کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
حدیث نمبر: 3144
عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَقُولُ : "أُنْذِرُكُمُ النَّارَ أُنْذِرُكُمُ النَّارَ " حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالسُّوقِ لَسَمِعَهُ مِنْ مَقَامِي هَذَا قَالَ : حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ . ¤ فِي رِوَايَةٍ : وَسَمِعَ أَهْلُ السُّوقِ صَوْتَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو جہنم سے ڈراتا ہوں میں تم لوگوں کو جہنم سے ڈراتا ہوں یہاں تک کہ ایک شخص جو بازار میں موجود تھا اس نے یہ بات میرے اس جگہ پر کھڑے ہونے کے دوران سن لی راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ اس کے کندھے پر موجود چادر اس کے پاؤں میں گر گئی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اہل بازار نے آپ کی آواز سن لی اور آپ اس وقت منبر پر موجود تھے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3145
وَعَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى يُعْرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمُ الْأَمْرَ غَدْوَةً ، وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَأَبُو يَعْلَى عَنِ الزُّبَيْرِ وَحْدَهُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا زبیر بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے ، اور ہمیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے یہاں تک کہ اس کے اثرات آپ کے چہرے سے محسوس ہو رہے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے آپ کسی قوم کو ڈرا رہے ہیں جنہیں کل جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دیر پہلے سیدنا جبرائیل سے ملاقات ہوئی تھی آپ ہنسے نہیں تھے یہاں تک کہ وہ اوپر چلے گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے صرف سیدنا زبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3146
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَنَادَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ مَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ ؟ مَثَلُ قَوْمٍ خَافُوا عَدُوًّا يَأْتِيهِمْ فَبَعَثُوا رَجُلًا يَتَرَاءَى لَهُمْ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ أَبْصَرَ الْعَدُوَّ وَأَقْبَلَ لِيُنْذِرَهُمْ وَخَشِيَ أَنْ يُدْرِكَهُ الْعَدُوُّ قَبْلَ أَنْ يُنْذِرَ قَوْمَهُ فَأَهْوَى بِثَوْبِهِ : أَيُّهَا النَّاسُ أُتِيتُمْ ، [ أَيُّهَا النَّاسُ أُتِيتُمْ ] ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الْمَوَاعِظِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے تین مرتبہ بلند آواز میں پکار کر کہا: اے لوگو کیا تم جانتے ہو میری اور تمہاری مثال کیا ہے ( ہماری مثال ) ایک ایسی قوم کی مانند ہے ، جسے دشمن کا خوف ہو کہ اس کے پاس وہ آ جائے گا ، اور پھر وہ لوگ ایک شخص کو بھیجتے ہیں جو ان کے لئے خبر گیری کرتا ہے وہ شخص اسی دوران دشمن کو دیکھ لیتا ہے ، اور آتا ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے اپنی قوم کو ڈرانے سے پہلے دشمن اس تک پہنچ جائے تو وہ اپنے کپڑے کو لہرا کر کہتا ہے اے لوگو ( خطرہ ) تمہارے پاس پہنچ چکا ہے اے لوگو تمہارے پاس پہنچ چکا ہے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیشمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث مواعظ سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3146
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3147
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَلَا أَرْقِيكَ يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ [ مِنْ ] سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِطُولِهِ فِي مَنَاقِبِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَلِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي قِصَّةِ ضِمَادٍ - بِالدَّالِ - فِي الصَّحِيحِ وَهَذَا بِالْمِيمِ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ضمام بن ثعلبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کو دم نہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں ، اور ہم اپنی ذات کی شر سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں جس اللہ تعالی ہدایت نصیب کر دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے ، اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے یہ حدیث ذکر کی ہے ، جو پوری حدیث مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ایک حدیث ضماد کے واقعہ کے بارے میں بھی ہے ، جو ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن یہاں اس شخص کا نام ” م “ کے ساتھ یعنی ضمام ذکر ہوا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3148
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يَبْدَأُ فِيهِ بِـ "الْحَمْدُ لِلَّهِ" أَجْذَمُ - أَوْ أَقْطَعُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمْ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَدُحَيْمٌ فِي رِوَايَةٍ
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر وہ اہم کام جس کا آغاز الحمدللہ کے ذریعے نہ کیا جائے وہ جذام شدہ ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ منقطع ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم نے ، اور ایک روایت کے مطابق دحیم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3149
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں : جمعہ کے دن منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا سنت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3150
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” امابعد “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله طرق حديث عبد الله بن مسعود ليلة الجن مع رسول الله باب 10123»
حدیث نمبر: 3151
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ ، يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، وَإِنَّ الْآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ يُحِقُّ الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ، أَيُّهَا النَّاسُ كُونُوا أَبْنَاءَ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا أَبْنَاءَ الدُّنْيَا فَإِنَّ كُلَّ أُمٍّ يَتْبَعُهَا وَلَدُهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو دنیا سامنے موجود سامان ہے ، جس میں سے نیک اور گناہگار ( یعنی ہر قسم کا فرد ) کھا لیتا ہے ، اور آخرت ایک سچا وعدہ ہے ، جس میں قدرت رکھنے والا بادشاہ فیصلہ دے گا وہ حق کو حق ظاہر کر دے گا ، اور باطل کو باطل طے کر دے گا ، اے لوگو ! آخرت والے بن جاؤ دنیا والے نہ بنو کیونکہ ہر ماں کا بچہ اس کے پیچھے جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3152
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَحَّةَ قَالَ : كَانَ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ : أَمَا تَعْلَمُونَ أَنَّكُمْ تَغْدُونَ وَتَرُوحُونَ لِأَجَلٍ مَعْلُومٍ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَقْضِيَ الْأَجَلَ وَهُوَ فِي عَمَلِ اللَّهِ تَعَالَى فَلْيَفْعَلْ ، وَلَنْ تَنَالُوا ذَلِكَ إِلَّا بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ قَوْمًا جَعَلُوا آجَالَهُمْ لِغَيْرِهِمْ فَنَهَاكُمْ أَنْ تَكُونُوا أَمْثَالَهُمْ ، وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينِ نَسُوا اللَّهَ ، أَيْنَ مَنْ تَعْرِفُونَ مِنْ إِخُوَانِكُمْ ؟ قَدِمُوا عَلَى مَا قَدَّمُوا فِي أَيَّامِ سَلَفِهِمْ وَحَلُّوا فِيهِ بِالشِّقْوَةِ وَالسَّعَادَةِ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ الْأَوَّلُونَ الَّذِينَ بَنَوُا الْمَدَائِنَ وَحَفُّوهَا بِالْحَوَائِطِ قَدْ صَارُوا تَحْتَ الصَّخْرِ وَالْآبَارِ ، هَذَا كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ فَاسْتَضِيئُوا مِنْهُ لِيَوْمِ ظُلْمَةٍ وَاتَّضِحُوا بِشَأْنِهِ وَبَيَانِهِ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ : ( كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ) لَا خَيْرَ فِي قَوْلٍ لَا يُرَادُ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، وَلَا خَيْرَ فِي مَالٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَغْلِبُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَنُعَيْمُ بْنُ مَحَّةَ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ
محمد محی الدین
نعیم بن محہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر کے خطبہ میں یہ کلمات تھے : ” کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تم صبح و شام ایک متعین مدت کی طرف بڑھ رہے ہو تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ آخری وقت تک اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا رہے ، تو اسے ایسا کرنا چاہیے تو تم اس منزل تک اللہ تعالٰی کی مدد کے بغیر نہیں پہنچ سکتے ہو کچھ لوگوں نے اپنی توقعات دوسروں کے لئے مقرر کی ہوئی ہیں تو اس نے تمہیں اس بات سے منع کیا ہے کہ تم ان کی مانند ہو جاؤ اور تم ان لوگوں کی مانند بھی نہ ہو جانا جو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تم اپنے جن بھائیوں سے واقف تھے وہ کہاں ہیں ؟ وہ اس چیز کی طرف چلے گئے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا تھا اور اب ان کے بارے میں بدنصیبی یا سعادت مندی طے ہو چکی ہے پہلے زمانے کے حکمران کہاں ہیں ؟ جنہوں نے بڑے شہر بنائے تھے ، اور انہیں دیواروں کے ذریعے محفوظ کر دیا تھا اور وہ سب چٹانوں کے نیچے اور کنوؤں کے نیچے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے ، تو تم تاریکی کے دن کے لئے اس سے روشنی حاصل کرو اور اس کی شان اور اس کے بیان کے ذریعے وضاحت حاصل کرو بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا ذکریا علیہ السلام اور ان کے اہلِ بیت کی تعریف کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” وہ لوگ بھلائی کے کام میں جلدی کرنے والے تھے رغبت رکھتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے ہم سے دعا کیا کرتے تھے ، اور وہ لوگ ہمارا خشوع رکھتے تھے “ ۔ ایسی کسی بھی بات میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا کا ارادہ نہ کیا گیا ہو ایسے کسی مال میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جسے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کی بردباری اس کی جہالت پر غالب نہ آئے اور ایسے کسی شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے خوف زدہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور نعیم بن محہ نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3152
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3153
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَجِيءُ كُلَّ خَمِيسٍ فَيَقُومُ قَائِمًا لَا يَجْلِسُ فَيَقُولُ : لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ، فَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ وَلَا يُلْهِيَنَّكُمُ الْأَمَلُ ، فَإِنَّ كُلَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ ، أَلَا إِنَّ الْبَعِيدَ [ مَا لَيْسَ ] آتِيًا، وَإِنَّ مِنْ شَرَارِ النَّاسِ بَطَّالُ النَّهَارِ جِيفَةُ اللَّيْلِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ہر جمعرات کے دن تشریف لاتے تھے ، اور کھڑے ہو جاتے تھے وہ اس دوران بیٹھتے نہیں تھے وہ یہ فرماتے تھے تم لوگوں کو آزمائش کا شکار نہ کرو کیونکہ لوگوں میں ضعیف عمر رسیدہ اور کام کاج والے لوگ ہوتے ہیں ، اور تمہاری توقعات طویل نہ ہو جائیں اور خواہشات تمہیں غافل نہ کر دیں کیونکہ جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے ، اور جو چیز دور ہے وہ نہیں آئے گی لوگوں میں سے برے لوگ وہ ہیں جو دن کے وقت احمق ہوتے ہیں ، اور رات کو مردار ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3153
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3154
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا قَعَدَ : إِنَّكُمْ فِي مَمَرِّ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي آجَالٍ مَنْقُوضَةٍ وَأَعْمَالٍ مَحْفُوظَةٍ ، وَالْمَوْتُ يَأْتِي بَغْتَةً، فَمَنْ زَرَعَ خَيْرًا يُوشِكُ أَنْ يَحْصُدَ رَغْبَةً ، وَمَنْ زَرَعَ شَرًّا يُوشِكُ أَنْ يَحْصُدَ نَدَامَةً ، وَلِكُلِّ زَارِعٍ مَا زَرَعَ ، لَا يَسْبِقُ بَطِيءٌ بِحَظِّهِ وَلَا يُدْرِكُ حَرِيصٌ بِحِرْصِهِ مَا لَمْ يُقَدَّرْ لَهُ، فَمَنْ أُعْطِيَ خَيْرًا فَاللَّهُ أَعْطَاهُ ، وَمَنْ وُقِيَ شَرًّا فَاللَّهُ وَقَاهُ ، الْمُتَّقُونَ سَادَةٌ ، وَالْفُقَهَاءُ قَادَةٌ ، وَمُجَالَسَتُهُمْ زِيَادَةٌ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، جب وہ تشریف فرما ہوتے تھے تو یہ فرماتے تھے : تم لوگ ایک ایسی صورت حال میں ہو ، جس میں رات اور دن گزر رہے ہیں جو ایک مخصوص کے بعد ختم ہو جائیں گے اور اعمال کی حفاظت کی جا رہی ہے موت اچانک آ جائے گی ، جس شخص نے بھلائی بوئی ہو گی وہ عنقریب رغبت رکھتے ہوئے اسے کاشت کر لے گا ، اور جس شخص نے برائی بوئی ہو گی وہ عنقریب ندامت کا شکار ہو کر اسے کاشت کرے گا ہر بونے والے نے جو بویا ہے وہی ملے گا ، اور سستی والا اپنے حصے کے حوالے سے سبقت نہیں لے جا سکتا اور حرص رکھنے والا اپنے حرص کے ذریعے اس چیز تک نہیں پہنچ سکتا جو اس کے نصیب میں نہ ہو ، جس شخص کو بھلائی عطا کی گئی ہو گی تو اللہ تعالیٰ نے ہی اسے عطا کی ہو گی ، اور جو شخص برائی ہے بچایا گیا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے ہی اسے بچایا ہو گا پرہیز گار لوگ سردار ہیں فقہاء قیادت کرنے والے ہیں ، اور ان کی ہمنشینی ( علم میں ) اضافے کا باعث ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3155
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَرَاءَةً وَهُوَ قَائِمٌ يُذَكِّرُ بِأَيَّامِ اللَّهِ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : "بَرَاءَةٌ" رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن سورت توبہ کی تلاوت کی آپ نے کھڑے ہونے کے دوران اللہ تعالیٰ کے ایام ( یعنی سابقہ حالات و واقعات ) کے حوالے سے وعظ و نصیحت کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” سورت توبہ “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ورجالہ رجال الصحیح۔
حدیث نمبر: 3156
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ : ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) وَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ منبر پر سورت الکافرون اور سورت الاخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : اسحاق بن زریق اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3157
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ فَقَرَأَ فِي خُطْبَتِهِ آخِرَ الزُّمَرِ فَتَحَرَّكَ الْمِنْبَرُ مَرَّتَيْنِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْمِنْقَرِيِّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ قَالَ فِي أَبِي بَحْرٍ : لَا بَأْسَ بِهِ
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے سورت زمر کا آخری حصہ خطبے میں تلاوت کیا تو منبر نے دو مرتبہ حرکت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوبحر بکراوی کی عباد بن میسرہ منقری سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں البتہ امام أحمد نے ابوبحر کے بارے میں یہ کہا: ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3157
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3158
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ قِصَرَ الْخُطْبَةِ وَطُولَ الصَّلَاةِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا ، وَإِنَّهُ سَيَأْتِي بَعْدَكُمْ قَوْمٌ يُطِيلُونَ الْخُطَبَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلَاةَ " رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ مَوْقُوفًا فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ ثِقَاتٌ ، وَفِي رِجَالِ الْبَزَّارِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” خطبے کو مختصر دینا اور طویل نماز ادا کرنا آدمی کی سمجھ داری کی علامت ہے ، تو تم لوگ نماز طویل ادا کرو اور خطبہ مختصر دو ، کیونکہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں عنقریب تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو طویل خطبہ دیں گے اور مختصر نمازیں ادا کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا کچھ حصہ ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ” موقوف “ روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام بزار کے رجال میں قیس بن ربیع نامی راوی ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3159
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا قَالَ : " اقْصُرِ الْخُطْبَةَ وَأَقْلِلِ الْكَلَامَ فَإِنَّ مِنَ الْكَلَامِ سِحْرًا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ جُمَيْعِ بْنِ ثَوْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی امیر بھیجتے تھے تو یہ ارشاد فرماتے تھے : خطبہ مختصر دینا کلام تھوڑا کرنا کیونکہ بعض کلام جادو ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں جمیع بن ثواب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3160
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ عُلَمَاؤُهُ ، يُطِيلُونَ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہو ، جس میں خطیب کم ہیں ، اور علماء زیادہ ہیں وہ لوگ نماز طویل ادا کرتے ہیں ، اور خطبہ مختصر دیتے ہیں عنقریب تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں خطیب زیادہ ہوں گے اور علماء کم ہوں گے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3161
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ الْمُسْلِمَاتِ كُلَّ جُمُعَةٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کے دن مؤمن مردوں اور مومن خواتین مسلمان مردوں اور مسلمان خواتین کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار فرماتے ہیں : اس روایت کے بارے میں ہمارے علم کے مطابق یہ صرف اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3162
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْخُطَبَ تَشْقِيقَ الشَّعْرِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے ، جو خطبہ دیتے ہوئے یوں کلام کرتے ہیں جس طرح شعر کو چبا چبا کر سنایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور اس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3163
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَامَ بِخُطْبَةٍ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَقَفَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الْأَدَبِ وَفِي الزُّهْدِ
محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن عقربہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص خطبہ دینے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، اور اس کے ذریعے اس کا مقصد صرف ریاء کاری اور شہرت کا حصول ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ریاء کاری اور شہرت کے مقام پر ٹھہرائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث آگے چل کر ادب سے متعلق باب اور زہد سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3164
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ الْخُطْبَةَ فَالْجُمُعَةُ رَكْعَتَانِ وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْهَا فَلِيُصَلِّ أَرْبَعًا ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرَّكْعَةَ فَلَا يَتَعَدُّ بِالسَّجْدَةِ حَتَّى يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص کو خطبہ مل جائے تو جمعہ کی دو رکعات ہوں گی ، اور جو شخص اس کو نہ پائے تو وہ چار رکعات ادا کرے اور جو شخص رکوع کو نہیں پاتا ہے ، تو وہ سجدے کے ذریعے رکعت کو شمار نہیں کرے گا جب تک وہ رکوع کو نہیں پا لیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح موقوفاً ورجالہ ثقات
حدیث نمبر: 3165
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عِيَاضٍ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَنْ رَكْعَتَيِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : هُمَا قَاضِيَتَانِ مِمَّا سِوَاهُمَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
مسلم بن عیاض بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جمعہ کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ دونوں ان کے علاوہ کے لئے قضا ہیں ( یعنی ان کے علاوہ نماز میں جو کمی کوتاہی رہ گئی ہو یہ اس کو پورا کر دیتی ہیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3166
عَنْ أَبِي عُتْبَةَ الْخَوْلَانِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالسُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْمُنَافِقُونَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا مَشَى أَقْلَعَ ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابوعتبہ خولانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ جمعہ کی نماز میں سورت جمعہ اور اس سورت کی تلاوت کرتے تھے جس میں منافقین کا ذکر کیا گیا ہے
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تھے تو قدم جما کر چلتے تھے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح بشواھدہ
حدیث نمبر: 3167
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ فَيُحَرِّضُ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةِ الْمُنَافِقِينَ فَيُفْزِعُ بِهِ الْمُنَافِقِينَ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ هُوَ الْوَازِعِيُّ ، وَهُوَ وَشَيْخُهُ عَبْدُ الصَّمَدِ مِنْ أَهْلِ الرَّأْيِ وَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورت جمعہ کی تلاوت کرتے تھے آپ اس کے ذریعے اہل ایمان کو ترغیب دیتے تھے ، اور دوسری رکعت میں سورت منافقین کی تلاوت کرتے تھے اس کے ذریعے آپ منافقین کو ڈراتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے محمد بن عمار نامی راوی وازعی ہے وہ اور اس کا استاد عبدالصمد ، اہل رائے سے تعلق رکھتے ہیں ، اور ان دونوں کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔