کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: امام کو لقمہ دینا
حدیث نمبر: 2352
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا تَعَايَا الْإِمَامُ فَلَا تَرُدَّنَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ كَلَامٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب امام اٹک جائے تو تم اسے لقمہ نہ دو کیونکہ یہ کلام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2353
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ : " أَيُّكُمْ آخِذٌ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي ؟ " فَقَالَ أُبَيٌّ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے ایک آیت ترک کر دی ( نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کون شخص میری قرأت کے حوالے سے مجھ کو لقمہ دے گا ؟ سیدنا ابی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ، آپ نے فلاں ، فلاں آیت ترک کر دی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے پتہ تھا اگر کوئی شخص مجھے لقمہ دے سکتا ہے ، تو وہ تم ہو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2354
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْفَجْرَ فَتَرَكَ آيَةً، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : " أَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ؟ " قَالَ أُبَيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نُسِخَتْ آيَةُ كَذَا وَكَذَا أَوْ أُنْسِيتَهَا قَالَ : نَسِيتُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کرتے ہوئے ایک آیت ترک کر دی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : کیا لوگوں میں ابی بن کعب موجود ہے ؟ سیدنا ابی بن کعب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا فلاں فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا وہ آپ کو بھلا دی گئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ میں بھول گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں نے اسے سیدنا عبدالرحمن بن ابزی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2355
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَأَسْقَطَ بَعْضَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ أُبَيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُسِخَتْ آيَةُ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : "لَا" قَالَ : "أَفَلَا لَقَّنْتَنِيهَا " . ¤ هَذَا لَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے قرآن کی کسی سورت ( یعنی آیت ) کو چھوڑ دیا جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو سیدنا اُبی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا فلاں ، فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا ؟ یہ الفاظ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیے ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2356
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَرَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي آيَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ : " أَمَا صَلَّى مَعَكُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ؟ " قَالُوا : لَا قَالَ : فَرَأَى الْقَوْمُ أَنَّهُ إِنَّمَا سَأَلَ عَنْهُ لِيَفْتَحَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا قَيْسَ بْنَ الرَّبِيعِ فَإِنَّهُ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ایک آیت کے بارے میں تردد کا شکار ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : کیا تم لوگوں کے ساتھ ابی بن کعب نے نماز ادا نہیں کی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس لئے دریافت کیا تھا کہ انہوں نے آپ کو لقمہ دے دینا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے قیس بن ربیع کے علاوہ اس کے تمام رجال ” ثقہ “ ہیں اسے یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2357
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةً فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " أَصَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَ عَلَيَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : " أَنْ تَفْتَحَ عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی نماز کے دوران آپ کو مشابہ لگ گیا جب آپ نماز مکمل کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم نے ہماری اقتداء میں نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2357
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2358
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ وَتَرَكَ آيَةً ، فَجَاءَ أُبَيٌّ وَقَدْ فَاتَهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَوْ أُنْسِيتَهَا ؟ قَالَ : "لَا ، بَلْ أُنْسِيتُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے ایک آیت ترک کر دی ، سیدنا ابی بن کعب صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، نماز کا کچھ حصہ ان سے فوت ہو گیا تھا جب نماز مکمل ہوئی ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا وہ آپ کو بھلا دی گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ مجھے بھلا دی گئی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2359
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَلَاتِي ؟ " قَالُوا : مَا أَحْسَنَ مَا صَلَّيْتَ ، قَالَ : " قَدْ نَسِيتُ آيَةً، وَإِنَّ مِنْ حُسْنِ صَلَاةِ الْمَرْءِ أَنْ يَحْفَظَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے میری نماز کو کیسا پایا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ نے بہت عمدہ نماز ادا کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ایک آیت بھول گیا تھا اور آدمی کی نماز کی خوبصورتی میں یہ بات شامل ہے کہ وہ امام کی قرأت کا دھیان رکھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف