حدیث نمبر: 2907
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعَتُ أَمْ أَوْتَرْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّايَ ؟ ؟ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَمْ أَوْتَرَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا إِتْمَامُ صَلَاتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ عُثْمَانَ ، وَيَزِيدُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُثْمَانَ وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ مَرْوَانَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ وَرِجَالُ الطَّرِيقَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نماز ادا کر رہا تھا مجھے پتہ نہیں چلا کہ کیا میں نے جفت تعداد میں رکعات ادا کر لی ہیں ؟ یا طاق تعداد میں رکعات ادا کی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز سے بچو کہ شیطان تمہاری نماز کے حوالے سے تمہارے ساتھ کھیلے تم میں سے جو شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ کیا اس نے جفت تعداد میں رکعات ادا کی ہیں یا طاق تعداد میں ادا کی ہیں ؟ تو اسے ۔ دو مرتبہ سجدہ کر لینا چاہیے یہ دونوں اس کی نماز کو کمل کر دیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے یزید بن ابوکبشہ کے حوالے سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے یزید نامی راوی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس راوی سے اس کے بیٹے عبداللہ نے روایت نقل کی ہے ، اس نے یزید بن ابوکبشہ کے حوالے سے مردان کے حوالے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اسے نقل کیا ہے ، اور اس کی مانند روایت نقل کی ہے : ان دونوں طرق کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے یزید بن ابوکبشہ کے حوالے سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے یزید نامی راوی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس راوی سے اس کے بیٹے عبداللہ نے روایت نقل کی ہے ، اس نے یزید بن ابوکبشہ کے حوالے سے مردان کے حوالے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اسے نقل کیا ہے ، اور اس کی مانند روایت نقل کی ہے : ان دونوں طرق کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2908
وَعَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ وَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز ادا کرتے ہوئے دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا پھر وہ اٹھے تاکہ حجر اسود کا استلام کریں تو لوگوں نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا انہوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے پھر انہوں نے باقی رہ جانے والے نماز ادا کی اور دو مرتبہ سجدہ کیا اس بات کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے ہیں
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2909
وَعَنْ مَعْدِيِّ بْنِ سُلَيْمَانَ - وَكَانَ ثِقَةً - قَالَ : أَتَيْتُ مُطَيْرًا لِأَسْأَلَهُ عَنْ حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَنْفُذُ الْحَدِيثَ مِنَ الْكِبَرِ فَقَالَ ابْنُهُ شُعَيْبٌ : بَلَى يَا أَبَةِ حَدَّثْتَنِي أَنَّكَ لَقِيتَ ذَا الْيَدَيْنِ بِذِي خُشُبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الْعَصْرُ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَخَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : مَا قَصُرَتْ وَلَا نَسِيتُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ فَقَالَا : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَّابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتِيِ السَّهْوِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ ، وَمُطَيْرٌ حَاضِرٌ يُصَدِّقُ مَقَالَتَهُ قَالَ : كَيْفَ كُنْتَ أَخْبَرْتُكَ ؟ قَالَ : يَا أَبَتَاهُ إِنَّكَ لَقِيتَ ذَا الْيَدَيْنِ بِذِي خَشَبٍ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِمَّا زَادَهُ فِي الْمُسْنَدِ وَفِيهِ مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شَيْخٌ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین
معدی بن سلیمان جو ایک ” ثقہ“ راوی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں مطیر کے پاس آیا تاکہ ان سے سیدنا ذوالیدین کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کروں میں ان کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ ایک بوڑھے عمر رسیدہ آدمی تھے عمر رسیدگی کی وجہ سے وہ بات پوری نہیں کر پاتے تھے ان کے بیٹے شعیب نے کہا: جی ہاں ! اے ابا جان آپ نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ذی خشب کے مقام پر آپ کی ملاقات سیدنا ذوالیدین سے ہوئی تھی اور انہوں نے آپ کو یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز ان لوگوں کو پڑھاتے ہوئے دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا ( راوی کہتے ہیں : وہ عصر کی نماز تھی ) جلد باز لوگ باہر نکل گئے حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ سیدنا ذوالیدین نے عرض کی : کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ تو یہ مختصر ہوئی ہے ، اور نہ ہی میں بھولا ہوں پھر آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : ذولیدین کیا کہہ رہا ہے ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس گئے لوگ کھڑے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مطیر کے صاحبزادے شعیب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اور مطیر اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے اپنے صاحبزادے کے بیان کی تصدیق کی جب انہوں نے دریافت کیا : کہ میں نے تمہیں کیسے بیان کی تھی تو ان کے صاحبزادے نے کہا: اے ابا جان آپ کی ملاقات ذی خشب کے مقام پر سیدنا ذوالیدین سے ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات عبداللہ بن أحمد نے وہاں نقل کی ہیں جو انہوں نے مسند میں زوائد نقل کیے ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی سعدی بن سلیمان ہے ، اور ابوحاتم کہتے ہیں : وہ بزرگ ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2910
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحْنَا لَهُ فَاسْتَتَمَّ قَائِمًا قَالَ : فَمَضَى فِي قِيَامِهِ حَتَّى فَرَغَ قَالَ : أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنْ أَجْلِسَ إِنَّمَا صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ . ¤ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ : لَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا يَرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے دو رکعات کے بعد کھڑے ہو گئے ہم نے ان کے لئے سبحان اللہ بھی کہا: لیکن وہ کھڑے رہے انہوں نے اپنے قیام کو جاری رکھا یہاں تک کہ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ مجھے بیٹھ جانا چاہیے تھا میں نے اسی طرح کیا ہے ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ابوعثمان بن عمرو بن محمد ناقد بیان کرتے ہیں : ابومعاویہ کے علاوہ ہم نے کسی کو اس روایت کو ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کرتے ہوئے نہیں سنا ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2911
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن مالک ہمیں نماز پڑھا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے ابومعاویہ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا
یہ روایت بھی امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت بھی امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2912
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَجْدَتَا السَّهْوِ تَجْزِيَانِ مِنْ كُلِّ زِيَادَةٍ وَنَقْصٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سہو کے دو سجدے ( نماز میں ) ہر کمی و بیشی کی جگہ کفایت کر جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2913
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ وَسْوَسَةً أَجِدُهَا فِي صَدْرِي ؛ إِنِّي أَدْخُلُ فِي صَلَاتِي فَمَا أَدْرِي عَلَى شَفْعٍ أَنْفَتِلُ أَمْ عَلَى وَتْرٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِذَا وَجَدْتَ ذَلِكَ فَارْفَعْ أُصْبُعَكَ السَّبَّابَةَ الْيُمْنَى فَاطْعَنْهُ فِي فَخِذِكَ الْيُسْرَى وَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ فَإِنَّهَا سِكِّينُ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ لَمْ يُحْسِنْ سِيَاقَةَ الْحَدِيثِ ، فَلَعَلَّهُ مِنْ سَقَمِ النُّسْخَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ الْمُهَاجِرُ بْنُ الْمُنِيبِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح بن اسامہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے سامنے وسوسے کی شکایت کرنا چاہتا ہوں ، جو میں اپنے سینے میں پاتا ہوں جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو مجھے یہ پتہ نہیں چلتا کہ میں نے جفت رکعات کے بعد رکعات ختم کی ہے یا طاق رکعات کے بعد کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم یہ صورت حال پاؤ تو اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو بلند کرو اور اسے اپنے بائیں زانوں پر چبھو دو ! یہ چیز شیطان کو لگنے والی چھری ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس حدیث کا سیاق اچھی طرح سے نقل نہیں کیا ہے شاید یہ نسخے کی خامی ہو سکتی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے مہاجر بن منیب نے ابوالملیح سے روایت کیا ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس حدیث کا سیاق اچھی طرح سے نقل نہیں کیا ہے شاید یہ نسخے کی خامی ہو سکتی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے مہاجر بن منیب نے ابوالملیح سے روایت کیا ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 2914
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي رِجْلٍ سَهَا فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى قَالَ : " لَا يَنْصَرِفُ ثُمَّ يَقُومُ فِي صَلَاتِهِ حَتَّى يَعْلَمَ كَمْ صَلَّى فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْوَسْوَاسُ يَعْرِضُ فَيُسْهِيهِ عَنْ صَلَاتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ایسے شخص کے بارے میں حکم بیان کیجئے جو نماز میں بھول کا شکار ہو جاتا ہے ، اور اسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ نماز ختم نہیں کرے گا وہ نماز میں قیام کرے گا یہاں تک کہ اسے یہ پتہ چل جائے اس نے کتنی نماز ادا کی ہے کیونکہ یہ وسوسے درپیش ہوتے رہتے ہیں ، اور آدمی کو اس کے نماز کے حوالے سے غافل کر دیتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2915
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوِ الظُّهْرِ فَقَامَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا لَهُ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو عصر یا شاید ظہر کی نماز پڑھائی تو آپ دو رکعات کے بعد ( تشہد میں بیٹھنے کی بجائے ) کھڑے ہو گئے لوگوں نے آپ کو سبحان اللہ کہا: لیکن آپ نے نماز جاری رکھی جب آپ نے نماز مکمل کی تو دو مرتبہ سجدہ کر کے سلام پھیر دیا
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2916
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمُ الْعَصْرَ ثَلَاثًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُسَمَّى ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْقَصَتِ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالَ : صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَخَرَجَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا صَلَّوْا مَعَهُ فَقَالَ : "أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "إِنَّهُ زَعَمَ أَنِّي صَلَّيْتُ ثَلَاثًا" قَالُوا : صَدَقَ فَظَنَنَّا أَنَّكَ أُمِرْتَ فِي ذَلِكَ بِأَمْرٍ فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانٍ الْغَنَوِيُّ الْعَامِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا ) پھر آپ کسی زوجہ محترمہ کے گھر تشریف لے گئے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب جنہیں ذوشمالین کہا: جاتا تھا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے انہوں نے عرض کی : آپ نے تین رکعات ادا کی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ ان کا ہاتھ پکڑ کر نکلے اور لوگوں کے پاس تشریف لائے جنہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی آپ نے دریافت کیا : کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے لوگوں نے عرض کی : کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے تین رکعات پڑھائیں ہیں لوگوں نے عرض کی : یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ہم تو یہ سمجھے تھے کہ شاید آپ کو اس بارے میں کوئی حکم دیا گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مزید ایک رکعت پڑھائی اور پھر تشہد کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کر لیا
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابان غنوی عامری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابان غنوی عامری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 2917
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ثُمَّ سَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ : أَنْقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "كَذَاكَ يَا ذَا الْيَدَيْنِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : فَرَكَعَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ وَلَعَلَّهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، لَعَلَّهُ "وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا تو سیدنا ذوشمالین نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کم ہو گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ذوالیدین کیا اسی طرح ہے انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایک رکعت ادا کی اور دو سجدے کیے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 2918
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعَصْرَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتِيِ الْوَهْمِ وَهُوَ جَالِسٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھا دیں تو آپ نے وہم کے دو سجدے ( یعنی سجدہ سہو ) کیے جب آپ بیٹھے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 2919
وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ فَقُلْتُ : أُصَلِّي فَلَا أَدْرِي رَكْعَتَيْنِ صَلَّيْتُ أَوْ أَرْبَعًا ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْعُرْيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا وَدَخَلَ الْبَيْتَ وَكَانَ فِي الْقَوْمِ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ : " لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ" قَالَ : بَلْ نَسِيتَ الصَّلَاةَ قَالَ : فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَحْفَظْ مُحَمَّدٌ سَلَّمَ بَعْدُ أَمْ لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : میں نماز ادا کرتا ہوں ، اور مجھے پتہ نہیں چلتا کہ میں نے دو رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات ادا کی ہیں تو انہوں نے بتایا سیدنا ابوالعریان نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ گھر تشریف لے گئے حاضرین میں سے ایک صاحب ایسے تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذوالیدین کا نام دیا ہوا تھا ۔ سیدنا ذوالیدین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ نہ تو مختصر ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں انہوں نے عرض کی : جی نہیں آپ شاید نماز کو بھول گئے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور پھر اپنے عام سجدوں جتنا یا شاید اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا پھر آپ نے تکبیر کہی اور آپ نے اپنے سر کو اٹھایا محمد نامی راوی کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے بعد میں سلام پھیرا کہ ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2920
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قَالَ : صَلَّيْتَ خَمْسًا فَأَخَذَ بِيَدِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا حَلَقَةٌ فِيهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ : " أَحَقًّا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ خَالٍ عَنْ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ گھر تشریف لے گئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا : کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا ہوا ہے انہوں نے عرض کی : آپ نے پانچ رکعات پڑھائیں پھر آپ نے ان صاحب کا ہاتھ پکڑا اور آپ مسجد میں تشریف لائے وہاں ایک حلقہ موجود تھا جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ذوالیدین جو کہہ رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رُخ کیا پھر آپ نے دو مرتبہ سجدے کیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، جس میں سیدنا ذوالیدین کا واقعہ نقل ہوا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2921
وَعَنِ ابْنِ مَسْعَدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : صَدَقَ ، فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتِي السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : ابْنُ مَسْعَدَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ ابْنِ بَرَّةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن مسعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا شاید عصر کی نماز میں دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیا تو سیدنا ذوالیدین نے عرض کی : کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے لوگوں نے کہا: یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعات مزید پڑھا کر نماز مکمل کروائی اور پھر جب آپ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن مسعدہ کا نام عبداللہ ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد ابراہیم بن محمد بن برہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن مسعدہ کا نام عبداللہ ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد ابراہیم بن محمد بن برہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
حدیث نمبر: 2922
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَسْجُدْ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْعُمَرِيُّ وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ذوالیدین کے واقعہ والے دن سجدہ سہو نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمری ہے ، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمری ہے ، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2923
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ رِجْلٍ سَهَا فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى قَالَ : " لِيُعِدْ صَلَاتَهُ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَاعِدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو اپنی نماز کے بارے میں سہو کا شکار ہو جاتا ہے ، اور اسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اپنی نماز کو دہرا لے اور جب وہ بیٹھا ہوا ہو تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2924
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْوَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتَ فَرَأَيْتَ أَنَّكَ قَدْ أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ وَأَنْتَ فِي شَكٍّ فَتَشَهَّدِي وَانْصَرِفِي ثُمَّ اسْجُدِي سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتِ قَاعِدَةٌ ثُمَّ تَشَهَّدِي بَيْنَهُمَا وَانْصَرِفِي " . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَلَا أَدْرِي أَهْوَ هَكَذَا فِي الْأَصْلِ أَوِ النُّسْخَةُ سَقِيمَةٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ نُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں سو کی شکایت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز ادا کرو اور یہ سمجھو کہ تم نے اپنی نماز مکمل کر لی ہے ، اور تم شک کی حالت میں ہو ، تو تم تشہد میں نماز ختم کرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ کر لو جب کہ تم بیٹھی ہوئی ہو اور پھر دوبارہ تشہد پڑھو اور پھر نماز ختم کر دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) امام طبرانی نے
یہ روایت معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے مجھے نہیں معلوم کہ اصل کتاب میں بھی
یہ روایت اسی طرح ہے یا نسخے میں کوئی خامی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے ، اور متروک الحدیث ہے ، اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے مجھے نہیں معلوم کہ اصل کتاب میں بھی
یہ روایت اسی طرح ہے یا نسخے میں کوئی خامی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے ، اور متروک الحدیث ہے ، اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2925
وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدَيِّ قَالَ : خَرَجَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ وَأَصْحَابُهُ مِنْ مَكَّةَ فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِثَلَاثِ آيَاتٍ مِنَ النِّسَاءِ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور ان کے ساتھی مکہ سے نکلے سیدنا ابوموسیٰ نے انہیں مغرب کی نماز میں دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے سورت نساء کی تین آیات کی تلاوت کی پھر رکوع میں گئے اور سجدہ کیا اور سلام پھیر دیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ( کہ اس طرح کی صورت حال میں ایسا کرنا چاہیے )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2926
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَامَ فِي صَلَاتِهِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَقَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ فَعَرَفَ الَّذِي يُرِيدُونَ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُكُمْ تَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ لِكَيْ أَجْلِسَ وَأَنْ لَيْسَ تِلْكَ السُّنَّةُ ، إِنَّمَا السُّنَّةُ الَّتِي صَنَعْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُقْبَةَ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے جب ان پر بیٹھنا لازم تھا لوگوں نے سبحان اللہ سبحان اللہ کہا: انہیں لوگوں کے ارادے کا پتہ چل گیا لیکن جب انہوں نے نماز مکمل کی تو دو مرتبہ سجدہ کیا جب وہ بیٹھے ہوئے تھے ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے تم لوگوں کو سبحان اللہ کہتے ہوئے سن لیا تھا جو اس لئے تھا کہ میں بیٹھ جاؤں لیکن یہ چیز سنت نہیں ہے سنت وہ ہے ، جو میں نے کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں زہری کی سیدنا عقبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے حالانکہ زہری نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں زہری کی سیدنا عقبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے حالانکہ زہری نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2927
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَهَا قَبْلَ التَّمَامِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَقَالَ : " مَنْ سَهَا قَبْلَ التَّمَامِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَإِذَا سَهَا بَعْدَ التَّمَامِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ أَنْ يُسَلِّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مکمل کرنے سے پہلے سہو ہو گیا تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کیے آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو نماز مکمل کرنے سے پہلے سہو ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کر لے اور جب کسی کو نماز مکمل ہونے کے بعد سہو ہو تو وہ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2928
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ صَلَاةً سَهَا فِيهَا فَسَجَدَ بَعْدَ السَّلَامِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا وَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَصْنَعْ إِلَّا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن صالح بن علی بن عبداللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی جس میں انہیں سہو ہو گیا تو انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ کیا ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : میں نے صرف اسی طرح کیا ہے ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں مجہول راوی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں مجہول راوی ہے ۔