کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کشتی میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2991
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي السَّفِينَةِ قَائِمًا إِلَّا أَنْ يَخْشَى الْغَرَقَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَإِسْنَادَهُ مُتَّصِلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز ادا کریں البتہ اگر ڈوبنے کا اندیشہ ہو ، تو معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اس کی سند متصل ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ومما روى ابن عمر ، 1183»
حدیث نمبر: 2992
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَى أَرْضٍ بِشَقِّ سِرَّيْنَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِدِجْلَةَ حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَأَمَّنَا قَاعِدًا عَلَى بِسَاطٍ فِي السَّفِينَةِ ، وَإِنَّ السَّفِينَةَ لَتُجَرُّ بِنَا جَرًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکل کر ” شق سرین “ نامی جگہ کی طرف گیا ۔ یہاں تک جب ہم دجلہ کے مقام پر پہنچے تو ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کشتی میں بچھونے پر بیٹھ کر ہماری امامت کی حالانکہ کشتی ہمیں لے کے چل رہی تھی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔