کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب امام کو یہ بات یاد آئے کہ وہ حدث والا ہے
حدیث نمبر: 2348
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءٌ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ صَلَّيْتُ بِكُمْ [آنِفًا] وَأَنَا جُنُبٌ فَمَنْ أَصَابَهُ مِثْلُ مَا أَصَابَنِي أَوْ وَجَدَ فِي بَطْنِهِ رِزًّا فَلْيَصْنَعْ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے لگے پھر آپ واپس تشریف لے گئے ، جب آپ آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں ابھی تم لوگوں کو نماز پڑھانے لگا تھا میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا جس شخص کو اس کی مانند صورت حال کا سامنا کرنا پڑے جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا یا ، جو شخص اپنے پیٹ میں گڑ بڑ پائے تو اسے اس کی مانند کرنا چاہیے جو میں نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن حدیث حسن لغیرہ۔
حدیث نمبر: 2349
وَلَهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُصَلِّي إِذِ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : " فَلْيَنْصَرِفْ وَلِيَغْتَسِلْ ثُمَّ لْيَأْتِ فَلْيَسْتَقْبِلْ صَلَاتَهُ " وَمَدَارُ طُرُقِهِ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ .
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے لگے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہم قیام کی حالت میں رہے ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص کو واپس جانا چاہیے غسل کر کے پھر آ کے نماز ادا کرنی چاہیے “ ۔ اس کے تمام طرق کا مدار ابن لہیعہ نامی راوی پر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2350
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ بِهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَوْمَى إِلَيْهِمْ ثُمَّ انْطَلَقَ، وَرَجَعَ وَرَأَسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَنَسِيتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ غَيْرُ وَاحِدٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں ان لوگوں کے لئے تکبیر کہہ دی پھر آپ نے ان لوگوں کو اشارہ کیا پھر آپ تشریف لے گئے پھر آپ واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں میں جنبی تھا اور ( یہ بات ) بھول گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک سے زیادہ راوی ایسے ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2351
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ، فَأَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ أَنْ كَمَا أَنْتُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى أَتَانَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اغْتَسَلَ وَرَأَسُهُ يَقْطُرُ مَاءً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي صَلَاةُ الْمُتَيَمِّمِ بِالْمُتَوَضِّئِ بَعْدَ هَذَا بِيَسِيرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی آپ کی اقتداء میں ہم نے بھی تکبیر کہہ دی پھر آپ نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ جس طرح ہو ویسے ہی رہو ہم مسلسل قیام کی حالت میں رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تیمم کرنے والے شخص کا وضو کرنے والے کو نماز پڑھانے سے متعلق باب اس سے تھوڑی دیر بعد آ رہا ہے اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2351
درجۂ حدیث محدثین: إسناده متیمم