہو جائے ، وہ چار رکعات ادا کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3253
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ورجالہ ثقات۔
حدیث نمبر: 3254
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ يَوْمَ الْعِيدِ عَلَى رَاحِلَتِهِ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن اپنی سواری پر موجود رہ کر خطبہ دیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3254
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3255
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُمَرَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : لَقِيتُ وَاثِلَةَ يَوْمَ عِيدٍ فَقُلْتُ : تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ فَقَالَ : [ نَعَمْ ] تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَحَبِيبٌ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین
حبیب بن عمر انصاری بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : عید کے دن میری ملاقات سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری اور آپ کی طرف سے قبول فرمائے ، تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ تمہاری اور ہماری طرف سے قبول فرمائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، حبیب نامی راوی کے بارے میں امام ذہبی نے یہ کہا: ہے : کہ یہ مجہول ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس کے والد سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3255
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف