مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِيمَنْ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ . باب: اس شخص کا بیان جو لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے
حدیث نمبر: 3095
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : افْتَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ فَإِنِّي لَمْ أَرَكَ ، أَلَمْ تَشْهَدِ الصَّلَاةَ ؟ " قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنِّي جِئْتُ وَقَدْ ثَبَتَ النَّاسُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ قَالَ : " بَلَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو غیر موجود پایا تو دریافت کیا : تم کہاں تھے میں نے تمہیں نہیں دیکھا کیا تم نماز میں شریک نہیں ہوئے انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! میں آیا تھا لوگ اس وقت اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔