کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایک ہاتھ دوسرے پر رکھنا
حدیث نمبر: 2606
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ غُطَيْفٍ - أَوْ غُطَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ - قَالَ : مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ لَمْ أَنْسَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن غطیف رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا غطیف بن حارث بیان کرتے ہیں : کچھ چیزیں ایسی ہیں جو میں نہیں بھولا ہوں اور میں یہ نہیں بھولا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2607
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى فَانْتَزَعَهَا وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو نماز ادا کر رہا تھا اس نے بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الگ کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2608
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ : مَا نَسِيتُ فَلَمْ أَنْسَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى قَابِضًا عَلَيْهَا ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ : عَبَّاسُ بْنُ يُونُسَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : وَلَمْ يَرْوِ شَدَّادُ بْنُ شُرَحْبِيلَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نہیں بھولا اور میں یہ بات نہیں بھولا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوئے دیکھا آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر اس کو پکڑا ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی نماز کے دوران ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن یونس ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے امام بزار کہتے ہیں : شداد بن شرحبیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف یہی حدیث روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2609
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا بِتَعْجِيلِ فِطْرِنَا وَتَأْخِيرِ سُحُورِنَا وَأَنْ نَضَعَ أَيْمَانَنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک ہمیں یعنی انبیاء کے گروہ کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ افطاری جلدی کریں سحری تاخیر سے کریں اور نماز کے دوران اپنے دائیں ہاتھ بائیں ہاتھوں پر رکھیں “ ۔ یہ ہدایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2610
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ وَتَأْخِيرُ السُّحُورِ وَضَرْبُ الْيَدَيْنِ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فِي الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں ہیں جنہیں اللہ تعالی پسند کرتا ہے افطاری جلدی کرنا سحری تاخیر سے کرنا اور نماز کے دوران دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر رکھنا ( یعنی دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2611
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، رَفَعَهُ قَالَ : " ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ النُّبُوَّةِ : تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ وَتَأْخِيرُ السُّحُورِ وَوَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَالْمَوْقُوفُ صَحِيحٌ ، وَالْمَرْفُوعُ فِي رِجَالِهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي شَيْءٌ مِنْ نَوْعِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الصِّيَامِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں نبوت کے اخلاق کا حصہ ہیں ، افطاری جلدی کرنا سحری تاخیر سے کرنا اور نماز کے دوران دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرفوع “ حدیث کے طور پر بھی نقل کی ہے ، اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ” موقوف “ ہونا مستند ہے ” مرفوع “ روایت کے رجال میں ایک ایسا شخص بھی کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث روزوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2611
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
حدیث نمبر: 2612
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ الْبَيَاضِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضَعُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن ابوعائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن جابر بیاضی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، میں نے دیکھا کہ انہوں نے نماز کے دوران ایک ہاتھ دوسری کلائی پر رکھا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔