عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَزْرَقِ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَفَضَّ وَقَعَدَ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْنَا : رَحِمَكَ اللَّهُ لَوْ كُنْتَ وَصَلْتَ إِلَيْنَا كَانَ أَرْفَقَ بِكَ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ [ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ] بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ أَوْ فَرَّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ كَالْجَارِّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
عمار بن سعد بیان کرتے ہیں : عثمان بن ازرق ، جمعہ کے دن ہمارے پاس مسجد میں آئے امام اس وقت خطبہ دے رہا تھا وہ مسجد میں بیٹھ گئے ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے اگر آپ ہمارے پاس آ جاتے تو یہ آپ کے لئے زیادہ سہولت کا باعث ہوتا تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص امام کے آ جانے کے بعد جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے یا دو آدمیوں کے درمیان جدائی ڈال دیتا ہے ، تو اس کی مثال آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹنے والے شخص کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زید ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زید ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : افْتَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ فَإِنِّي لَمْ أَرَكَ ، أَلَمْ تَشْهَدِ الصَّلَاةَ ؟ " قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنِّي جِئْتُ وَقَدْ ثَبَتَ النَّاسُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ قَالَ : " بَلَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو غیر موجود پایا تو دریافت کیا : تم کہاں تھے میں نے تمہیں نہیں دیکھا کیا تم نماز میں شریک نہیں ہوئے انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! میں آیا تھا لوگ اس وقت اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔