حدیث نمبر: 3200
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَيِّنُوا أَعْيَادَكُمْ بِالتَّكْبِيرِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنی عیدوں کو تکبیر کے ذریعے آراستہ کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے امام أحمد یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے عجلی بیان کرتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے امام أحمد یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے عجلی بیان کرتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3201
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ أَبْرَهَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مِنًى يُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ قَالَ الشَّاذَكُونِيُّ : عَلَى هَذَا تَكْبِيرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَرْقِيُّ بْنُ قُطَامِيٍّ ضَعَّفَهُ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ
محمد محی الدین
سیدنا شریح بن ابرہہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایام تشریق میں قربانی کے دن ، نماز ظہر سے لے کر منی سے نکلنے تک ، ہر فرض نماز کے بعد تکبیر کہا: کرتے تھے ۔ شاذکونی بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ کا تکبیر کہنے کا طریقہ بھی یہی ہے ۔ امام طبرانی نے
یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے ، جسے ذکریا ساجی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، ابن عدی نے اس کا ذکر کتاب ” الکامل “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے ، جسے ذکریا ساجی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، ابن عدی نے اس کا ذکر کتاب ” الکامل “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3202
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ [ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ عرفہ کے دن ، صبح کی نماز سے لے کر ، قربانی کے دن عصر کی نماز تک تکبیر کہا: کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3203
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ "" مَنْ أَحْيَا لَيْلَةَ الْفِطْرِ وَلَيْلَةَ الْأَضْحَى لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ابْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص عیدالفطر کی رات اور عیدالاضحیٰ کی رات عبادت کرتا ہے ، اس کا دل اُس دن نہیں مرے گا جب دل مر جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔ ابن مہدی اور دیگر حضرات نے اس کی تعریف کی ہے ، تاہم ایک بڑی جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔ ابن مہدی اور دیگر حضرات نے اس کی تعریف کی ہے ، تاہم ایک بڑی جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3204
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اغْتَسَلَ لِلْعِيدَيْنِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَمِنْدَلٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَمُحَمَّدٌ هَذَا وَمَنْ فَوْقَهُ لَا أَعْرِفُهُمْ
محمد محی الدین
محمد بن عبیداللہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے لئے غسل کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، مندل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور محمد نامی یہ راوی اور اس سے اوپر کے راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، مندل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور محمد نامی یہ راوی اور اس سے اوپر کے راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 3205
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَغَدَا بِغُسْلٍ إِلَى الْمُصَلَّى وَخَتَمَهُ بِصَدَقَةٍ رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور پھر ( عید کے دن ) غسل کرنے کے بعد عید گاہ کی طرف جائے اور صدقہ ( یعنی صدقہ فطر ) کے ذریعے اس پر مہر لگا دے تو جب وہ واپس آتا ہے ، تو اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3206
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنَّا نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ وَنَغْتَسِلُ ثُمَّ نَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ( عیدالفطر کے دن ) کھایا اور پیا کرتے تھے ، غسل کرتے تھے ، اور پھر عیدگاہ کی طرف جانے کے لئے نکلتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مکی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مکی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3207
قَالَ هُشَيْمٌ : قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ : هَلْ مِنْ غُسْلٍ غَيْرُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ؛ يَوْمَ عَرَفَةَ عِيدٌ ، وَيَوْمُ فِطَرٍ وَيَوْمَ أَضْحَى ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ جُمُعَةٍ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَهُشَيْمٌ وَيَزِيدُ كِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
ہشیم بیان کرتے ہیں : میں نے یزید بن ابوزیاد سے کہا: کیا جمعہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن غسل کیا جائے گا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! عرفہ کا دن عید کا دن ہے ، عیدالفطر کے دن عیدالاضحی کے دن ، عرفہ کے دن اور جمعہ کے دن ( غسل کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ہشیم اور یزید ، یہ دونوں ” صحیح“ کے راویوں میں سے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ہشیم اور یزید ، یہ دونوں ” صحیح“ کے راویوں میں سے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3208
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْبَسُ يَوْمَ الْعِيدِ بُرْدَةً حَمْرَاءَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن سرخ چادر پہنا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔