کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عید الفطر کے دن ( نماز کے لئے ) نکلنے سے پہلے کچھ کھانا

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

حدیث نمبر: 3209
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ : فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ فَقُلْتُ : عَلَى مَا تَأَوَّلَ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ : نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر تم سے ہو سکے ، تو تم عیدالفطر کے دن کچھ کھانے سے پہلے ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) نہ نکلنا ، عطاء فرماتے ہیں : جب سے میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی زبانی یہ بات سنی ہے ، میں نکلنے سے پہلے ضرور کچھ کھا لیتا ہوں ، یہاں تک کہ میں باریک روٹی کا کنارہ کھا لیتا ہوں ، دودھ ، یا پانی پی لیتا ہوں ، میں نے دریافت کیا : اُن کا اس کے ذریعے مقصد کیا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا : میرا خیال ہے کہ میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” وہ لوگ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے ، جب تک دن چڑھ نہیں جاتا تھا اور وہ لوگ یہ کہتے تھے : ہم کچھ کھا لیتے ہیں ، تاکہ ہمیں اپنی نماز کے دوران کوئی پریشانی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3210
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ وَيَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْوَاقِدِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَفِيمَا قَبْلَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اُن کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن ( نماز کے لئے ) جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے ، اور لوگوں کو بھی اس بات کا حکم دیتے تھے “ ۔ امام طبرانی کی سند میں ، ایک راوی واقدی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس سے پہلے عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اس کے بارے میں بھی کلام کیا گیا ہے ، ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «مسند ابي يعلى الموصلى من مسند ابي سعيد الخدري ، 1316 المعجم الاوسط للطبراني باب العين من اسمه عبد الله 4606»
حدیث نمبر: 3211
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَطْعَمَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى تُخْرِجَ الصَّدَقَةَ وَتَطْعَمَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ تم ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) نکلنے سے پہلے کچھ کھا لو ، خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُن کے الفاظ یہ ہیں : ” سنت یہ ہے کہ تم عیدالفطر کے دن ، اُس وقت تک نہ نکلو ، جب تک تم صدقہ فطر ادا نہیں کر دیتے اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا نہیں لیتے “ ۔ امام طبرانی کی سند حسن ہے ، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3212
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ أَكَلَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ أَضْحَى لَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَائِكُ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدالفطر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لئے ) جانے سے پہلے سات کھجوریں کھایا کرتے تھے ، لیکن عیدالاضحی کے دن آپ ( نماز سے پہلے ) کچھ نہیں کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ ناصح بن عبداللہ حائک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3213
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْعَمُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن ، عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے کچھ کھا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواھدہ
حدیث نمبر: 3214
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ ، وَكَانَ لَا يَطْعَمُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ ذَبِيحَتِهِ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : "فَيَأْكُلَ مِنْ ذَبِيحَتِهِ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اس وقت تک نہیں نکلتے تھے ، جب تک کچھ کھا نہیں لیتے تھے ، البتہ قربانی کے دن ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لانے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے ، اور ( نماز پڑھ کر آنے کے بعد ) ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نہیں کیے ہیں : ” آپ ذبیحہ کا گوشت کھاتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث حسن لغیرہ بشواھدہ
حدیث نمبر: 3215
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ وَمَعَهُ حَرْبَةٌ وَتُرْسٌ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو كُرْزٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نیزہ اور ڈھال ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3215
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، ولکن الحدیث صحیح لغیرہ
حدیث نمبر: 3216
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْقَرَظِ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْعِيدَيْنِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ : كَانَ إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْجُمُعَةِ حَدِيثٌ آخَرُ لَهُ مِنَ الْكَبِيرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عمار القرظ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : عیدین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمان کو پکڑ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے یہ روایت نقل کی ہے : ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے موقع پر خطبہ دیتے تھے ، تو کمان ہاتھ میں پکڑ کر خطبہ دیتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس سے پہلے جمعہ سے متعلق باب میں ایک اور حدیث گزر چکی ہے ، جو ان صحابی کے حوالے سے منقول ہے ، اور معجم کبیر میں نقل ہوئی ہے ، یہ دونوں روایات ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 3217
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ فِي الْعِيدِ وَيُخْرِجُ أَهْلَهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن تشریف لے جاتے تھے ، اور اپنے اہل خانہ کو بھی لے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3217
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
حدیث نمبر: 3218
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَدْ كَانَتْ تَخْرُجُ الْكَعَابُ مِنْ خُدُورِهِنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، عیدین کے موقع پر پردہ دار لڑکیاں بھی ( نماز کی ادائیگی کے لئے ) نکلتی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3218
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3219
وَعَنْ أَخْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " وَجَبَ الْخُرُوجُ عَلَى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : " يَعْنِي : فِي الْعِيدَيْنِ " وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ امْرَأَةٌ تَابِعِيَّةٌ لَمْ يُذْكَرِ اسْمُهَا
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی بہن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر بڑی عمر کی لڑکی پر نکلنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” عیدین کے موقع پر “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک تابعی خاتون ہے ، جن کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3219
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ جہالتِ راویہ، ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواھدہ
حدیث نمبر: 3220
وَعَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَخْرُجُ النِّسَاءُ فِي الْعِيدِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قِيلَ : فَالْعَوَاتِقُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا ثَوْبٌ تَلْبَسُهُ فَلْتَلْبَسْ ثَوْبَ صَاحِبَتِهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ حَدِيثَانِ غَيْرُ مَحْفُوظَيْنِ ، وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِي : ثِقَةٌ
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا عید کے موقع پر خواتین بھی نکلیں گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی ، لڑکیاں بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اگر کسی عورت کے پاس لباس ( یعنی سر پر اوڑھنے کے لیے چادر نہ ہو ) جسے وہ پہن سکتی ہو ، تو پھر وہ اپنی ساتھی عورت کی چادر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطیع بن میمون ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے دو حدیثیں منقول ہیں ، اور وہ دونوں محفوظ نہیں ہیں ، علی بن مدینی کہتے ہیں : وہ ” ثقہ “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3220
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، اس کا شاہد صحیح بخاری
حدیث نمبر: 3221
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ فِي الْخُرُوجِ إِلَّا مُضْطَرَّةً [ يَعْنِي ] لَيْسَ لَهَا خَادِمٌ ، إِلَّا فِي الْعِيدَيْنِ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ، وَلَيْسَ لَهُمْ نَصِيبٌ فِي الطَّرِيقِ إِلَّا الْحَوَاشِي " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خواتین کے لئے نکلنے میں کوئی حصہ نہیں ہے ، البتہ اگر وہ مجبور ہو تو معاملہ مختلف ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت کا خادم نہ ہو ، تو البتہ عیدالاضحی اور عیدالفطر دونوں عیدوں کا معاملہ مختلف ہے ، اور مردوں کو راستے میں ، صرف کنارے کا حق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3221
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3222
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عِيدٍ فَقَالَ : " ادْعُوا لِي سَيِّدَ الْأَنْصَارِ " فَدَعَوْا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ : " يَا أُبَيُّ ائْتِ الْمُصَلَّى فَأْمُرْ بِكَنْسِهِ وَأْمُرِ النَّاسَ فَلْيَخْرُجُوا " فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ رَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنِّسَاءُ ؟ فَقَالَ : " وَالْعَوَاتِقُ وَالْحُيِّضُ يَكُنَّ فِي النَّاسِ يَشْهَدْنَ الدَّعْوَةَ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ [ بْنُ شَدَّادٍ ] الْهَنَّائِيُّ مَجْهُولٌ وَكَذَلِكَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَجْهُولٌ
محمد محی الدین
عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ، میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عید کے دن موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انصار کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! لوگوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابی ! تم عیدگاہ جاؤ اور وہاں جھاڑو دینے کا حکم دو ، اور لوگوں کو ہدایت کرو کہ وہ نکلیں ، جب وہ دروازے تک پہنچے ، تو واپس آ گئے اور بولے : یا رسول اللہ ! کیا خواتین بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جوان لڑکیاں اور حیض والی خواتین بھی لوگوں کے ساتھ ہوں گی ، اور وہ دعا میں شریک ہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن شداد ہنائی ہے ، جو مجہول ہے ، اسی طرح عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بن العاص نامی راوی بھی مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3223
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا وَيَرْجِعُ فِي طَرِيقٍ غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لئے پیدل تشریف لے جاتے تھے ، اور واپس آتے ہوئے دوسرے راستے سے آتے تھے ، جو اس راستے سے مختلف ہوتا تھا ، جس سے آپ تشریف لے گئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس میں خالد بن الیاس متروک ہے، البتہ دیگر صحیح شواہد
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ومما روى مهاجر بن مسمار ، 994»
حدیث نمبر: 3224
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي الْعِيدَ يَذْهَبُ فِي طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْتِي
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ( عید گاہ ) کے لئے تشریف لے گئے ، آپ تشریف ایک راستے سے لے کر گئے تھے ، اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، اور وہ متروک ہے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3225
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِ الْفِطْرِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الطَّرِيقِ فَنَادَوُا : اغْدُوا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ ثُمَّ يُثِيبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ ، لَقَدْ أُمِرْتُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَقُمْتُمْ ، وَأُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ ، فَإِذَا صَلَّوْا نَادَى مُنَادٍ : أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ فَارْجِعُوا رَاشِدِينَ إِلَى رِحَالِكُمْ ، فَهُوَ يَوْمُ الْجَائِزَةِ وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ " - وَفِي رِوَايَةٍ : " رَبٍّ رَحِيمٍ " بَدَلَ " رَبٍّ كَرِيمٍ " - فَقَالَ : " قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ كُلَّهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَرَوَى عَنْهُ هُوَ وَشُعْبَةُ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سعید بن اوس انصاری ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے ، تو فرشتے راستوں میں ٹھہر جاتے ہیں اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہتے ہیں : اے مسلمانوں کے گروہ ! اپنے معزز پروردگار کی طرف جاؤ ! جو بھلائی کا احسان کر رہا ہے ، اور اس کی جزا عطا کرے گا ، تمہیں رات کے وقت نوافل ادا کرنے کا حکم دیا گیا ، تم نے وہ ادا کیے ، تمہیں دن کے وقت روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ، تم نے روزہ رکھا اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی ، تو اب اپنا بدلہ وصول کر لو ! جب لوگ نماز ادا کر لیتے ہیں ، تو ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے : خبردار ! تمہارے پروردگار نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ، تو اب تم ایسی حالت میں اپنے گھروں کو واپس جاؤ کہ تم ہدایت یافتہ ہو ، تو یہ بدلے کا دن ہے ، آسمان میں اس دن کو ” بدلے کا دن “ کہا: گیا ہے “ ۔ ایک روایت میں لفظ ” کریم پروردگار “ کی بجائے ” رحیم پروردگار “ کے الفاظ ہیں ، وہ فرماتا ہے : ” میں نے تم لوگوں کے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے انہوں نے اس سے روایت بھی نقل کی ہے ، اور شعبہ نے بھی نقل کی ہے ، لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً؛ اس روایت کی سند میں جابر الجعفی راوی 'متروک' ہے، جس کی وجہ سے یہ سخت ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3226
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ دُعَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ ، اللَّهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فَجْأَةً وَلَا تَأْخُذْنَا بَغْتَةً وَلَا تُعْجِلْنَا عَنْ حَقٍّ وَلَا وَصِيَّةٍ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفَافَ وَالْغِنَى وَالتُّقَى وَالْهُدَى وَحُسْنَ عَاقِبَةِ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ وَالشِّقَاقِ وَالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ فِي دِينِكَ ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں : کہ ایسی زندگی ہو ، جو محفوظ ہو اور ایسی موت ہو ، جو ٹھیک ہو ، اور ایسی واپسی جس میں رسوائی نہ ہو اور شرمندگی نہ ہو ، اے اللہ ! تو ہمیں اچانک ہلاکت کا شکار نہ کرنا ، اور اچانک ہماری پکڑ نہ کرنا ، اور ہمیں اتنی جلدی موت نہ دینا ، کہ کوئی حق رہ گیا ہو ، یا وصیت نہ کی جا سکے ، اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ۔ پاکدامنی کا ، خوشحالی ، پرہیزگاری ، ہدایت کا ، دنیا اور آخرت میں اچھے انجام کا سوال کرتے ہیں ، اور شک سے ، اختلاف سے ، اور تیرے دین کے بارے میں ریاکاری اور دکھاوے سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ، ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دینا ، اور ہمیں اپنے فضل سے رحمت عطا کرنا ، بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل مستقل بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3227
عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَوْمَ الْعِيدِ يَقُولُ حِينَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُ النَّاسَ : أَيُّهَا النَّاسُ كُلٌّ سُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں : میں نے عید کے دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز ادا کی تھی ، اور پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا تھا ( تو یہ فرمایا تھا : ) اے لوگو ! یہ سب اللہ تعالیٰ کی ( مقرر کردہ ) سنت ہے ، اور اس کے رسول کی سنت ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” اللہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 3228
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَبْدَؤُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِلَفْظِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز ادا کرتے تھے ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ“ ہیں اور یہ ” صحیح“ میں ان الفاظ میں منقول ہے : ” قربانی کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی ، پھر آپ نے خطبہ دیا“ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3228
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، ورجالہ ثقات، ولہ أصل فی الصحیحین۔
حدیث نمبر: 3229
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن پہلے نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3229
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح بشواہدہ