کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز کا آغاز کس چیز سے کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 2614
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا . ¤ قَالَ : فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُؤُسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا : مَنِ الَّذِي رَفَعَ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ هَذَا الْعَالِي الصَّوْتِ ؟ " فَقِيلَ : هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ہم اس وقت صف میں موجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے وہ شخص صف میں شامل ہوا اور اس نے کہا: ” اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، جو بڑائی والا ہے ، اور صبح و شام میں اللہ تعالی کے ہر عیب سے پاک ہونے کا اعتراف کرتا ہوں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں نے اپنے سر اٹھا کر اس شخص کے سامنے ناگواری کا اظہار کیا مسلمانوں نے یہ کہا: یہ کون شخص ہے ، جو اللہ کے رسول کی آواز سے اپنی آواز کو بلند کر رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ بلند آواز والا شخص کون ہے ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ یہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں نے تمہارے کلام کو دیکھا کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوا یہاں تک کہ اس کے لئے دروازہ کھولا گیا تو وہ اس میں داخل ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2615
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ تَصُدَّ عَنِّي وَجْهَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مُسْلِمًا وَأَمِتْنِي مُسْلِمًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو وہ یہ پڑھے : ” اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ قیامت کے دن تو مجھ سے اپنا کرم روک لے اے اللہ ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے اے اللہ ! تو مسلمان ہونے کے عالم میں مجھ کو زندہ رکھنا اور مسلمان ہونے کے عالم میں مجھے موت دینا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2616
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ ذَنْبِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، وَنَقِّنِي مِنْ خَطِيئَتِي كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ” اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے ، اور میری خطاؤں کے حوالے سے مجھے اس طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2616
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2617
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا اسْتَفْتَحْنَا الصَّلَاةَ أَنْ نَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعَلِّمُنَا وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب ہم نماز کا آغاز کریں تو اس میں شروع میں یہ پڑھیں : ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا نام برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، اور یہ بات ارشاد فرماتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے مصنف نے یہ روایت معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود بن سلیمان ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2618
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا اسْتَفْتَحُوا قَالُوا : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " قَبْلَ الْقِرَاءَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے ، جسے میں سچا قرار دیتا ہوں اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے : یہ حضرات نماز کے آغاز میں یہ قرأت سے پہلے یہ پڑھتے تھے ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2619
وَعَنْ وَاثِلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں یہ پڑھتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2619
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2620
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” میں نے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں نے سیدھے دین پر قائم رہتے ہوئے مسلمان ہوتے ہوئے ( اس کی طرف اپنا رخ کیا ہے ) اور میں مشرک لوگوں میں سے نہیں ہوں تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیر اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی ، اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2620
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2621
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : وَقَعَ إِلَيَّ كِتَابٌ فِيهِ اسْتِفْتَاحُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَبَّرَ قَالَ : " إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ لَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " - ثُمَّ يَقْرَأُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے ایک تحریر ملی جس میں یہ ذکر تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے تو نماز کے آغاز میں آپ کیا پڑھتے تھے ؟ آپ یہ پڑھتے تھے : ” بے شک میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ، اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی ، اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں اے اللہ ! تو بادشاہ ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دے کیونکہ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے میں حاضر ہوں سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ہر قسم کی بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے تیرے مقابلے میں جائے نجات اور جائے پناہ صرف تو ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور تیری بارگاہ میں توبہ مغفرت طلب کرتا ہوں“ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2622
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ أُذُنَيْهِ يَقُولُ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے تو دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کانوں کے برابر لے آتے تھے پھر آپ یہ پڑھتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرا اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2623
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " ثُمَّ يَسْكُتُ هُنَيْهَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو پہلے سورت فاتحہ پڑھتے تھے پھر کچھ دیر کے لئے خاموش رہتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2624
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ فَتَوَضَّأَ وَقَامَ يُصَلِّي فَأَتَيْتُهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے وضو کیا اور نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا پھر آپ نے یہ پڑھا : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو بادشاہی غلبہ کبریائی اور عظمت کی مالک ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2625
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَدْعُو : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يَنْبَغِي لِكَرَمِ وَجْهِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا " ، ثُمَّ شَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَصَرِهِ حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ قَالَ : " هِيَ لَكَ بِخَاتَمِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَثَلُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اس دوران آپ نے کسی شخص کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو جو ایسی ہو جو ہمارے پروردگار کی عظمت کے لائق ہو “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : یہ کلمات پڑھنے والا شخص کون تھا ؟ میں نے بارہ فرشتوں کو ان کلمات کی طرف لپکتے ہوئے دیکھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فرشتوں کی طرف اپنی نگاہ رکھی یہاں تک کہ وہ فرشتے حجاب کے پیچھے چھپ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن یہ کلمات اپنی مہر سمیت تمہیں ملیں گے اور اس کی مانند ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک محمد بن یزید بن سنان راوی ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف