حدیث نمبر: 2873
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَلِّمُ فِي صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى نَرَى بَيَاضَ خَدَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ہم آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھ لیتے تھے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2874
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى نَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَبَيَاضَ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ہم آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی اور بائیں رخسار کی سفیدی دیکھ لیتے تھے
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2875
وَعَنْ أَعْرَابِيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ایک دیہاتی نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف اور بائیں طرف ( دونوں طرف ) سلام پھیرا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2876
وَعَنْ بِسِطَامٍ عَنْ أَعْرَابِيٍّ تَضَيَّفَهُمْ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَبِسِطَامٌ هَذَا هُوَ بِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ ، كَذَا ذَكَرَهُ الْأُسْتَاذُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ تِلْمِيذِهِ عَمْرِو بْنِ فَرُّوخَ وَكَانَ الشَّرِيفُ الْحُسَيْنِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - ظَنَّ أَنَّهُ بِسِطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ فَلَمْ يَذْكُرْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَبِسِطَامُ بْنُ النَّضْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَ رِوَايَتَهُ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ كَمَا هُنَا . ¤
محمد محی الدین
بسطام نے ایک دیہاتی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، جو ان کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے تھے کہ اس دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ( یعنی دونوں طرف ) سلام پھیرا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بسطام نامی یہ راوی بسطام بن نضر ہے ، استاد جمال الدین مزی نے ان کے شاگرد عمرو بن فروغ کے حالات میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے یہ شریف الحسینی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید بسطام بن مسلم ہے انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں بسطام بن نضر کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور انہوں نے ان صاحب کی دیہاتی کے حوالے سے نقل کردہ یہ روایت اسی طرح ذکر کی ہے ، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے بسطام نامی یہ راوی بسطام بن نضر ہے ، استاد جمال الدین مزی نے ان کے شاگرد عمرو بن فروغ کے حالات میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے یہ شریف الحسینی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید بسطام بن مسلم ہے انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں بسطام بن نضر کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور انہوں نے ان صاحب کی دیہاتی کے حوالے سے نقل کردہ یہ روایت اسی طرح ذکر کی ہے ، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2877
وَعَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَقْبِلُهُ مَسْنِدَ ظَهْرِهِ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا انْصَرَفَ وَاسْعٌ انْصَرَفَ عَنْ يَسَارِهِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِكَ ؟ قَالَ : لَا إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُكَ فَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ فَانْصَرِفْ عَنْ يَمِينِكَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ فَانْصَرِفْ إِنْ شِئْتَ عَنْ يَمِينِكَ وَإِنْ شِئْتَ عَنْ يَسَارِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
واسع بن حبان بیان کرتے ہیں : وہ مسجد میں کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمران کے سامنے موجود تھے انہوں نے مسجد کی قبلہ کی سمت والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی ہوئی تھی جب واسع نے نماز ختم کی تو وہ بائیں طرف سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمر کے پاس گئے اور ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے ان سے دریافت کیا : کہ تم دائیں طرف سے کیوں نہیں اُٹھے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس لئے کیونکہ میں نے آپ کو دیکھ لیا تھا اس لئے میں اٹھ کر آپ کی طرف آ گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں : جب تم نماز ادا کرو اور پھر اٹھنے لگو تو دائیں طرف سے اٹھو سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا : جب تم نماز ادا کرو اور اٹھنے لگو تو تم اگر دائیں طرف سے چاہو تو دائیں طرف سے اٹھ جاؤ اگر بائیں طرف سے چاہو تو اس طرف سے اٹھ جاؤ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2878
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" وَيُسَلِّمُونَ تَسْلِيمَةً . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِالتَّسْلِيمَةِ الْوَاحِدَةِ فَقَطْ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ( بلند آواز میں ) قرأت کا آغاز الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے کیا کرتے تھے ، اور ایک مرتبہ سلام پھیرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس میں ایک مرتبہ سلام پھیرنے کا ذکر ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس میں ایک مرتبہ سلام پھیرنے کا ذکر ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2879
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ رَوَاهُ عَنِ الْكُوفِيِّينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنْ غَيْرِ أَهْلِ بَلَدِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السلام عَلَيْكُمْ و َرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ کہا: کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عیاش ہے ، جس نے یہ روایت اہل کوفہ سے نقل کی ہے ، اور وہ راوی ” ضعیف “ ہے ان روایات کے بارے میں جو اس نے اپنے شہر کے علاوہ لوگوں سے نقل کی ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عیاش ہے ، جس نے یہ روایت اہل کوفہ سے نقل کی ہے ، اور وہ راوی ” ضعیف “ ہے ان روایات کے بارے میں جو اس نے اپنے شہر کے علاوہ لوگوں سے نقل کی ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2880
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو مرتبہ ( یعنی دونوں طرف ) سلام پھیرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جو ثقہ اور تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے
یہ روایت معنعن روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جو ثقہ اور تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے
یہ روایت معنعن روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2881
وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا وَضَحَ خَدَّيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : صَالِحٌ فِيهِ نَظَرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جب آپ نے نماز ادا کی تو آپ نے دائیں طرف سلام پھیرا اور بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے رخسار کی چمک دیکھ لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے ، جسے ابن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ صالح ہے ، لیکن اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے ، جسے ابن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ صالح ہے ، لیکن اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔
حدیث نمبر: 2882
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا أَنَّهُ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عباس بن سہل بن سعد بیان کرتے ہیں : وہ ایک محفل میں موجود تھے جس میں ان کے والد موجود تھے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا ابواسید تھے ، اور سیدنا ابوحمید تھے ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ بات بھی ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا کرتے تھے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوحمید کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2883
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : أَقَمْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِصْفَ شَهْرٍ فَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَسَارِهِ وَرَأَيْتُ نَعْلَيْهِ لَهُمَا قِبَالَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَمَعَ ذَلِكَ فِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نصف مہینہ بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مقیم رہے میں نے آپ کو ( نماز ادا کرنے کے بعد ) دائیں طرف سے بھی اٹھتے ہوئے دیکھا ہے ، اور بائیں طرف سے بھی اٹھتے ہوئے دیکھا ہے ، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے جوتوں کے دو تسمے ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے ہمراہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے ہمراہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2884
وَعَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) بائیں طرف سے اٹھ کر اپنے گھر جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2885
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَلَّمَ عَلَيْنَا مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا : وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : لَيْسَ بِذَاكَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب ہماری طرف سلام پھیرتے تھے تو ہم یہ کہتے تھے : وَ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ و َرَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مختار ہے ، جسے امام ابوداؤد اور ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مختار ہے ، جسے امام ابوداؤد اور ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2886
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ سَاعَةَ يُسَلِّمُ يَقُومُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَثَبَ كَأَنَّهُ يَقُومُ عَنْ رَضْفَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْجُوزَجَانِيُّ : أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : هُوَ أَرْضَى أَهْلِ الْأَرْضِ عِنْدِي وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے جیسے ہی سلام پھیرا تو آپ اٹھ گئے پھر میں نے سیدنا ابوبکر کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں نے جب سلام پھیرا تو وہ فورا اٹھ گئے یوں جیسے وہ کسی انگارے پر بیٹھے ہوئے ہوں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ابراہیم جو زجانی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ابن ابومریم کہتے ہیں : وہ میرے نزدیک روئے زمین کا سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ ( بعض اوقات دوسرے راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کر دیتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ابراہیم جو زجانی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ابن ابومریم کہتے ہیں : وہ میرے نزدیک روئے زمین کا سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ ( بعض اوقات دوسرے راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کر دیتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2887
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ وَلِلرَّجُلِ حَاجَةٌ فَلَا يَنْتَظِرُهُ إِذَا سَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِهِ وَإِنَّ فَصْلَ الصَّلَاةِ التَّسْلِيمُ . ¤ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يَقُومَ أَوْ يَتَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَهُمْ بِوَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب امام سلام پھیر دے اور آدمی کوئی کام ہو ، تو وہ امام کا یہ انتظار نہ کرے کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف رُخ کرے کیونکہ سلام پھیر کر نماز ختم ہو جاتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ کا یہ معمول تھا جب وہ سلام پھیرتے تھے تو فورا اٹھ جاتے تھے یا اپنی جگہ تبدیل کر دیتے تھے یا لوگوں کی طرف رخ کر لیتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2888
وَعَنْ غَالِبِ بْنِ فَرْقَدٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَغَالِبٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
غالب بن فرقد بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السَّلَام عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ کہا: کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان کے حوالے سے ایک ” مرفوع “ حدیث مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے غالب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے غالب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔