حدیث نمبر: 2979
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَصَابَتْنَا السَّمَاءُ فَكَانَتِ الْبِلَّةُ مِنْ تَحْتِنَا ، وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِنَا ، وَكَانَ فِي مَضِيقٍ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَالْقَوْمُ عَلَى رَوَاحِلِهِمْ يُومِي إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ وَهُوَ هُنَا مِنْ حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ إِسْنَادُ أَبِي دَاوُدَ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا دَاوُدَ قَالَ : غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے بارش ہو گئی لیکن ہمارے نیچے تری تھی اور اوپر بارش تھی اور وہ جگہ تنگ تھی نماز کا وقت ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی اقامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے اپنی سواری پر رہتے ہوئے اور لوگوں نے اپنی سواریوں پر رہتے ہوئے اشارے کے ساتھ نماز ادا کی تھی آپ سجدے میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک جاتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہاں یہ سیدنا یعلی بن امیہ کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند امام ابوداؤد والی سند ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ امام ابوداؤد نے یہ کہا: ہے
یہ روایت غریب ہے عمر بن رماح نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہاں یہ سیدنا یعلی بن امیہ کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند امام ابوداؤد والی سند ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ امام ابوداؤد نے یہ کہا: ہے
یہ روایت غریب ہے عمر بن رماح نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
حدیث نمبر: 2980
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كُنْتُمْ فِي الْقَصَبِ أَوِ الثَّلْجِ أَوِ الرِّدَاغِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَوْمِئُوا إِيمَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ قَضَاءَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن عبداللہ مزنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نرکل ( یعنی کانے والے علاقے ) یا برف ( یعنی برفانی علاقے ) یا کیچڑ میں ہو ، اور نماز کا وقت ہو جائے ، ( اور زمین پر نماز ادا نہ کی جا سکتی ہو ) تو اشارے کے ساتھ نماز ادا کر لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قضاء ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قضاء ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2981
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى قَالَ : حَضَرْتُ الصَّلَاةَ - صَلَاةَ الْمَكْتُوبَةِ - وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رِكَابِنَا فَأَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقَدَّمْنَا ثُمَّ أَمَّنَا فَصَلَّيْنَا عَلَى رِكَابِنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فرض نماز کے وقت میں موجود تھا ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواریوں پر سوار تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کی آپ ہم سے آگے ہو گئے آپ نے ہماری امامت کی اور ہم نے اپنی سواریوں پر ہی نماز ادا کی
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عامر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عامر ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2982
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِنَ الْكُوفَةِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَطِيطٍ أَصْبَحْنَا وَالْأَرْضُ طِينٌ وَمَاءٌ فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ عَلَى دَابَّةٍ ثُمَّ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ قَطُّ عَلَى دَابَّتِي قَبْلَ الْيَوْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہمراہ کوفہ سے آ رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم اطیط کے مقام پر پہنچے تو وہ جگہ ایسی تھی جہاں کیچڑ موجود تھا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سواری پر رہتے ہوئے فرض نماز ادا کی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی آج کے دن سے پہلے میں نے کبھی بھی فرض نماز سواری پر ادا نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2983
وَعَنْ عَزَّةَ وَكَانَتْ مِنَ النِّسَاءِ الْأُوَلِ قَالَتْ : خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : لَا تُصَلُّوا عَلَى الْبَرَادِعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِنْ كَانَتْ عَزَّةُ صَحَابِيَّةً وَهُوَ الظَّاهِرُ مِنْ قَوْلِ أَبِي حَازِمٍ . ¤
محمد محی الدین
عزہ نامی خاتون جو پہلی خواتین میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوبکر نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : تم لوگ ” برادع “ ( وہ چیز جو خچر یا گدھے کی پشت پر رکھی جاتی ہے ، جس طرح گھوڑے کی پشت پر زین رکھی جاتی ہے اس ) پر رہتے ہوئے نماز ادا نہ کرو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں اگرچہ عزہ نامی خاتون صحابیہ ہیں لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ابوحازم کا بیان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں اگرچہ عزہ نامی خاتون صحابیہ ہیں لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ابوحازم کا بیان ہے ۔
حدیث نمبر: 2984
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّلَاةُ عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ فِي السَّفَرِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سفر کے دوران سواری کی پشت پر نماز اس ، اس طرح ادا کی جائے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان ابو أحمد ابن عدی اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان ابو أحمد ابن عدی اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2985
وَعَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَى بَعِيرٍ نَحْوَ الشَّامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقَدٍ الْحَرَّانِيُّ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : تَرَكُوهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر سوار ہو کر شام کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن واقد حرانی ہے ، جسے امام أحمد اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لوگوں نے اسے ترک کر دیا تھا ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن واقد حرانی ہے ، جسے امام أحمد اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لوگوں نے اسے ترک کر دیا تھا ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2986
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي التَّطَوُّعِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِي إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز ادا کر لیتے تھے خواہ اس کا رخ جس بھی طرف ہو آپ اشارے کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ، اور سجدے میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک جاتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر سے منقول حدیث ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جو کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے امام أحمد اور امام بزار نے نقل کیا ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2987
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر اپنی سواری پر نفل نماز ادا کر لیتے تھے جب انہوں نے وتر ادا کرنے ہوتے تو وہ سواری سے نیچے اتر کر زمین پر وتر ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2988
وَعَنْ شُقْرَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَأَيْتُ بِعَيْنَيِّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَجِّهًا إِلَى خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ يُومِيءُ إِيمَاءً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الشَّافِعِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شقران جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار تھے آپ کا رُخ خیبر کی طرف تھا اور آپ نے اشارے کے ساتھ نماز ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ امام شافعی ابن حبان اور امام ابو أحمد بن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ امام شافعی ابن حبان اور امام ابو أحمد بن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2989
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي السُّبْحَةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهِ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الْمَكْتُوبَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر اپنی سواری پر نفل نماز ادا کر لیتے تھے جب انہوں نے وتر ادا کرنے ہوتے تو وہ سواری سے نیچے اتر کر زمین پر وتر ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2990
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ اللَّيْثِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر وتر ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔