کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( آدمی ) رکوع اور سجدے میں کیا پڑھے گا ؟
حدیث نمبر: 2772
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ كَانَ يُكَبِّرُ إِذَا قَرَأَهَا وَيَرْكَعُ وَيَقُولُ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِ الثَّلَاثَةِ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَمَّادًا وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ” جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آ گئی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اس کو پڑھتے تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے تھے ، اور یہ پڑھتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے بے شک تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تینوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابوعبیدہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں صرف حماد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2773
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ وَأَبُو يَعْلَى مَوْقُوفًا وَالْبَزَّارُ - قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " فَقَطْ - وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجَمِيعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے میں قرأت کروں جب تم لوگ رکوع کرو تو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرو اور جب تم سجدہ کرو تو اہتمام کے ساتھ دعا مانگو یہ اس لائق ہو گا کہ وہ تمہارے لئے قبول ہو“ ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ مذکور ہے : ” مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع اور سجدے میں قرأت کروں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق بن حارث ہے ، اور تمام حضرات کے نزدیک وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2773
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، لیکن شواہد
حدیث نمبر: 2774
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا فَقَدَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضْجَعِهِ فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ : " رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي ، تَقْوَاهَا زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر غیر موجود پایا تو اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا تو آپ اس وقت سجدے کی حالت میں تھے ، اور یہ کہہ رہے تھے : ” اے میرے پروردگارا ! تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر دے اور اسے پاک کر دے بے شک تو سب سے بہتر ہے ، جو اس کو پاک کرے تو اس کا ولی ہے ، اور اس کا آقا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2774
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2775
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَيْلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْسَلَّ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ انْسَلَّ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَخَرَجْتُ غَيْرَى فَإِذَا أَنَا بِهِ سَاجِدًا كَالثَّوْبِ الطَّرِيحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي رَبِّ هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي ، يَا عَظِيمُ تُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ " قَالَتْ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكِ ؟ " قَالَتْ : ظَنًّا ظَنَنْتُهُ قَالَ : " إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ ، إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ الَّتِي سَمِعْتِ فَقُولِيهَا فِي سُجُودِكِ ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهَا لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى يُغْفَرَ - أَظُنُّهُ قَالَ - لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے ہاں رہنے کا مخصوص دن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بستر سے نکلے میں یہ سمجھی کہ شاید آپ اپنی کسی اور زوجہ محترمہ کے پاس جائیں گے میں بھی نکلی تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں یوں جیسے کپڑا ڈالا گیا ہوتا ہے میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” میرے وجود اور میرے خیال نے تیرے لئے سجدہ کیا ہے میرا دل تجھ پر ایمان لایا ہے اے میرے پروردگار ! یہ میرا ہاتھ ہے ، اور وہ ہے جو میں نے اپنے خلاف جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اے عظیم ذات ہر عظیم چیز کے لئے تجھ سے امید رکھی جاتی ہے ، تو بڑے گناہ کی مغفرت کر دے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور دریافت کیا : تم کیوں باہر آئی ہو ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ایک گمان میرے ذہن میں آیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو جبرائیل میرے پاس آئے تھے انہوں نے مجھے یہ کہا: تھا کہ میں ان کلمات کو پڑھوں جو کلمات تم نے ابھی سنے ہیں تم بھی سجدے میں ان کو پڑھا کرو کیونکہ جو شخص ان کلمات کو پڑھے گا ، اس کے سر اٹھانے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جائے گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2775
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2776
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " ثَلَاثًا وَفِي سُجُودِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، قَالَ الْبَزَّارُ : لَا يُرْوَى عَنْ جُبَيْرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَعَبْدُ الْعَزِيزُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ صَالِحٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پڑھا کرتے تھے ، اور سجدے میں تین مرتبہ سُبحَانَ رَبِّي الأغلى پڑھا کرتے تھے
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار بیان کرتے ہیں : سیدنا جبیر کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے ، جو صالح ہے ، لیکن قوی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2776
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2777
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَبِّحُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " ثَلَاثًا وَفِي سُجُودِهِ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي بَكْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بِكْرَةَ صَالِحُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ پڑھا کرتے تھے ، اور سجدے میں تین مرتبہ سبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی پڑھا کرتے تھے
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار کہتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا ابوبکرہ کے حوالے سے یہ حدیث صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے عبدالرحمن بن ابوبکرہ نامی راوی صالح الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2777
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار بقية حديث ابي بكرة 3109»
حدیث نمبر: 2778
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا وَفِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ آدمی رکوع میں تین مرتبہ سبحان ربی العظیم پڑھے اور سجدے میں تین مرتبہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی پڑھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ محدثین کے نزدیک ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2779
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سُجُودِهِ إِذَا سَجَدَ : " سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي ، أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو سجدے میں یہ پڑھتے تھے : ” میری ذات اور میرے خیال نے تیرے لئے سجدہ کیا ہے میرا دل تجھ پر ایمان لایا ہے میں اپنے اوپر تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں یہ میرا ہاتھ ہے ، اور وہ چیز ہے ، جو میں نے اپنے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2779
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2780
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جب آپ رکوع میں گئے تو آپ نے سبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ تین مرتبہ پڑھا پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2780
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2781
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : رَمَقْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَمَعْتُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمَا وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَدُحَيْمٌ وَغَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بغور جائزہ لینا شروع کیا میں نے آپ کو غور سے سنا تو آپ زیادہ تر نمازوں میں سبحَانَ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام ابوحاتم اور دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2781
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2782
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ وَهُوَ رَاكِعٌ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن زیاد اسدی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود کو رکوع کے دوران یہ پڑھتے ہوئے سنا : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2782
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2783
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُسَوِّي الْحَصَى بِيَدِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہاتھ کے ذریعے ایک مرتبہ کنکریاں برابر کرتے تھے جب وہ سجدے میں جانے لگتے تھے ، اور وہ سجدے میں یہ پڑھتے تھے : ” میں حاضر ہوں ، اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2784
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَشَدَّادُ بْنُ الْأَزْمَعِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اخْتَلَفَا فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ لَا رَبَّ غَيْرُكَ ، وَقَالَ شَدَّادٌ : كَانَ يَقُولُ : سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِوَايَةُ أَبِي الْأَسْوَدِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَشَدَّادٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود اور شداد بن ازمع کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں حضرات کا اختلاف ہوا ہے ابواسود کا یہ کہنا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سجدے میں یہ پڑھتے تھے ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں ہے “ ۔ جب کہ شداد کہتے ہیں : وہ یہ پڑھا کرتے تھے ” تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابواسود کی روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں جب کہ شداد کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2784
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2785
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ فَيَقُولُ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا غَفَرَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ هَذَا وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابومالک نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جو بھی بندہ سجدے میں جا کے یہ پڑھتا ہے : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے “ ۔ اگر وہ تین مرتبہ یہ پڑھ لے تو اس کے سر کو اٹھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن جابر کی سیدنا ابومالک کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2786
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : احْمِلُوا حَوَائِجَكُمْ عَلَى الْمَكْتُوبَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَمْرٌو لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمروبن دینار بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے اپنی ضرورتوں کو فرض نمازوں پر لادا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عمرو بن دینار نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 2787
وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فُلَانٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ رَاكِعٌ وَيَقْرَأُ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ رِجَالًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ فِي الْقَلْبِ وَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا خَالِدٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوخالد جو سیدنا عبداللہ کے شاگردوں میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن فلاں شخص رکوع کی حالت میں قرآن پڑھتا ہے ، جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ، تو اس وقت بھی قرآن پڑھتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا کہ وہ ( حلق سے آگے جا کر ) دل میں داخل ہوتا اور اس میں پختہ ہو جاتا اور نفع دیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ ابوخالد نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله بن مسعود البذلى باب 9196»