کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نماز کے فوراً بعد کیا ذکر کیا جائے اور دعا مانگی ؟
حدیث نمبر: 2891
عَنْ أَبِي هَارُونَ قَالَ : قُلْنَا لِأَبِي سَعِيدٍ : هَلْ حَفِظْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا كَانَ يَقُولُهُ بَعْدَ مَا سَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ كَانَ يَقُولُ : " سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصْفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا الْبَابَ هُنَا لِيَتَنَبَّهَ بِهِ عَلَى مَا يَأْتِي فِي الْأَذْكَارِ وَالْأَدْعِيَةِ مِمَّا يُقَالُ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوہارون بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ایسی بات یاد ہے ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد پڑھتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : ” تمہارا پروردگار ہر عیب سے پاک ہے ، جو غلبے والا پروردگار ہے ہر اس چیز سے پاک ہے ، جو وہ لوگ ( اس کی ) صفت بیان کرتے ہیں ، اور رسولوں پر سلام ہو اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے یہ باب یہاں اس لئے ذکر کر دیا ہے تاکہ اس چیز پر تنبیہ ہو جائے جو آگے چل کے اذکار اور دعائیں آئیں گے جو نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں یا اس کے علاوہ پڑھے جاتے ہیں اگر اللہ نے چاہا ( تو یہ آگے آئیں گے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے یہ باب یہاں اس لئے ذکر کر دیا ہے تاکہ اس چیز پر تنبیہ ہو جائے جو آگے چل کے اذکار اور دعائیں آئیں گے جو نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں یا اس کے علاوہ پڑھے جاتے ہیں اگر اللہ نے چاہا ( تو یہ آگے آئیں گے ) ۔
حدیث نمبر: 2892
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے وہ اگلی نماز تک اللہ تعالی کی پناہ میں رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2893
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ، وَإِذَا انْصَرَفَ الْمُنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَقِلْ : اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ قَالَتِ النَّارُ : يَا وَيْحَ هَذَا أَعَجَزَ أَنْ يَسْتَجِيرَ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ ! ! وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَا وَيْحَ هَذَا أَعْجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ! ! وَقَالَتِ الْحُورُ الْعَيْنِ : أَعْجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللَّهَ أَنْ يُزَوِّجَهُ مِنَ الْحُورِ الْعَيْنِ ! ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَّاشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب نماز کھڑی ہوتی ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور دعا مستجاب ہوتی ہے ، جب نماز سے فارغ ہونے والا شخص نماز سے فارغ ہوتا ہے ، اور یہ نہیں پڑھتا : ” اے اللہ ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا فرما اور مجھے جنت میں داخل کر دے اور میری شادی حورعین کے ساتھ کروا دے “ ۔ تو جہنم یہ کہتی ہے ، اس شخص کا ستیاناس ہو کیا یہ اس بات سے عاجز آ گیا کہ یہ جہنم سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے اور جنت یہ کہتی ہے ، اس شخص کا ستیاناس ہو جو اس بات سے عاجز آ گیا کہ وہ اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرے اور حورعین کہتی ہے یہ شخص اس بات سے عاجز آ گیا کہ یہ اللہ تعالی سے یہ دعا کرے کہ اللہ تعالی اس کی شادی حورعین کے ساتھ کروا دے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصہ عکاشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصہ عکاشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔