حدیث نمبر: 2995
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ ؟ قَالَ : " فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُهْبِطَ آدَمُ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ عَبْدٌ فِيهَا اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ مَأْثَمًا أَوْ قَطِيعَةَ رَحِمٍ ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ ، مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا حَجَرٍ إِلَّا وَهُوَ يُشْفِقُ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ " وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَائِشَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فِي أَنَّ الْيَهُودَ حَسَدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ فِي بَابِ الْقِبْلَةِ وَالتَّأْمِينِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : آپ ہمیں جمعہ کے دن کے بارے میں بتائیے کہ اس میں کون سی بھلائی موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں پانچ خصوصیات ہیں اس دن میں سیدنا آدم علیہ السلام ) کو پیدا کیا گیا اس دن میں ان کو نیچے اتارا گیا اس دن میں اللہ تعالٰی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو وفات دی اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس گھڑی میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگنے ، تو اللہ تعالی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، جب کہ اس نے کسی گناہ والی چیز یا قطع رحمی سے متعلق نہ مانگا ہو اسی دن میں قیامت قائم ہو گی ہر مقرب فرشتہ آسمان زمین پہاڑ پتھر جمعہ کے دن سے خوف زدہ رہتے ہیں ( کہ کہیں آج قیامت قائم نہ ہو جائے ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاذ بن جبل کے حوالے سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” یہودی جمعہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں “ ۔ یہ قبلہ اور آمین کہنے سے متعلق باب میں پہلے گزری ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاذ بن جبل کے حوالے سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” یہودی جمعہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں “ ۔ یہ قبلہ اور آمین کہنے سے متعلق باب میں پہلے گزری ہے ۔
حدیث نمبر: 2996
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : عُرِضَتِ الْجُمُعَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَهُ جِبْرِيلُ فِي كَفِّهِ كَالْمِرْآةِ الْبَيْضَاءِ فِي وَسَطِهَا كَالنُّكْتَةِ السَّوْدَاءِ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " قَالَ : هَذِهِ الْجُمُعَةُ يَعْرِضُهَا عَلَيْكَ رَبُّكَ لِتَكُونَ لَكَ عِيدًا وَلِقَوْمِكَ مِنْ بَعْدِكَ، وَلَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ تَكُونُ أَنْتَ الْأَوَّلَ وَيَكُونُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى مِنْ بَعْدِكَ، وَفِيهَا سَاعَةٌ لَا يَدْعُو أَحَدٌ رَبَّهُ فِيهَا بِخَيْرٍ هُوَ لَهُ قَسَمٌ إِلَّا أَعْطَاهُ ، أَوْ يَتَعَوَّذُ مِنْ شَرٍّ إِلَّا دَفَعَ عَنْهُ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْهُ ، وَنَحْنُ نَدْعُوهُ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْمَزِيدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَرَوَى أَبُو يَعْلَى طَرَفًا مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جمعہ کا دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا سیدنا جبرائیل اپنی ہتھیلی میں ایک صاف آئینہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے درمیان ایک سیاہ نقطہ موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کیا ہے انہوں نے عرض کی : یہ جمعہ کا دن ہے ، جو آپ کے پروردگار نے آپ کے سامنے کیا ہے تاکہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے عید بن جائے آپ لوگوں کے لئے اس میں بھلائی ہے آپ پہلے فرد ہیں ( جن کو یہ دن دیا گیا ہے ) یہودیوں اور عیسائیوں کے دن اس کے بعد ہیں اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس گھڑی میں جو بندہ اپنے پروردگار سے بھلائی کی جو بھی دعا مانگے گا اگر وہ اس کے نصیب میں ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دے گا یا وہ جس بھی شر سے پناہ مانگے گا ، تو اللہ تعالی وہ شر اس سے دور کر دے گا ہم ( فرشتے ) آخرت میں اسے ” یوم مزید“ کے نام سے پکارتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اگر اللہ نے چاہا تو
یہ روایت آگے چل کر جنت کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ“ ہیں امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت آگے چل کر جنت کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ“ ہیں امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2997
وَلِأَنَسٍ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَيَّامُ فَعُرِضَ عَلَيَّ فِيهَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَإِذَا هِيَ كَمِرْآةٍ بَيْضَاءَ ، فَإِذَا فِي وَسَطِهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ قِيلَ : السَّاعَةُ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے سامنے مختلف دن پیش کیے گئے ان میں میرے سامنے جمعہ کا دن پیش کیا گیا تو وہ سفید آئینے کی مانند تھا جس کے درمیان میں ایک سیاہ نقطہ موجود تھا میں نے دریافت کیا : یہ ( سیاہ نقطہ ) کیا ہے ، تو بتایا گیا : قیامت “ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2998
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِتَارِكٍ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا غَفَرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ جمعہ کے دن مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی ترک نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کی ( یعنی جمعہ کے دن ہر مسلمان کی ) مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2999
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُضَاعَفُ الْحَسَنَاتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ آدَمَ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن نیکیوں کو دگنا کر دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن آدم ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن آدم ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 3000
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ ، وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ، وَفِيهَا الْبَطْشَةُ ، وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : جمعہ کے دن کو یہ نام کس وجہ سے دیا گیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام کے خمیر کو اس دن تیار کیا گیا اسی دن قیامت آئے گی ، اور دوبارہ زندہ کیا جائے گا اسی دن گرفت ہو گی ، اور اس دن کی آخری تین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو شخص اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا اس کی دعا قبول ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3001
وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ بِأَفْضَلَ أَوْ بِأَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورج ایسے کسی بھی دن پر طلوع اور غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) زیادہ عظمت رکھتا ہو “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3002
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيِّدُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ أَبُوكُمْ، وَفِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ خَرَجَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْجَوْزِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے ، اس دن میں تمہارے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام کو پید کیا گیا اس دن میں وہ جنت میں داخل ہوئے اسی دن میں وہ ( جنت سے ) نکلے اسی دن میں قیامت قائم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید بن جوزی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید بن جوزی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3003
وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ نَحْوُهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام کے حوالے سے اس کی مانند روایت ایک طویل حدیث میں نقل کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3004
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُحْشَرُ الْأَيَّامُ عَلَى هَيْئَتِهَا وَتُحْشَرُ الْجُمُعَةُ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً ، أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى خِدْرِهَا تُضِيءُ لَهُ يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا ، أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا وَرِيحُهُمْ كَالْمِسْكِ ، يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقْلَانِ لَا يَطْرُقُونَ تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُخَالِطُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُمَا قَوْمٌ وَضَعَّفَهُمَا آخَرُونَ وَهُمَا مُحْتَجٌّ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دنوں کو ان کی مخصوص شکل میں اٹھایا جائے گا ، جمعہ کے دن کو روشن اور چمک دار شکل میں اٹھایا جائے گا ، اور اس کے اہل افراد سے یوں ساتھ لے کر چلیں گے جس طرح دلہن کو اس کے خیمے کی طرف لے جایا جاتا ہے ، اس دن کی روشنی ہو گی ، اور لوگ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے ان کی رنگت سفید برف کی مانند ہو گی ، اور ان کی خوشبو مشک کی مانند ہو گی وہ لوگ کافور کے پہاڑوں میں جائیں گے ، جن و انس ان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور حیرانگی کی وجہ سے پلک نہیں چھپک رہے ہوں گے یہاں تک کہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے ان لوگوں کے ساتھ اور کوئی ( دوسرا ) شخص شامل نہیں ہو گا صرف ثواب کے حصول کی نیت سے اذان دینے والے لوگ شامل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ہیثم بن حمید کے حوالے سے حفص بن غیلان سے نقل کی ہے ایک قوم نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ہیثم بن حمید کے حوالے سے حفص بن غیلان سے نقل کی ہے ایک قوم نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3005
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ الْمَلَائِكَةِ ؟ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَأَفْضَلُ النَّبِيِّينَ آدَمُ ، وَأَفْضَلُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، وَأَفْضَلُ الشُّهُورِ شَهْرُ رَمَضَانَ ، وَأَفْضَلُ اللَّيَالِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، وَأَفْضَلُ النِّسَاءِ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کیا میں تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والے فرشتے کے بارے میں نہ بتاؤں وہ جبرائیل ہے ، اور انبیاء میں سے زیادہ فضیلت والے سیدنا آدم علیہ السلام ہیں ، اور دنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا دن جمعہ کا دن ہے ، اور مہینوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا مہینہ رمضان کا مہینہ ہے ، اور راتوں میں سب سے زیادہ فضیلت والی رات شب قدر ہے ، اور خواتین میں سب سے زیادہ فضیلت والی خاتون مریم بنت عمران ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3006
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ " وَكَانَ إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ قَالَ : " هَذِهِ لَيْلَةٌ غَرَّاءُ وَيَوْمٌ أَزْهَرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَجَهَّلَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب رجب کا مہینہ شروع ہو جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے اے اللہ ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت رکھ دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے جب جمعہ کی رات آتی تھی تو آپ فرماتے تھے یہ ایک روشن رات ہے ، اور یہ چمک دار دن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکرالحدیث ہے ایک جماعت نے اسے مجہول قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکرالحدیث ہے ایک جماعت نے اسے مجہول قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3007
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحُذَيْفَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَضَلَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، لِلْيَهُودِ السَّبْتَ وَلِلنَّصَارَى الْأَحَدَ ، نَحْنُ الْآخِرُونَ فِي الدُّنْيَا الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَغْفُورُ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " الْمَغْفُورُ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالی نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ کے دن کے بارے میں گمراہ کر دیا یہودیوں کا دن ہفتے کا دن ہے ، اور عیسائیوں کا دن اتوار کا دن ہے ہم دنیا میں ( آنے کے اعتبار سے ) بعد والے ہیں ، اور قیامت کے دن پہلے ہوں گے جن کی مغفرت تمام مخلوق سے پہلے ہو جائے گی“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جن کی مغفرت تمام مخلوق سے پہلے ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3008
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعٌ وَعِشْرُونَ سَاعَةً لَيْسَ فِيهَا سَاعَةٌ إِلَّا وَلِلَّهِ فِيهَا سِتُّمِائَةِ عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ " قَالَ : فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ فَذَكَرْنَا لَهُ حَدِيثَ ثَابِتٍ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ عَنْ أُمِّ عَوَّامٍ الْبَصَرِيِّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں چوہیں گھڑیاں ہوتی ہیں ان میں سے ہر ایک گھڑی میں اللہ تعالی چھ سو افراد کو جہنم سے نجات دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم اپنے استاد کے پاس سے نکلے اور حسن بصری کے پاس آئے ہم نے ان کے سامنے ثابت کی نقل کردہ حدیث نقل کی تو انہوں نے بتایا میں نے انہیں یہ بات کرتے ہوئے سنا ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے : ” وہ سب ایسے لوگ ہوں گئے ، جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالصمد بن خراش کی ام عوام بصری سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالصمد بن خراش کی ام عوام بصری سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔