حدیث نمبر: 2889
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : إِنَّمَا أَتَقَبَّلُ الصَّلَاةَ مِمَّنْ تَوَاضَعَ بِهَا لِعَظَمَتِي وَلَمْ يَسْتَطِلْ عَلَى خَلْقِي وَلَمْ يَبِتْ مُصِرًّا عَلَى مَعْصِيَتِي، وَقَطَعَ نَهَارَهُ فِي ذِكْرِي، وَرَحِمَ الْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالْأَرْمَلَةَ وَرَحِمَ الْمُصَابَ، ذَلِكَ نُورُهُ كَنُورِ الشَّمْسِ أَكَلَؤُهُ بِعِزَّتِي وَأَسْتَحْفِظُهُ مَلَائِكَتِي أَجْعَلُ لَهُ فِي الظُّلْمَةِ نُورًا وَفِي الْجَهَالَةِ حِلْمًا وَمَثَلُهُ فِي خَلْقِي كَمَثَلِ الْفِرْدَوْسِ فِي الْجَنَّةِ" . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقَدٍ الْحَرَّانَيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَالْبُخَارِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ الْجُوزَجَانِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : كَانَ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ وَأَنْكَرَ عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میں اس نماز کو قبول کرتا ہوں جو اس شخص کی نماز ہو جو نماز کے ذریعے میری عظمت کے سامنے تواضع کا اظہار کرتا ہے ، اور میری مخلوق کے سامنے خود کو نمایاں نہیں کرتا اور میری معصیت پر اصرار نہیں کرتا وہ اپنا دن میرے ذکر میں گزارتا ہے وہ مسکین مسافر بیوہ عورت پر رحم کرتا ہے مصیبت زدہ پر رحم کرتا ہے وہ ایسی نماز ہے ، جس کا نور سورج کے نور کی مانند ہو گا ، اور اپنی عزت کی قسم ! میں اسے سنبھال کے رکھوں گا ، اور میرے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے میں اس شخص کے لئے تاریکی میں نور بنا دوں گا ، اور جہالت میں بردباری بنا دوں گا میری مخلوق میں اس شخص کی مثال جنت میں فردوس کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن واقد حرانی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ ابراہیم جو زجانی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ سچائی کی تحقیق کرتا تھا انہوں نے اس شخص کا انکار کیا ہے ، جو اس کے بارے میں کلام کرتا ہے ، اور اس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن واقد حرانی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ ابراہیم جو زجانی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ سچائی کی تحقیق کرتا تھا انہوں نے اس شخص کا انکار کیا ہے ، جو اس کے بارے میں کلام کرتا ہے ، اور اس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2890
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّلَاةُ ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ : الطَّهُورُ ثُلُثٌ ، وَالرُّكُوعُ ثُلُثٌ ، وَالسُّجُودُ ثُلُثٌ ، فَمَنْ أَدَّاهَا بِحَقِّهَا قُبِلَتْ مِنْهُ وَقُبِلَ مِنْهُ سَائِرُ عَمَلِهِ وَمَنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ صَلَاتُهُ رُدَّ عَلَيْهَا سَائِرُ عَمَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ قُلْتُ : وَالْمُغَيَّرَةُ ثِقَةٌ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَيُسِيءُ رُكُوعَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کے تین حصے ہوتے ہیں طہارت ایک تہائی حصہ ہے رکوع ایک تہائی حصہ ہے ، اور سجدہ ایک تہائی حصہ ہے ، جو شخص نماز کے حق کے ہمراہ اس کو ادا کرتا ہے ، اس کی طرف سے نماز قبول ہوتی ہے ، اور اس شخص کے دیگر تمام اعمال بھی قبول ہوتے ہیں ، اور جس شخص کی نماز مسترد کر دی جائے اس کے دیگر تمام اعمال بھی مسترد کر دیے جاتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق یہ روایت ” مرفوع “ ہونے کے طور پر صرف مغیرہ بن مسلم سے منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مغیرہ نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے متعلق احادیث پہلے گزر چکی ہیں جو اس شخص کے متعلق باب میں گزری ہیں جو نماز مکمل نہیں کرتا اور رکوع ٹھیک طرح سے نہیں کرتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق یہ روایت ” مرفوع “ ہونے کے طور پر صرف مغیرہ بن مسلم سے منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مغیرہ نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس مفہوم سے متعلق احادیث پہلے گزر چکی ہیں جو اس شخص کے متعلق باب میں گزری ہیں جو نماز مکمل نہیں کرتا اور رکوع ٹھیک طرح سے نہیں کرتا ۔