کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت
حدیث نمبر: 2682
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ : قَالَ أُبَيٌّ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَدْ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ ، وَأَنَا أَفْعَلُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
مطلب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کے بارے میں بحث شروع کی تو انہوں نے مجھے خارجہ بن زید کے پاس بھیجا انہوں نے بتایا : سیدنا ابی بن کعب نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام کرتے تھے ، اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے جس سے مجھے پتہ چلا تھا کہ یہ قرأت کی وجہ سے ہوتا تھا تو میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند کی ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2683
وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الظُّهْرِ بِتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں : ظہر کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا اندازہ آپ کی داڑھی کی حرکت کے ذریعے ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2684
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ : اجْتَمِعُوا فَلْأُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ؟ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ؟ فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ صُحْبَتِي إِيَّاكُمْ ! ! قَالَ : فَجَمَعَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ هَذِهِ ثَلَاثًا - يَعْنِي الْيُسْرَى - ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَا نَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَأُقِيمَتْ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ فَأَحْسَبُ أَنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ آيَاتٍ مِنْ يس ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَشَاءَ فَقَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ رِوَايَةُ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ثَلَاثِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن براء بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی نے فرمایا تم لوگ اکھٹے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ، اور کس طرح آپ نماز ادا کرتے تھے کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے ساتھ اور کتنا عرصہ رہوں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اپنے بچوں اور اپنے اہل خانہ کو اکھٹا کیا وضو کے لئے پانی منگوایا کلی کی ناک میں پانی ڈالا اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا بائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ) اس طرح تھا میں نے تمہیں یہ دکھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے انہوں نے نماز ادا کی ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی پھر وہ باہر نکلے پھر انہوں نے نماز کے لیے حکم دیا تو اقامت کہی گئی ، تو انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی میرا خیال ہے میں نے ان کی زبانی سورت یسین کی دس آیات سنی تھیں پھر انہوں نے عصر کی نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہمیں عشا کی نماز پڑھائی پھر انہوں نے فرمایا : میں نے اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں تمہیں یہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ، اور آپ کس طرح نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ابوالعالیہ کے حوالے سے تیس صحابہ کے حوالے سے روایت گزر چکی ہے ، جو اس سے پہلے والے باب میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2685
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الظُّهْرِ فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی تو ہم نے یہ گمان کیا کہ آپ نے اس میں سورت تنزیل السجدہ کی تلاوت کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور وہ منکرالحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 2686
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سُكَيْنٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّ أَهْلَ بَيْتِهِ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، فَقَرَأَ بِنَا قِرَاءَةً هَمْسًا فَقَرَأَ بِالْمُرْسِلَاتِ ، وَالنَّازِعَاتِ ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ، وَنَحْوِهَا مِنَ السُّورِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ وَكِيعٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن ابوسکین بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کی امامت کرتے ہوئے ہمیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں انہوں نے پست آواز میں قرأت کی انہوں نے سورت مرسلات سورہ نازعات سورہ عم یتسالون اور اس جیسی دوسری سورتوں کی تلاوت کی ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سکین بن عبدالعزیز ہے ، جسے امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے وکیع یحیی بن معین ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «مسند ابي يعلي الموصلي ابو عمران الجونى ، 4118»
حدیث نمبر: 2687
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) وَ ( هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ) . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ الاعلی اور سورت الغاشیہ کی تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2688
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمُ الْهَاجِرَةَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ فَقَرَأَ ( وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ) ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ) فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُوَقِّتَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو الرِّجَالِ الْأَنْصَارِيُّ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے بلند آواز میں تلاوت کی آپ نے سورت والشمس اور سورت والیل کی تلاوت کی سیدنا ابی بن کعب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو اس نماز کے بارے میں کوئی حکم دیا گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تمہارے لئے متعین کر دوں ( کہ کتنی تلاوت ہونی چاہیے )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورجال انصاری بصری ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2688
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2689
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْرَفُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجْرِحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ظہر اور عصر کی نمازوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا علم آپ کی داڑھی کی حرکت کے ذریعے ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید بن حریش ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے ، اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ جال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2690
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّهِنَّ - يَعْنِي : الْأَرْبَعَ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رکعات میں تلاوت کرتے تھے راوی کہتے ہیں : یعنی ظہر اور عصر کی چاروں رکعتوں میں تلاوت کرتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2691
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فَقَرَأَ نَحْوَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : مَا أَلَوْتُ بِكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے لوگوں کو ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں اور ان میں تقریباً سورت انشقاق کی تلاوت کی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو وہ بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، جسے یحیی بن معین علی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ امام أحمد اور عمرو بن علی فلاس نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2692
وَعَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ : لَيْسَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قِرَاءَةٌ إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَقْرَأَ وَقَدْ بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رِسَالَاتِ رَبِّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ فرماتے ہیں : ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت نہیں ہو گی صرف سورت فاتحہ پڑھی جائے گی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم تلاوت کریں اور اللہ کے رسول نے ان چیزوں کی تبلیغ کی ہے ، جو آپ کے پروردگار نے احکام آپ کی طرف نازل کیے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 2693
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعات میں سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرتے تھے جب کہ آخری دو رکعات میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2693
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع، ورجاله ثقات؛ لأن سماع ابن سيرين من ابن مسعود لم يثبت.
حدیث نمبر: 2694
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ فَمَا عَلِمْتُهُ قَرَأَ شَيْئًا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ : ( رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ) فَعَلِمْتُ أَنَّهُ فِي طه . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ کے پہلو میں نماز ادا کی تو مجھے یہ پتہ نہیں چلا کہ آپ نے کچھ تلاوت کی ہے یہاں تک کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ” اے میرے پروردگار ! میرے علم میں اضافہ فرما “ تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ سورہ طہ پڑھ رہے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2695
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ النَّهَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن زیاد بیان کرتے ہیں : میں نے دن کی دو نمازوں میں سے ایک میں سیدنا عبداللہ تعالیٰ کی قرأت سنی تھی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2695
درجۂ حدیث محدثین: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حدیث نمبر: 2696
وَلَهُ عِنْدَهُ أَيْضًا : قُمْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے عبداللہ بن زیاد کے حوالے سے
یہ روایت بھی نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ کے پہلو میں ظہر اور عصر کی نمازوں میں کھڑا ہوا تو میں نے انہیں تلاوت کرتے ہوئے سنا اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2696
درجۂ حدیث محدثین: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، عبد الله بن مسعود الهذلي باب حديث 8827»
حدیث نمبر: 2697
وَعَنْ حُمَيْدٍ وَعُثْمَانَ الْبَتِّيِّ قَالَا : صَلَّيْنَا خَلَفَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فَسَمِعْنَاهُ يَقْرَأُ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حمید اور عثمان بتی فرماتے ہیں : ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پیچھے ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں تو ہم نے انہیں سورت الاعلی کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2697
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔