کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پہلی صف اور امام کے دائیں طرف کا بیان
حدیث نمبر: 2513
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمَيْمَنَةِ مِنْهُ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّفَّ بَيْنَ السَّوَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تم پر پہلی صف میں جانا لازم ہے ، اور اس میں بھی دائیں طرف رہنا لازم ہے ، اور تم اس بات سے بچو کہ ستونوں کے درمیان صف بناؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2514
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَإِلَّا فَعَنْ يَمِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ لَهُ ذِكْرًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر تم سے ہو سکے تو تم امام کے پیچھے کھڑے ہو ، ورنہ اس کے دائیں طرف کھڑے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا ذکر میں نے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2515
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِلصَّفِّ الْأَوَّلِ فَضْلٌ عَلَى الصُّفُوفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : پہلی صف کو دیگر صفوں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحی بن یعلی اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2516
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ مَسْعُودٍ الْقُرَشِيُّ وَزَاحَمَنِي بِمَكَّةَ أَيَّامَ ابْنِ الزُّبَيْرِ عِنْدَ الْمَقَامِ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَكَانَ يُقَالُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ مَا صُفُّوا فِيهِ إِلَّا قُرْعَةً أَوْ سُهْمَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَسْعُودٍ اخْتُلِفَ فِي صُحْبَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں : عامر بن مسعود قرشی نے مجھے حدیث بیان کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ان کی مکہ میں مجھ سے ملاقات ہوئی تھی یہ ملاقات مقام ابراہیم کے پاس ہوئی تھی اور پہلی صف میں ہوئی تھی راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : کیا یہ بات کہی جاتی ہے کہ پہلی صف زیادہ بہتر ہوتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ پہلی صف کا کیا اجر و ثواب ہے ، تو اس صف میں لوگ صرف قرعہ اندازی کے ذریعے شامل ہو سکیں گے “ ۔ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف عامر بن مسعود کا معاملہ مختلف ہے ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل ورجالہ ثقات۔
حدیث نمبر: 2517
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَتَقَدَّمُونَ الصُّفُوفَ صَلَاتَهُمْ - يَعْنِي : الصَّفَّ الْأَوَّلَ الْمُقَدَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آگے کی صفوں والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد پہلی صف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف