حدیث نمبر: 2894
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرِيضًا وَأَنَا مَعَهُ فَرَآهُ يُصَلِّي وَيَسْجُدُ عَلَى وِسَادَةٍ فَنَهَاهُ وَقَالَ : " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ فَاسْجُدْ وَإِلَّا فَأَوْمَى إِيمَاءً وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ مَرِيضًا فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى وِسَادَةٍ فَرَمَى بِهَا فَأَخَذَ عُودًا يُصَلِّي عَلَيْهِ فَرَمَى بِهِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیار کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے میں آپ کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ نماز ادا کر رہا تھا اور تکیہ پر سجدہ کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم زمین پر سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہو ، تو سجدہ کر لو ورنہ اشارہ کر لو اور ( اشارہ کرتے ہوئے ) سجدے میں رکوع سے زیادہ جھک جاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کرنے کے لئے گئے آپ نے اسے ایک تکیہ پر نماز ادا کرتے ہوئے ( یعنی تکیہ پر سجدہ کرتے ہوئے ) ملاحظہ فرمایا تو تکیہ کو ایک طرف کر دیا وہ شخص لکڑی پکڑ کر اس کے سہارے نماز ادا کر رہا تھا تو آپ نے اسے بھی ایک طرف کر دیا “ ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کرنے کے لئے گئے آپ نے اسے ایک تکیہ پر نماز ادا کرتے ہوئے ( یعنی تکیہ پر سجدہ کرتے ہوئے ) ملاحظہ فرمایا تو تکیہ کو ایک طرف کر دیا وہ شخص لکڑی پکڑ کر اس کے سہارے نماز ادا کر رہا تھا تو آپ نے اسے بھی ایک طرف کر دیا “ ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2895
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَرِيضًا وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى عُودٍ فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْعُودِ فَأَوْمَى إِلَيْهِ فَطَرَحَ الْعُودَ وَأَخَذَ وِسَادَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْهَا عَنْكَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ وَإِلَّا فَأَوْمِ إِيمَاءً وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِنْقَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنْ أَحْمَدَ فِي تَوْثِيقِهِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ ضَعَّفَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے ایک بیمار شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے میں آپ کے ساتھ تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس پہنچے تو وہ ایک لکڑی کے سہارے نماز ادا کر رہا تھا وہ اپنی پیشانی لکڑی پر رکھ دیتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ کیا تو اس نے لکڑی ایک طرف کر دی پھر اس نے تکیہ لے لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا اسے چھوڑ دو اگر تم زمین پر سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہو ، تو ٹھیک ہے ورنہ تم اشارہ کر لو اور سجدے میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان بن منقری ہے اور وہ متروک ہے ، اس کی توثیق کے بارے میں امام أحمد سے مختلف روایات منقول ہیں صحیح روایت یہ ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان بن منقری ہے اور وہ متروک ہے ، اس کی توثیق کے بارے میں امام أحمد سے مختلف روایات منقول ہیں صحیح روایت یہ ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2896
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْجُدَ فَلْيَسْجُدْ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلَا يَرْفَعْ إِلَى جَبْهَتِهِ شَيْئًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ وَلَكِنْ رُكُوعُهُ وَسُجُودُهُ يُومِئُ إِيمَاءً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ لَيْسَ فِيهِمْ كَلَامٌ يَضُرُّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے جو شخص سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ سجدہ کر لے اور جو شخص اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ اپنی پیشانی کی طرف کوئی چیز بلند نہ کرے تاکہ اس پر سجدہ کرے بلکہ اسے رکوع اور سجود اشارے کے ساتھ کرنے چاہئیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ان کے بارے میں کوئی ایسا کلام نہیں کیا گیا جو نقصان دہ ہو باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ان کے بارے میں کوئی ایسا کلام نہیں کیا گیا جو نقصان دہ ہو باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2897
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا فَإِنْ نَالَتْهُ مَشَقَّةٌ صَلَّى جَالِسًا فَإِنْ نَالَتْهُ مَشَقَّةٌ صَلَّى نَائِمًا يُومِئُ بِرَأْسِهِ فَإِنْ نَالَتْهُ مَشَقَّةٌ سَبَّحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا حِلْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبْعَيُّ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیمار شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرے گا اگر اسے مشقت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے گا اگر پھر بھی اسے مشقت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ لیٹ کر نماز ادا کرے گا ، اور اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر لے گا اگر اس میں بھی اسے مشقت لاحق ہوتی ہے ، تو پھر وہ تبیح پڑھ لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابن جریج کے حوالے سے اس روایت کو صرف حلس بن محمد ضبعی نے روایت کیا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابن جریج کے حوالے سے اس روایت کو صرف حلس بن محمد ضبعی نے روایت کیا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2898
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى الْأَرْضِ فِي الْمَكْتُوبَةِ قَاعِدًا وَقَعَدَ فِي التَّسْبِيحِ فِي الْأَرْضِ فَأَوْمَى إِيمَاءً . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَاضِي حَلَبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر بیٹھ کر فرض نماز ادا کی اور آپ نے نفل نماز زمین پر ادا کی اور اس میں اشارہ کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر ہے ، جو حلب کا قاضی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر ہے ، جو حلب کا قاضی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2899
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَخِيهِ عُتْبَةَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى سِوَاكٍ يَرْفَعُهُ إِلَى وَجْهِهِ فَأَخَذَهُ فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ : أَوْمِ إِيمَاءً وَلْتَكُنْ رَكْعَتُكَ أَرْفَعَ مِنْ سَجْدَتِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اپنے بھتیجے عتبہ کے ہاں گئے جو مسواک کے سہارے نماز ادا کر رہے تھے وہ اس مسواک کو اپنی پیشانی تک بلند کرتے تھے تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے مسواک لے کر ایک طرف رکھ دی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : تم اشارے کے ساتھ نماز ادا کرو اور تمہارے رکوع میں تم سجدے کی بہ نسبت ذرا بلند رہنا ( یعنی پیشانی کو زیادہ نہ جھکانا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2900
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : دَخَلَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَا : إِنَّ أُمَّ الْأَسْوَدِ أُقْعِدَتْ وَأَنَّهُ يُرْكِزُ لَهَا عَوْدَ الْمِرْوَحَةِ تَسْجُدُ عَلَيْهِ فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَعْرِضُ بِالْعُودِ ، لِتَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَاعَتْ وَإِلَّا تُومِئُ إِيمَاءً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : علقمہ اور اسود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے عرض کی : اسود کی والدہ کو بٹھا دیا جاتا ہے پھر ان کے لئے ایک لکڑی رکھی جاتی ہے ، جس پر وہ سجدہ کرتی ہیں تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیطان اس لکڑی کے در پے ہوتا ہے ، اس عورت کو زمین پر سجدہ کرنا چاہیے اگر وہ اس کی استطاعت رکھتی ہو ، ورنہ اسے اشارے کے ساتھ سجدہ کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2901
وَعَنِ الْمُخْتَارِ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ فَقَالَ : يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ قَاعِدًا فِي الْمَكْتُوبَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مختار بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بیمار شخص کی نماز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : وہ فرض نماز میں بیٹھ کر رکوع اور سجود کرے گا
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2902
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کی نماز کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی نماز کا ( اجر و ثواب کے حساب سے ) نصف ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2903
وَعَنْ عَائِشَةَ رَفَعَتْهُ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بیٹھ کر ( نماز ادا کرنے والے ) کی نماز کھڑے ہو کر ( نماز ادا کرنے والے ) کی نماز کا نصف ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2904
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہونے والے کی نماز کا نصف ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2905
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يُصَلِّي قَاعِدًا فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الْقِيَامَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ صَالِحُ ابْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَالَ أَحْمَدُ : يُعْتَبَرُ لِحَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مطلب بن ابوداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا : بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے ) کی نماز کھڑے ہو کر ( نماز ادا کرنے والے ) کی نماز کا نصف ہوتی ہے “ ۔ تو لوگ اہتمام سے کھڑے ہونے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے ، جسے جہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے ، جسے جہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 2906
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي قَاعِدًا وَقَائِمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : سَعِيدٌ رَوَى عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ وَرَوَى عَنْهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن شخیر بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ بیٹھ کر بھی ( نفل ) نماز ادا کر لیتے تھے ، اور کھڑے ہو کر بھی ادا کر لیتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس کا نام سعید ہے ، اس نے غیلان بن جریر سے روایت نقل کی ہے ، جب کہ اس سے زید بن حباب نے روایت نقل کی ہے : میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں اس ردایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس کا نام سعید ہے ، اس نے غیلان بن جریر سے روایت نقل کی ہے ، جب کہ اس سے زید بن حباب نے روایت نقل کی ہے : میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں اس ردایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔