حدیث نمبر: 2788
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ جَمَعَ قَوْمَهُ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ أُعَلِّمْكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ فَأَحْصَى الْوُضُوءَ أَمَاكِنَهُ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ وَانْكَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ وَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ ; فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَاسْتَوَى قَائِمًا ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ سِتَّ تَكْبِيرَاتٍ وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ : احْفَظُوا تَكْبِيرِي وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذِي السَّاعَةِ مِنَ النَّهَارِ - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَتَأْتِي بَقِيَّتُهُ فِي الزُّهْدِ فِي الْمَحَبَّةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومالک اشعری نے اپنی قوم کے افراد کو جمع کیا اور بولے : اے اشعر قبیلے کے افراد تم لوگ اکھٹے ہو جاؤ اور اپنی خواتین اور اپنے بچوں کو بھی اکھٹا کر لو تاکہ میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کی تعلیم دوں وہ لوگ اکھٹے ہو گئے انہوں نے اپنی خواتین اور بچوں کو بھی اکھٹا کر لیا تو سیدنا ابومالک اشعری نے انہیں کر کے دکھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے انہوں نے وضو کے تمام اعضاء کا مکمل حساب رکھا یہاں تک کہ سایہ ڈھل گیا اور سایہ ٹوٹ گیا تو وہ کھڑے ہوئے انہوں نے اذان دی مردوں نے امام کے قریب ترین صف بنا لی پھر بچوں نے صف بنائی اور ان کے پیچھے خواتین نے صف بنائی جو بچوں کی صف کے پیچھے تھی پھر سیدنا ابومالک اشعری نے نماز پڑھائی وہ آگے بڑھے انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی اور سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کے ساتھ ایک سورت پڑھی انہوں نے ان دونوں کو پست آواز میں پڑھا پھر انہوں نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے اور سبحان اللہ و بحمدہ تین مرتبہ پڑھا پھر انہوں نے سمع الله لمن حمدہ پڑھا اور سیدھے کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر انہوں نے تکبیر کہی اور اپنے سر کو اٹھا لیا پھر تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے پھر تکبیر کہی اور سیدھے کھڑے ہو گئے تو یوں ان کی پہلی رکعت میں چھ تکبیریں تھیں پھر جب وہ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے تو انہوں نے اس وقت بھی تکبیر کہی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو انہوں نے لوگوں کی طرف رُخ کیا اور بولے : میرے تکبیر کہنے کو یاد رکھنا اور میرے رکوع اور سجود کے طریقے کا علم حاصل کر لو کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا وہ طریقہ ہے ، جس طریقے کے مطابق آپ ہمیں دن کے وقت نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اس روایت کا بقیہ حصہ محبت سے متعلق باب میں زہد سے متعلق بیان میں آئے گا اگر اللہ نے چاہا
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2789
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : فَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی اور سورت فاتحہ کی تلاوت کی اور بائیس تکبیریں کہیں ۔
حدیث نمبر: 2790
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلَهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَكَعَ ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهَا فِي الْكَبِيرِ فِي طُرُقِهَا كُلِّهَا شَهَرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَهُوَ ثِقَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاروں رکعات میں قرآءت اور قیام ایک جتنا کرتے تھے تاہم آپ پہلی رکعت کو باقیوں کی بہ نسبت طویل ادا کرتے تھے تاکہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جائے جب بھی آپ سجدے میں جاتے تھے ، اور جب بھی آپ رکوع میں جاتے تھے تو تکبیر کہتے تھے ، اور جب آپ دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کے بعد اٹھتے تھے تو اس وقت بھی تکبیر کہتے تھے یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے ان میں سے کچھ معجم کبیر میں نقل کی ہیں ان سب کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جن کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 2791
وَعَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى فَقَالَ : أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : بَلَى فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن قاسم بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا عبدالرحمن بن ابزی کے پاس بیٹھے تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( ادا کر کے ) نہ دکھاؤں راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: جی ہاں ! تو وہ کھڑے ہوئے انہوں نے تکبیر کہی پھر انہوں نے قرآءت کی پھر وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ اٹھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ سجدے میں گئے ، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر انہوں نے سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ سجدے میں گئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی پھر وہ اٹھے اور انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا پھر انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اس طرح ہوتی تھی
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2792
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ " - يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ : " إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ - أَوْ يَطْمَئِنَّا - وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ التَّخْلِيلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سے متعلق کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرو راوی کہتے ہیں : یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ اچھی طرح وضو کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جو فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان کی حالت میں آ جاؤ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو زمین پر جما کر رکھو یہاں تک کہ تمہیں زمین کی سختی محسوس ہو “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت میں سے خلال کرنے والا حصہ نقل کیا ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2793
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2794
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ نَقَصَ التَّكْبِيرَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : نَقَصُوهَا نَقَصَهُمُ اللَّهُ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سب سے پہلے تکبیر میں کمی ولید بن عقبہ نے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں نے کمی کی ہے اللہ تعالیٰ ان کو کمی نصیب کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب بھی آپ رکوع میں جاتے تھے جب بھی سجدے میں جاتے تھے جب بھی اٹھتے تھے تو ہر مرتبہ تکبیر کہتے تھے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2795
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : لَقَدْ أَذْكَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مَا نَسِينَاهَا - أَوْ مَا تَرَكْنَاهَا - قَالَ : فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں وہ نماز یاد کرا دی جو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کیا کرتے تھے ہم اسے بھولے نہیں ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے اسے ترک نہیں کیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : وہ جب بھی رکوع میں گئے اور انہوں نے جب بھی رکوع سے سر اٹھایا تو انہوں نے تکبیر کہی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2796
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَنِ افْتِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخِذَهُ الْيُسْرَى فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا وَقُعُودِهِ عَلَى وِرْكِهِ الْيُسْرَى [ وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ] وَنَصْبِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى [ وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ] ثُمَّ نَصْبِهِ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ : صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا جَلَسْتُ فِي صَلَاتِي افْتَرَشْتُ رِجْلِيَ الْيُسْرَى وَجَلَسْتُ وَوَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِيَ الْيُسْرَى وَنَصَبْتُ صَدْرَ قَدَمِي الْيُمْنَى وَوَضَعْتُ قَدَمِيَ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِي الْيُمْنَى وَنَصَبْتُ إِصْبَعِي السَّبَّابَةَ ، قَالَ : فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي قَالَ : أَيْ بُنَيَّ ؛ لِمَ نَصَبَتْ إِصْبَعَكَ هَكَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَإِنَّكَ أَصَبْتَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ : إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِهِ يَسْحَرُ بِهَا ، وَكَذَبُوا إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَسَمَّى الْمُبْهَمَ الْحَارِثَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَلَمْ يُسَمِّهِ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے درمیان میں اور نماز کے آخر میں کس طرح اپنے بائیں زانوں کو بچھاتے تھے ، اور کس طرح بائیں زانوں کے بل بیٹھتے تھے اور بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھتے تھے ، اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے ، اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے پھر آپ اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کی وحدانیت کا اعتراف کرتے تھے عمران بن ابوانس کا تعلق بنو عامر بن لوئی سے ہے وہ ” ثقہ “ ہیں انہوں نے ابوالقاسم مقسم سے روایت نقل کی ہے ، جو عبداللہ بن حارث بن نوفل کا غلام ہے وہ بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ فرماتے ہیں : میں نے بنوغفار کی مسجد میں نماز ادا کی نماز کے دوران جب میں بیٹھا تو میں نے بائیں ٹانگ کو بچا لیا اور بیٹھ گیا اور بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھ لیا میں نے دائیں پاؤں کا اگلا حصہ کھڑا کر لیا اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھ لیا اور پھر اپنے انگلی کے ذریعے اشارہ کیا ۔ ( یہاں عربی میں لفظ قدم استعمال ہوا ہے ) وہ صاحب بیان کرتے ہیں : سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے انہوں نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھا جب میں نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم نے اپنی انگلی کو کیوں اٹھایا تھا میں نے ان سے کہا: میں نے لوگوں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے نہوں نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے مشرکین یہ کہا: کرتے تھے : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس انگلی کے ذریعے جادو کرتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ اس کے ذریعے اپنے پروردگار کی وحدانیت کا اظہار کریں
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے : انہوں نے مبہم شخص کا نام حارث بیان کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے امام أحمد نے بھی اس کا نام نقل نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے : انہوں نے مبہم شخص کا نام حارث بیان کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے امام أحمد نے بھی اس کا نام نقل نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2797
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ السُّجُودِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَسْجُدَ الرَّجُلُ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر سے سجدے کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا ہے : کہ ہم سجدوں میں اعتدال سے کام لیں اور کوئی بھی شخص سجدے کے دوران اپنی کلائیوں کو بچھائے نہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2798
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَعْتَدِلَ فِي السُّجُودِ وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ اخْتِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم سجدوں کے دوران اعتدال کریں اور ہم ( پاؤں کھڑا کر کے ) ایڑیوں کے بل نہ بیٹھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2799
قَالَ أَحْمَدُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ : أَهْلُ مَكَّةَ يَقُولُونَ : أَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ الصَّلَاةَ مِنْ عَطَاءٍ وَأَخَذَهَا عَطَاءٌ مِنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَأَخَذَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَأَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَيْتُ أَحْسَنَ صَلَاةً مِنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد بیان کرتے ہیں : امام عبدالرزاق نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں : اہل مکہ یہ کہتے ہیں : ابن جریج نے نماز کا طریقہ عطاء سے حاصل کیا ہے ، اور عطاء نے اس کو ابن زبیر سے حاصل کیا ہے ، اور ابن زبیر نے اسے سیدنا ابوبکر سے حاصل کیا ہے ، اور سیدنا ابوبکر نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہے ۔ ( امام عبدالرزاق فرماتے ہیں : ) میں نے ابن جریج سے زیادہ اچھے طریقے سے نماز ادا کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2800
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ إِذَا سَلَّمَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُقْبِلُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ عَنْ يَسَارِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تھے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے جاتی تھی پھر جب آپ سلام پھیرتے تھے تو اپنا چہرہ دائیں طرف پھیر لیتے تھے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی پھر آپ بائیں طرف سلام پھیرتے تھے تو اپنا چہرہ اس طرف کر لیتے تھے یہاں تک کہ بائیں طرف سے آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2801
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بُرَيْدَةَ إِذَا كَانَ حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ فَقُلْ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَتَقْرَأُ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَتَرْكَعُ فَتَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِذَا رَفَعْتَ مِنَ الرُّكُوعِ فَقُلْ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، فَإِذَا سَجَدْتَ فَقُلْ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، فَإِذَا رَفَعْتَ مِنَ السُّجُودِ فَقُلْ : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي ، إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ، فَإِذَا جَلَسْتَ فِي صَلَاتِكَ فَلَا تَتْرُكَنَّ فِي التَّشَهُّدِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَالصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى جَمِيعِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ ، وَسَلَامْ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بریدہ جب تم نماز کا آغاز کرو تو یہ پڑھو : ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ، تو میری مغفرت کر دے بے شک گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) پھر جو قرآن تمہیں آتا ہو ، تم اس کو پڑھو پھر تم رکوع میں جاؤ اور تین مرتبہ سبحَانَ رَبِّيَ العظیم پڑھو جب تم رکوع سے اٹھو تو یہ پڑھو : ” اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، جو اتنی ہو جو آسمانوں کو بھر دے اور زمین کو بھر دے اور ان کے بعد جس چیز کو تو چاہے ، اسے بھر دے “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) پھر جب تم سجدے میں جاؤ تو تین مرتبہ سبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھو ( اور یہ پڑھو ) : ” میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدے میں ہے ، جس نے اسے پیدا کیا اسے سماعت اور بصارت عطا کی اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ، جو سب سے بہترین خالق ہے “ ۔ جب تم سجدے سے سر اٹھاؤ تو یہ پڑھو : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے تو مجھ پر رحم کر تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے رزق عطا فرما تو میری طرف جو بھلائی نازل کرے گا میں اس کا محتاج ہوں “ ۔ جب تم نماز کے دوران بیٹھو تو تم یہ ترک نہ کرو کہ اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور مجھ پر اور اللہ کے تمام انبیاء پر درود بھیجو اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام بھیجو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن أحمد عرزمی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن أحمد عرزمی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2802
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كَانَ مُعَاذٌ يَتَخَلَّفُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ أَمَّ قَوْمَهُ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يُقَالُ لَهُ : سُلَيْمٌ يُصَلِّي مَعَ مُعَاذٍ فَاحْتُبِسَ مُعَاذٌ عَنْهُمْ لَيْلَةً فَصَلَّى سَلِيمٌ وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاذٌ أُخْبِرَ أَنَّ سُلَيْمًا صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَأَخْبَرَ مُعَاذٌ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سُلَيْمٍ سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أَعْمَلَ نَهَارِي حَتَّى إِذَا أَمْسَيْتُ أَمْسَيْتُ نَاعِسًا فَيَأْتِينَا مُعَاذٌ وَقَدْ أَبْطَأَ عَلَيْنَا فَلَمَّا احْتُبِسَ عَلَيَّ صَلَّيْتُ وَانْقَلَبْتُ إِلَى أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ صَنَعْتَ حِينَ صَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : قَرَأْتُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ثُمَّ قَعَدْتُ وَتَشَهَّدْتُ وَسَأَلْتُ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْتُ مِنَ النَّارِ وَصَلَّيْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، وَلَسْتُ أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " هَلْ أُدَنْدِنُ أَنَا وَمُعَاذٌ إِلَّا لِنَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَنُعَاذَ مِنَ النَّارِ " ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مُعَاذٍ : " لَا تَكُنْ فَتَّانًا تَفْتِنُ النَّاسَ ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَصَلِّ بِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَنَامُوا " ثُمَّ قَالَ سُلَيْمٌ : سَتَنْظُرُ يَا مُعَاذُ غَدًا إِذَا لَقِينَا الْعَدُوَّ كَيْفَ تَكُونُ أَوْ أَكُونُ أَنَا وَأَنْتَ قَالَ : فَمَرَّ سُلَيْمٌ يَوْمَ أُحُدٍ شَاهِرًا سَيْفَهُ فَقَالَ : يَا مُعَاذُ تَقَدَّمْ فَلَمْ يَتَقَدَّمْ مَعَاذٌ وَتَقَدَّمَ سُلَيْمٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَكَانَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَ مُعَاذٍ يَقُولُ : إِنَّ سُلَيْمًا صَدَقَ اللَّهَ وَكَذَبَ مُعَاذٌ . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ لَا كَلَامَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر جاتے تھے جب وہ آتے تھے تو اپنی قوم کی امامت کرتے تھے بنوسلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام سیم تھا وہ سیدنا معاذ کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتا تھا ایک مرتبہ سیدنا معاذ کو ان لوگوں کے پاس آنے میں دیر ہو گئی سلیم نے اکیلے نماز ادا کی اور چلا گیا جب سیدنا معاذ آئے تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ سلیم نے اکیلے نماز ادا کر لی اور چلا گیا سیدنا معاذ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیم کو پیغام بھیج کر اس سے اس بارے میں دریافت کیا : تو اس نے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں دن بھر کام کرتا رہا یہاں تک کہ شام ہو گئی شام کے وقت مجھے اونگھ آ رہی ہوتی ہے ، اس وقت ہمارے پاس سیدنا معاذ آ جاتے ہیں اس دن سیدنا معاذ کو ہمارے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی جب انہیں آنے میں تاخیر ہو گئی ، تو میں نے نماز ادا کی اور اپنے گھر واپس چلا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جب تم نے نماز ادا کی تھی تو تم نے کیا کیا تھا اس نے جواب دیا : میں نے سورت فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھی پھر میں بیٹھ گیا میں تشہد پڑھا میں نے جنت کی دعا مانگی ، اور جہنم سے پناہ مانگی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور پھر نماز ختم کر دی میں آپ کی طرح اور سیدنا معاذ کی طرح خوبصورت دعا نہیں کر سکتا راوی کہنے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے آپ نے ارشاد فرمایا : میں اور معاذ بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور ہمیں جہنم سے بچا لیا جائے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ کو پیغام بھیجا کہ تم آزمائش کا شکار کرنے والے نہ بنو کہ تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کر دو تم ان کی طرف واپس جاؤ اور انہیں نماز پڑھا دیا کرو اس سے پہلے کہ وہ سو جائیں پھر سلیم نے کہا: اے معاذ کل آپ دیکھیں گے کہ جب ہم دشمن کا سامنا کریں گے تو آپ کا کیا عالم ہوتا ہے ، اور میرا کیا عالم ہوتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر سیدنا سلیم آئے تو انہوں نے تلوار لہرائی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا: اے معاذ آگے بڑھیں لیکن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آگے نہیں ہوئے سلیم آگے بڑھے انہوں نے جنگ میں حصہ لیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے جب کبھی بھی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کا ذکر کیا جاتا تھا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے سلیم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچ کہا: اور معاذ نے غلط بیانی کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف معاذ بن عبداللہ بن حبیب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ” ثقہ “ ہے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف معاذ بن عبداللہ بن حبیب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ” ثقہ “ ہے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2803
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبَيْهِ فِي الرَّمْضَاءِ لَأَنْضَجَتْهُ، ثُمَّ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فَلَا يَزَالُ قَائِمًا يَقْرَأُ مَا سَمِعَ خَفْقَ نَعْلٍ مِنَ الْقَوْمِ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ فِي الثَّانِيَةِ فَيَرْكَعُ رَكْعَةً هِيَ أَقْصَرُ مِنَ الْأُولَى ، ثُمَّ يَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِيَةِ وَالرَّابِعَةَ أَقْصَرُ مِنَ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسَ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً قَدْرَ مَا يَسِيرُ السَّائِرُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْعَصْرِ وَيَجْعَلُ الثَّانِيَةَ أَقْصَرَ مِنَ الْأُولَى وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ يَقُولُ الْقَائِلُ : غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَمْ لَا ؟ وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْمَغْرِبِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ أَقْصَرَ مِنَ الْأُولَى وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِيَةِ وَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبًا فِي الرَّمْضَاءِ لَأَنْضَجَتْهُ مَكَانَ جَنْبَيْهِ وَفِيهِ طَرَفَةُ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ وَفِيهِ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز اس وقت پڑھاتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اگر تم اس کے دونوں پہلوؤں کو ریت میں ڈالتے تو وہ بھن جاتے ، اس وقت آپ پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے ، اور اس وقت تک قیام کی حالت میں رہتے تھے جب تک لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنتے رہتے تھے آپ تلاوت کرتے رہتے تھے پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوتے تھے تو دوسری رکعت آپ پہلی کی بہ نسبت مختصر ادا کرتے تھے پھر آپ تیسری رکعت کو دوسری سے زیادہ مختصر ادا کرتے تھے ، اور چوتھی رکعت کو تیسری سے زیادہ مختصر ادا کرتے تھے آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج روشن اور چمک دار ہوتا تھا کہ کوئی شخص اتنی دیر میں دو یا تین فرسخ دور تک جا سکتا تھا آپ عصر کی پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے ، اور دوسری رکعت پہلی کی بہ نسبت مختصر ادا کرتے تھے مغرب کی نماز آپ اس وقت ادا کر لیتے تھے جب کہنے والا یہ کہتا تھا کہ کیا سورج غروب ہو چکا ہے کہ نہیں ؟ مغرب کی پہلی رکعت آپ طویل ادا کرتے تھے ، اور دوسری رکعت پہلی رکعت سے مختصر ادا کرتے تھے ، اور تیسری رکعت دوسری سے مختصر ادا کرتے تھے عشاء کی نماز آپ کچھ تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر تم ایک پہلو “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی طرفہ حضرمی ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔
یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر تم ایک پہلو “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی طرفہ حضرمی ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 2804
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ ؟ " قَالُوا : بَلَى قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْخَلَلَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ الْإِمَامُ : اللَّهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ مُقَدَّمُهَا وَشَرُّهَا مُؤَخَّرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ مُؤَخَّرُهَا وَشَرُّهًا مُقَدَّمُهَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ أَيْضًا بِتَمَامِهِ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ وَقَدْ سَبَقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالی گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا فرشتے یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! تو اس پر رحم کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنی صفیں برابر کر لو اور انہیں ٹھیک کر دو اور خالی جگہ پر کر دو کیونکہ میں تم لوگوں کو اپنی پشت کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں جب امام اللہ اکبر کہے ، تو تم لوگ بھی اللہ اکبر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ پڑھے تو تم اللَّهُم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ پڑھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے پیچھے والی ہے ، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے آگے والی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام أحمد نے
یہ روایت مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔
یہ روایت مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 2805
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ بِهَا يَسَارَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْمَاءِ فَحَفَنَ بِهَا حَفْنَةً مِنَ الْمَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَرَفَعَهُمَا إِلَى وَجْهِهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي دَاخِلٍ وَمَسَحَ ظَاهِرَ رَقَبَتِهِ وَبَاطِنَ لِحْيَتِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ بِهَا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَسَارَهُ بِيَمِينِهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا وَظَاهِرَ أُذُنَيْهِ ثَلَاثًا وَظَاهِرَ رَقَبَتِهِ - وَأَظُنُّهُ قَالَ - : وَظَاهِرَ لِحْيَتِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ بِيَمِينِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَفَصَلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَرَفَعَ الْمَاءَ حَتَّى جَاوَزَ الْكَعْبَ ثُمَّ رَفَعَهُ فِي السَّاقِ ثُمَّ فَعَلَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَمَلَأَ بِهَا يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى انْحَدَرَ الْمَاءُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَقَالَ : "هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ " وَلَمْ أَرَهُ يُنَشِّفُ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ نَهَضَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ فِي الْمِحْرَابِ - يَعْنِي مَوْضِعَ الْمِحْرَابِ - فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ وَعِنْدَ صَدْرِهِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْقِرَاءَةَ فَجَهَرَ بِـ "الْحَمْدُ" ثُمَّ فَرَغَ مِنْ سُورَةِ "الْحَمْدُ" فَقَالَ : " آمِينَ " حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَهُ ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً أُخْرَى ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَأَمْهَلَ فِي الرُّكُوعِ حَتَّى اعْتَدَلَ وَصَارَ صُلْبُهُ لَوْ وُضِعَ عَلَيْهِ قَدَحٌ مِنَ الْمَاءِ مَا انْكَفَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخُشُوعٍ وَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِشَحْمَةِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ انْحَطَّ لِلسُّجُودِ بِالتَّكْبِيرِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِشَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَثْبَتَ جَبْهَتَهُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنِّي أَرَى أَنْفَهُ فِي الرَّمْلِ، وَقَوَّسَ بِذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ وَبَسَطَ فَخِذَهُ الْيَسَارَ وَنَصَبَ الْيُمْنَى كَمَا أَثْبَتَ أَصَابِعَ رِجْلِهِ وَلَمْ يُمْهِلْ بِالسُّجُودِ ، وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَجَلَسَ جِلْسَةً خَفِيفَةً فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَبَعْضِ فَخِذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ انْحَطَّ سَاجِدًا بِمِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ بِيَدَيْهِ إِلَى أَنْ حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَإِلَى أَنِ اعْتَدَلَ فِي قِيَامِهِ وَرَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْعَلُ فِيهِنَّ مَا فَعَلَ فِي هَذِهِ ثُمَّ جَلَسَ جِلْسَةً فِي التَّشَهُّدِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ، وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ بَعْضُ النَّظَرِ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : لَهُ مَنَاكِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کے پاس ایک برتن لایا گیا جس میں کچھ پانی موجود تھا آپ نے اسے دائیں ہاتھ پر انڈیلا اور تین مرتبہ اسے دھویا پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے پانی کا چلو لے کر تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا آپ نے تین مرتبہ ناک صاف کیا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کیے اور ان دونوں کو چہرے کی طرف بلند کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویا آپ نے کانوں کے اندرونی حصے کو بھی دھویا اور دو انگلیاں اندرونی حصے میں داخل کیں آپ نے گردن کے بیرونی حصے اور داڑھی کے نیچے والے حصے پر تین مرتبہ مسح کیا پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے اپنا دایاں بازو دھویا یہاں تک کہ کہنیوں کے اوپر تک دھویا ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا پھر آپ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے بایاں بازو کہنیوں سے آگے تک تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنے سر پر تین مرتبہ مسح کیا کانوں کے بیرونی حصے پر تین مرتبہ مسح کیا اور گردن پر مسح کیا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی داڑھی کے بیرونی حصے پر مسح کیا پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں دائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا آپ نے اپنی انگلیوں کو کھلا کر کے ( اچھی طرح دھویا ) پھر آپ نے پانی بلند کیا یہاں تک کہ ٹخنوں سے اوپر تک لے گئے پھر آپ نے اسے بلند کیا اور پنڈلی تک لے گئے پھر آپ نے بائیں ٹانگ کے ساتھ بھی اسی طرح کیا پھر آپ نے پانی کا چلو لیا اس کے ذریعے اپنے دونوں ہاتھ بھرے اور پھر اسے اپنے سر پر ڈال لیا یہاں تک کہ وہ پانی آپ کے اطراف سے بہنے لگا آپ نے ارشاد فرمایا یہ مکمل وضو ہے راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو کپڑے کے ذریعے جسم خشک کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور محراب میں داخل ہوئے راوی کہتے ہیں : یعنی اس جگہ پر جہاں اب محراب ہے لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی آپ کے دائیں طرف اور بائیں طرف صف بنا لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ ان دونوں کو کانوں کی لو کے برابر تک لے آئے پھر آپ نے سینے کے پاس دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیا اور تلاوت کرنی شروع کی آپ نے الحمدللہ سے بلند آواز میں تلاوت شروع کی جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے آمین کہا: یہاں تک کہ آپ کے پیچھے موجود افراد نے اس کی آواز سنی پھر آپ نے ایک اور سورت کی تلاوت کی پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ رکوع میں گئے پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھا آپ رکوع میں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ آپ کا ہر عضو برابر ہو گیا اور آپ کی پشت کی یہ حالت تھی کہ اگر اس پر پانی کا پیالہ رکھا جاتا تو وہ پانی نہ چھلکتا پھر آپ نے خشوع کے ساتھ اپنے سر کو اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا: پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ نے سجدے میں جانے کے لئے تکبیر کہتے ہوئے جھکے آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ نے اپنی پیشانی کو زمین پر جما کے رکھا یہاں تک کہ میں نے آپ کی ناک کو ریت میں دیکھا آپ نے اپنی کلائیوں کو قوس کی شکل میں کر لیا اور اپنے سر کو بھی رکھا آپ نے اپنے بائیں زانوں کو بچا لیا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیا جس طرح پاؤں کی انگلیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے آپ سجدے میں زیادہ دیر نہیں رہے پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے اور انہیں کانوں کی لو تک لے آئے آپ ذرا سی دیر کے لئے بیٹھے اور آپ نے اپنی دائیں ہتھیلی اپنے گھٹنے پر اور زانوں کے کچھ حصے پر رکھی آپ نے اپنی انگلی کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر آپ سجدے میں جانے کے لئے جھک گئے آپ نے اس کی مانند سجدہ کیا پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے اپنے سر کو اٹھایا اور دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک لے آئے یہاں تک کہ آپ قیام میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی آپ نے چار رکعات ادا کیں جن میں آپ نے اسی طرح کیا جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا پھر آپ تشہد میں بیٹھ گئے جو اس کی مانند تھا پھر آپ نے دائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگی پھر آپ نے بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ۔
حدیث نمبر: 2806
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ رَفَعَ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ أَرْسَلَهُمَا ثُمَّ سَكَتَ وَرُبَّمَا رَأَيْتُهُ يَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سَكَتَ فَإِذَا خَتَمَ السُّورَةَ سَكَتَ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ ، وَكُنَّا لَا نَرْكَعُ حَتَّى نَرَاهُ رَاكِعًا ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ رُكُوعِهِ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَكَانَهُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَخِرُّ سَاجِدًا ، وَكَانَ يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّهُ السَّهْمُ لَا يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ، وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ اعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِذَا دَعَا وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ أَسْرَعَ الْقِيَامَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں ہوتے تھے تو آپ دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے جب آپ تکبیر کہہ دیتے تھے تو ان دونوں کو چھوڑ دیتے تھے پھر آپ خاموش رہتے تھے بعض اوقات میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے تھے جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو خاموش رہتے تھے جب آپ سورت ختم کرتے تھے تو کچھ دیر کے لئے خاموش ہو جاتے تھے پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے پھر تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے تھے ہم اس وقت تک رکوع میں نہیں جاتے تھے جب تک ہم آپ کو رکوع کی حالت میں دیکھ نہیں لیتے تھے پھر آپ رکوع سے سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنی جگہ پر آ جاتا تھا پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے پھر آپ تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے آپ پیشانی اور ناک کو زمین پر جما کر رکھتے تھے پھر آپ یوں اٹھتے تھے جیسے آپ کوئی تیر ہوں آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا نہیں لیتے تھے جب آپ نماز کے آخر میں بیٹھتے تھے تو بائیں زانوں کو بچھا لیتے تھے دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے ، اور انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے جب دعا کرتے تھے جب آپ سلام پھیر لیتے تھے تو جلدی سے کھڑے ہو جاتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 2807
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ أَصَابِعَهُ وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے تو اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے ، اور جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو آپ اپنی انگلیاں ملا کے رکھتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2808
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى فَرْشَحَ أَصَابِعَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرتے تھے تو اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ولید ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ولید ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2809
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِ ابْنِ أُمِّ سُلَيْمٍ - يَعْنِي : أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سے زیادہ بہتر طور پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مطابق نماز ادا کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2810
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي الصَّلَاةِ وَرَفَعْنَا رُءُوسَنَا مِنَ السُّجُودِ أَنْ نَطْمَئِنَّ عَلَى الْأَرْضِ جُلُوسًا وَلَا نَسْتَوْفِزَ عَلَى أَطْرَافِ الْأَقْدَامِ . ¤ رَوَاهُ بِتَمَامِهِ هَكَذَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ الْأَزْدِيُّ وَابْنُ حَزْمٍ فِي بَعْضِ رِجَالِهِ بِمَا لَا يَقْدَحُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے کہ جب ہم نماز ادا کر رہے ہوں ، اور سجدوں سے اپنے سر کو اٹھائیں تو ہم زمین پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جائیں ہم قدموں کے کناروں پر ایڑیوں کے بل نہ بیٹھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مکمل روایت کے طور پر اسی طرح نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ازدی اور ابن حزم نے اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا ہے ، جو قدح کا باعث نہیں بنتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مکمل روایت کے طور پر اسی طرح نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ازدی اور ابن حزم نے اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا ہے ، جو قدح کا باعث نہیں بنتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2811
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْإِقْعَاءِ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اقعاء کے طور پر بیٹھنے سے منع کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام بن ابوخبزہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلام بن ابوخبزہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 2812
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : رَمَقْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي الصَّلَاةِ فَرَأَيْتُهُ يَنْهَضُ وَلَا يَجْلِسُ ، قَالَ : يَنْهَضُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نماز کا جائزہ لیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اٹھتے تھے ، اور بیٹھتے نہیں تھے راوی کہتے ہیں : یعنی وہ پہلی رکعت کے بعد اور تیسری رکعت کے بعد اپنے قدموں کے اگلے حصے کے بل اٹھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صیح “ کے رجال ہیں ۔