کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: صفیں برابر رکھنا ، مردوں اور خواتین کی صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2518
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْخَلَلَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي ، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ : اللَّهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِنَّ خَيْرَ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرَّهَا الْمُؤَخَّرُ ، وَخَيْرَ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرَّهَا الْمُقَدَّمُ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى قَوْلِهِ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ وَأَبُو يَعْلَى أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ الْجَامِعَةَ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَفِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ خِلَافٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، اور جس کے ذریعے نیکیوں میں اضافہ کر دیتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طبیعت کی عدم ادائیگی کے وقت اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ مساجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تم میں سے جو بھی شخص وضو کر کے اپنے گھر سے نکلتا ہے ، اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے ، اور پھر وہ بیٹھ جاتا ہے ، اور اگلی نماز کا انتظار کرتا ہے ، تو فرشتے یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ! پھر جب تم نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو ، تو صفیں درست کرو اور انہیں سیدھا رکھو اور خالی جگہ کو پر کرو کیونکہ میں اپنی پشت کے پیچھے تمہیں دیکھ لیتا ہوں جب امام اللہ اکبر کہے ، تو تم لوگ اللہ اکبر کہو جب وہ رکوع میں جائے تو تم رکوع میں جاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ پڑھے تو تم اللہم ربنا لک الحمد پڑھو مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے آگے والی ہے ، اور سب سے کمتر بہتر سب سے پیچھے والی ہے ، اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے آگے والی ہے اے خواتین کے گروہ ! جب مرد سجدے میں جائیں تو تم اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو تم مردوں کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھنا کیونکہ ان کے تہبند چھوٹے ہوتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو اس کے آغاز سے لے کے یہاں تک ہے : ” تم میں سے جو شخص“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم میں سے کوئی شخص وضو کر کے اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم میں سے کوئی شخص وضو کر کے اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2519
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ لَيْسَ فِيهِمُ ابْنُ عَقِيلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے آگے والی ہے سب سے کم بہتر سب سے پیچھے والی ہے ، اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر صف سب سے آگے والی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے شریک کی ابن عقیل کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ان میں ابن عقیل نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے شریک کی ابن عقیل کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ان میں ابن عقیل نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 2520
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ أَوَّلُهَا وَخَيْرُهَا آخِرُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے آخر والی ہے ، اور خواتین کی سب سے کم بہتر سب سے پہلے والی ہے ، اور سب سے بہتر سب سے آخر والی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2521
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے آخر والی ہے ، اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے آخر والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے پہلے والی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2522
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے آخر والی ہے ، اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے آخر والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے پہلے والی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2523
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلے والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے آخر والی ہے ، اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے آخر والی ہے ، اور سب سے کم بہتر سب سے پہلے والی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔