حدیث نمبر: 2961
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ صَلَاتَيْنِ يَوْمَ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بنو مصطلق کے ساتھ غزوہ کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں ۔
حدیث نمبر: 2962
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ ، وَفِيهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2963
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ ابْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تیزی سے سفر کرنا مطلوب ہوتا تو آپ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالخارق ہے اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالخارق ہے اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2964
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَامَ غَزَوْنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الْجَمْعِ بِسَرِفَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! جب ہم بنو مصطلق کے ساتھ جنگ کے لئے گئے تھے ( اس موقع پر آپ نے ایسا کیا تھا ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” سرف “ صرف کے مقام پر دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں یہ روایت امام ابوداؤ داور دیگر حضرات نے نقل کی ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2965
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْعَشَاءَ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران ظہر کی نماز مؤخر کر دیتے تھے ، اور عصر کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے آپ مغرب کی نماز مؤخر کر دیتے تھے ، اور عشاء کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے ، جسے یحیی بن معین ابن عدی اور ابوزرعہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے ، جسے یحیی بن معین ابن عدی اور ابوزرعہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 2966
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2967
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے آپ سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2968
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ يُؤَخِّرُ هَذِهِ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَيُعَجِّلُ هَذِهِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے آپ ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں تاخیر کے ساتھ ادا کرتے تھے ، اور دوسری نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں جلدی ادا کرتے تھے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2969
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَشُعْبَةُ وَزُهَيْرٌ وَغَيْرُهُمْ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خُزَيْمَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَخَالَفَهُمْ غَيْلَانُ وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ فَقَالَا : عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازوں میں ایک ہی اقامت کے ساتھ پہلے تین اور پھر دو رکعات ادا کی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ حدیث یحیی بن سعید انصاری شعبہ زہیر اور دیگر راویوں نے ثابت کے حوالے سے عبداللہ بن یزید کے حوالے سے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے غیلان اور جابر جعفی نے ان حضرات کے برخلاف نقل کیا ہے ، اور ان دونوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تاہم درست یہ ہے کہ یہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے
یہ روایت ثوری نے جابر کے حوالے سے عدی کے حوالے سے عبداللہ بن یزید کے حوالے سے سیدنا ابوایوب انصاری سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ حدیث یحیی بن سعید انصاری شعبہ زہیر اور دیگر راویوں نے ثابت کے حوالے سے عبداللہ بن یزید کے حوالے سے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے غیلان اور جابر جعفی نے ان حضرات کے برخلاف نقل کیا ہے ، اور ان دونوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تاہم درست یہ ہے کہ یہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے
یہ روایت ثوری نے جابر کے حوالے سے عدی کے حوالے سے عبداللہ بن یزید کے حوالے سے سیدنا ابوایوب انصاری سے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2970
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَ الثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن یزید انصاری سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک اقامت کے ساتھ ( دو نمازیں ایک ساتھ ) ادا کی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2971
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعَشَاءَ فَصَلَّاهَا جَمْعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَارِثِيُّ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مُخْتَصَرًا : كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثِقَةٌ مَشْهُورٌ بِالْعِبَادَةِ قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں آپ نے مغرب کی نماز کو موخر کر دیا تھا اور عشاء کی نماز جلدی ادا کر لی تھی اور ان دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : محمد بن عبدالوہاب حارثی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے
یہ روایت امام بزار نے مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے محمد بن عبدالوہاب نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، اور عبادت کے حوالے سے مشہور ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : محمد بن عبدالوہاب حارثی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے
یہ روایت امام بزار نے مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے محمد بن عبدالوہاب نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، اور عبادت کے حوالے سے مشہور ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2972
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَجَدَّ بِهِ السَّيْرُ فَرَكِبَ قَبْلَ أَنْ يَفِيءَ الْفَيْءُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ الْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَيَنْزِلُ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا ، ثُمَّ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَبْدُوَ غُيُوبُ الشَّفَقِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کر رہے ہوتے تھے ، اور آپ نے تیزی سے سفر کرتا ہوتا تھا اور آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہو جاتا تھا تو آپ پڑاؤ کرتے تھے ، اور یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے پھر آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دینے تھے یہاں تک کہ شفق کا غروب ہونا سامنے آ جاتا تھا تو آپ پڑاؤ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، جس کے بارے میں بہت کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، جس کے بارے میں بہت کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2973
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ جَمَعَ بَيْنِهِمَا فِي أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ ، كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کر رہے ہوتے تھے ، اور آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تھا تو آپ عصر اور ظہر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے ، اور اگر آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے تو آپ عصر کے ابتدائی وقت میں یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے مغرب اور عشاء میں بھی آپ ایسا ہی کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2974
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى آخِرِ وَقْتِهَا وَصَلَّاهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جب انہوں نے سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنی ہوتی تھیں تو وہ ظہر کی نماز کو اس کے آخری وقت تک مؤخر کر کے ادا کر لیتے تھے ، اور عصر کی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لیتے تھے وہ مغرب کی نماز کو اس کے آخری وقت میں ادا کر لیتے تھے ، اور عشاء کی نماز اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لیتے تھے ، اور وہ یہ بات بیان کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہوئے ایسا ہی کرتے تھے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 2975
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَعَلَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَيُصَلِّي الْعَصْرَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، ثُمَّ يَسِيرُ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَيَخْرُجُ وَقْتُهَا مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ، ثُمَّ قَالَ حِينَ دَنَا : " إِنَّا نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَبُوكَ فَلَا يَسْبِقُنَا أَحَدٌ إِلَى الْمَاءِ " قَالَ مُعَاذٌ : فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ سَبَقَ إِلَى الْمَاءِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ سَبَقَا إِلَى الْمَاءِ فَاسْتَقَيْنَا فِي قِرْبَتَيْنِ مَعَهُمَا وَكَدُرَ الْمَاءُ ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكُمَا أَنْ لَا يَسْبِقَنَا إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ " ، فَدَعَا بِالْقِرْبَتَيْنِ فَصُبَّتَا فِي الْمَاءِ وَدَعَا اللَّهَ فَفَاضَ الْمَاءُ فَقَالَ : " كَأَنَّكَ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ تَرَ مَا هَا هُنَا قَدْ مُلِءَ جِنَانًا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ إِلَّا غُصْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ غُصْنًا هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ روانہ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے آپ ظہر کی نماز اس کے آخری وقت میں ادا کرتے تھے ، اور عصر کی نماز اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرتے تھے پھر آپ روانہ ہو جاتے تھے آپ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب اس کا وقت ختم ہونے والا ہوتا تھا اور شفق ابھی غروب نہیں ہوئی ہوتی تھی اور عشاء کی نماز اس کے ابتدائی وقت میں اس وقت ادا کر لیتے تھے جب شفق غروب ہو جاتی تھی جب ہم ( تبوک کے ) قریب پہنچے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو کل ہم تبوک پہنچ جائیں گے کوئی بھی شخص ہم سے پہلے پانی تک نہ پہنچے سیدنا معاذ بیان کرتے ہیں : میں وہ پہلا فرد تھا جو پانی تک پہنچ گیا لیکن وہاں اس سے پہلے دو افراد پانی تک پہنچ چکے تھے ان دونوں نے اپنے پاس موجود مشکیزوں میں پانی ڈال لیا ہوا تھا اور پانی گدلا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تم لوگو کو منع نہیں کیا تھا کہ ہم سے پہلے کوئی شخص پانی تک نہ پہنے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مشکیزوں کو منگوایا اور ان دونوں کے پانی کو ( چشمے کے ) پانی میں ڈال دیا گیا پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو پانی پھوٹ پڑا آپ نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ایسا ہو گا کہ اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ، تو تم دیکھو گے کہ یہاں بہت سے باغات بن گئے ہوں گے ۔ ( جو اس پانی سے سیراب ہو کر بنے ہوں گے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ ہیں اور دوسری کتابوں میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابن ثوبان کے حوالے سے اسے صرف غصن بن اسماعیل نے روایت کیا ہے ، اور محمد بن غالب نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو غصن نامی اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ ہیں اور دوسری کتابوں میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابن ثوبان کے حوالے سے اسے صرف غصن بن اسماعیل نے روایت کیا ہے ، اور محمد بن غالب نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو غصن نامی اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔