حدیث نمبر: 3009
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : رَوَى عَنْهُ عَبَّاسٌ وَلَا يُعْرَفَانِ، قُلْتُ : أَمَّا عَبَّاسٌ فَهُوَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ ، رَوَى عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ كَمَا رَوَى عَنْهُ فِي الْمُسْنَدِ ، وَجَمَاعَةٌ وَرَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ وَأَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے کہ جس میں کوئی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ بھلائی اسے عطا کر دے گا ، اور وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسلمہ انصاری ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : عباس نے اس کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی معروف نہیں ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جہاں تک عباس نامی راوی کا تعلق ہے ، تو وہ عباس بن عبدالرحمن بن میناء ہے ، جس سے ابن جریج نے روایات نقل کی ہے جیسا کہ انہوں نے اس کے حوالے سے مسند میں روایت نقل کی ہے ، اور ایک جماعت نے بھی روایات نقل کی ہیں ۔ امام ابن ماجہ نے اس راوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے : امام ابوداؤد نے مراسیل میں روایت نقل کی ہے : امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ“ قرار دیا ہے کسی نے بھی اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسلمہ انصاری ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : عباس نے اس کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی معروف نہیں ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جہاں تک عباس نامی راوی کا تعلق ہے ، تو وہ عباس بن عبدالرحمن بن میناء ہے ، جس سے ابن جریج نے روایات نقل کی ہے جیسا کہ انہوں نے اس کے حوالے سے مسند میں روایت نقل کی ہے ، اور ایک جماعت نے بھی روایات نقل کی ہیں ۔ امام ابن ماجہ نے اس راوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے : امام ابوداؤد نے مراسیل میں روایت نقل کی ہے : امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ“ قرار دیا ہے کسی نے بھی اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3010
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ يَذْكُرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " قَالَ : وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ ، هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ قُلْتُ : إِنَّمَا قَالَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلَيْسَتْ تِلْكَ سَاعَةَ صَلَاةٍ ، قَالَ : أَمَا سَمِعْتَ - أَوْ أَمَا بَلَغَكَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ وَحَدِيثُ ابْنِ سَلَامٍ فِي الصَّحِيحِ وَلَكِنَّهُ مَوْقُوفٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے : آپ نے ارشاد فرمایا : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس میں جو بندہ نماز ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگتا ہے اللہ تعالٰی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کی جی ہاں ! وہ ( جمعہ کے دن کی ) آخری گھڑی ہوتی ہے میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایا ہے : وہ بندہ اس وقت نماز ادا کر رہا ہو اور اس آخری گھڑی میں تو نماز ادا نہیں کی جاتی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات نہیں سنی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا تم تک یہ بات نہیں پہنچی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح“ میں مذکور ہے سیدنا عبداللہ بن لام سے منقول حدیث بھی ” صحیح“ میں مذکور ہے ، تاہم وہ روایت ” موقوف“ ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3011
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو بھی مسلمان اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3012
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ابْتَغُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي الْجُمُعَةِ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ وَهِيَ قَدْرُ هَذَا - يَعْنِي : قَبْضَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ دُونَ قَوْلِهِ : "وَهِيَ قَدْرُ هَذَا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن میں جس گھڑی کی تلاش ہوتی ہے ، اسے عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک کے درمیانی وقت میں تلاش کرو اور وہ اتنی ہوتی ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی مٹھی بھر ہوتی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اس قدر ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اس قدر ہوتی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3013
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَبِيهَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَمَرْجَانَةُ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ وَهِيَ مَجْهُولَةٌ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ غَيْرُهَا . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہوتی ہے ، جس میں کوئی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے مرجانہ نامی راوی خاتون نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے مرجانہ مجہول عورت ہے ، اس روایت کی سند میں اس عورت کے علاوہ دیگر مجہول راوی بھی پائے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے مرجانہ نامی راوی خاتون نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے مرجانہ مجہول عورت ہے ، اس روایت کی سند میں اس عورت کے علاوہ دیگر مجہول راوی بھی پائے جاتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3014
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ هُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ " . ¤ قَالَ : وَقَلَّلَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ قَالَ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ : وَاللَّهِ لَقَدْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ إِنْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عَلَمٌ فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُقَوِّمُ عَرَاجِينَ فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا هَذِهِ الْعَرَاجِينُ الَّتِي أَرَاكَ تُقَوِّمُ ؟ قَالَ : هَذِهِ عَرَاجِينُ جَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِيهَا بَرَكَةً ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهَا وَيَتَخَصَّرُ بِهَا ، فَكُنَّا نُقَوِّمُهَا وَنَأْتِيهِ بِهَا ، فَرَأَى بُصَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَفِي يَدِهِ عُرْجُونٌ مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ فَحَكَّهُ وَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْصُقَنَّ أَمَامَهُ فَإِنَّ رَبَّهُ أَمَامَهُ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ سَرِيحٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَبْصَقًا فَفِي ثَوْبِهِ أَوْ نَعْلِهِ . ¤ قَالَ : ثُمَّ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةً فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَقَالَ : " مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ ؟ " قَالَ : عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ : "فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ" ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ قَالَ : "خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ لَكَ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا ، فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَرَأَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ تَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ لَشَيْطَانٌ " ، قَالَ : فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ عِلْمٌ فِيهَا ؟ فَقَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي حَكِّ الْبُصَاقِ أَيْضًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ - يَعْنِي : مِنْ عِنْدِ أَبِي سَعِيدٍ - حَتَّى أَتَيْتُ دَارَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْتُ : هَذَا رَجُلٌ قَدْ قَرَأَ التَّوْرَاةَ وَصَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِيهَا مَا يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَسْكَنَهُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَهْبَطَهُ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَتَوَفَّاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَقُومُ فِيهِ السَّاعَةُ ، وَهِيَ آخَرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ : قُلْتُ : أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي صَلَاةٍ ؟ " قَالَ : أَوَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں احادیث بیان کر رہے تھے انہوں نے یہ بات بیان کی جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ جس میں کوئی مسلمان شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اس دوران وہ مسلمان اللہ تعالی سے جو بھی بھلائی مانگے تو اللہ تعالی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بیان کیا کہ وہ گھڑی تھوڑی سی ہوتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے سوچا اللہ کی قسم میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں گا ، اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں دریافت کروں گا ہو سکتا ہے ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہو میں ان کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ٹہنیاں ٹھیک کر رہے تھے میں نے کہا: اے ابوسعید یہ ٹہنیاں کیا ہیں ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ٹھیک کر رہے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ وہ ٹہنیاں ہیں جن میں اللہ تعالی نے ہمارے لئے برکت رکھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت رکھتے تھے ، اور ان کو استعمال کرتے تھے تو ہم ان کو ٹھیک رکھتے ہیں ، اور ان کے پاس آ جاتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا آپ کے دست مبارک میں اس طرح کی ایک ٹہنی ( یا چھڑی ) تھی تو آپ نے اس کے ذریعے اس کو کھرچ دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو تو وہ سامنے کی طرف ہرگز نہ تھوکے کیونکہ اس کا پروردگار اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے ، اسے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سریح نامی راوی نے یہ بات بیان کی : کہ اگر اسے تھوکنے کے لئے جگہ نہیں ملتی تو وہ اپنے کپڑے میں یا اپنے جوتے میں تھوک لے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر اسی رات بارش ہو گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے لئے تشریف لائے بجلی چمکی تو آپ نے سیدنا قتادہ بن نعمان کو دیکھا آپ نے دریافت کیا : اے قتادہ کیا معاملہ ہے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آج رات نماز میں شریک ہونے والے لوگ کم ہوں گے ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس میں شریک ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز ادا کر لو تو اپنی جگہ پر رہنا جب تک میں تمہارے پاس سے نہیں گزرتا جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک شاخ دی آپ نے فرمایا : اسے لے لو یہ تمہارے آگے دس قدم اور پیچھے دس قدم روشنی کرے گی جب تم گھر میں داخل ہو گے ، تو گھر کے کونے میں تمہیں ایک ہیولی نظر آئے گا تم کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے اس کو مارنا کیونکہ وہ شیطان ہو گا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا انہوں نے ایسا ہی کیا تو ہم اس وجہ سے ان چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: اے سیدنا ابوسعید ! سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس گھڑی کے بارے میں حدیث بیان کی تھی جو جمعہ کے دن میں ہوتی ہے ، تو کیا آپ کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہے انہوں نے فرمایا : ہم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کا علم دیا گیا تھا پھر وہ مجھے بھلا دیا گیا جس طرح مجھے شب قدر بھلا دی گئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث جو بلغم کو کھرچنے کے بارے میں ہے وہ بھی ” صحیح “ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ بات ذائد نقل کی ہے : ” پھر میں ان کے پاس سے راوی کہتے ہیں : یعنی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے گھر آیا میں نے سوچا یہ صاحب تورات کے بھی عالم ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں راوی کہتے ہیں : میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: آپ مجھے اس گھڑی کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے جو بھی آپ جمعہ کے دن بارے میں فرماتے تھے تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن ہیدا کیا تھا انہیں جمعہ کے دن جنت میں رہنے کے لئے ٹھہرایا تھا انہیں جمعہ کے دن زمین پر اتارا تھا انہیں جمعہ کے دن وفات دی تھی یہ وہ دن ہے ، جس میں ایک گھڑی ہوتی ہے ، اور یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( مسلمان بندہ ) نماز کے دوران ( دعا مانگے ، تو دعا قبول ہوتی ہے ) تو انہوں نے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ بات ذائد نقل کی ہے : ” پھر میں ان کے پاس سے راوی کہتے ہیں : یعنی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے گھر آیا میں نے سوچا یہ صاحب تورات کے بھی عالم ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں راوی کہتے ہیں : میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: آپ مجھے اس گھڑی کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے جو بھی آپ جمعہ کے دن بارے میں فرماتے تھے تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن ہیدا کیا تھا انہیں جمعہ کے دن جنت میں رہنے کے لئے ٹھہرایا تھا انہیں جمعہ کے دن زمین پر اتارا تھا انہیں جمعہ کے دن وفات دی تھی یہ وہ دن ہے ، جس میں ایک گھڑی ہوتی ہے ، اور یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( مسلمان بندہ ) نماز کے دوران ( دعا مانگے ، تو دعا قبول ہوتی ہے ) تو انہوں نے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3015
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ قَالَ : " فِيهَا سَاعَةٌ لَا يَدْعُو الْعَبْدُ فِيهَا رَبَّهُ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ " قُلْتُ : أَيُّ سَاعَةٍ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ حِينَ يَقُومُ الْإِمَامُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جمعہ کی نماز کے بارے میں آپ ہمیں حکم بیان کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ( یعنی جمعہ کے دن ) میں ایک گھڑی ایسی ہے ، جس میں بندہ اپنے پروردگار سے جو دعا مانگتا ہے پروردگار وہ دعا قبول کرتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ گھڑی کون سی ہے آپ نے فرمایا : وہ گھڑی جب امام کھڑا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ۔
حدیث نمبر: 3016
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ سَاعَةَ الْجُمُعَةِ فِي إِحْدَى السَّاعَاتِ الثَّلَاثِ ؛ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، وَمَا دَامَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَعِنْدَ الْإِقَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ جمعہ کے دن کی تین گھڑیوں میں سے کوئی ایک گھڑی یہ ہوتی ہے ، جب مؤذن اذان دے جب تک امام منبر پر رہے ، اور اقامت کے وقت
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔