کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ایسے امام کا بیان جو اچھے طریقے سے نماز نہ پڑھائے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : مَا يَحْمِلُكُ عَلَى هَذَا ؟ فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي صَلَاةً مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ، وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ عمر بن عبدالعزیز کے برخلاف عمل کیا کرتے تھے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے تھے ؟ تو جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نماز ادا کرتے ہو ، تو میں تمہاری اقتداء میں نماز ادا کر لیتا ہوں ، اور جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے برخلاف نماز ادا کرتے ہو ، تو میں نماز ادا کر کے اپنے گھر واپس چلا جاتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فِي صَلَاتِهِ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي صَلَاةً إِنْ وَافَقْتَهُ وَافَقْتُكَ ، وَإِنْ خَالَفْتَهُ صَلَّيْتُ وَانْقَلَبْتُ إِلَى أَهْلِي .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ مروان بن حکم کی نماز میں اس کے برخلاف عمل کیا کرتے تھے مروان نے ان سے دریافت کیا : آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز ادا کرو گے ، تو میں بھی تمہاری موافقت کروں گا ، اور اگر تم ان کے ( طریقے کے ) برخلاف نماز ادا کرو گے ، تو میں نماز ادا کر کے اپنے گھر واپس چلا جاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْمِصْرِيِّ قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ فَحَضَرَتْنَا الصَّلَاةُ، فَأَرَدْنَا أَنْ يَتَقَدَّمَنَا قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَإِنْ أَتَمَّ فَلَهُ التَّمَامُ وَلَهُمُ التَّمَامُ ، وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ فَلَهُمُ التَّمَامُ وَعَلَيْهِ الْإِثْمُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
ابوعلی مصری بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے نماز کا وقت ہو گیا ہم لوگوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر ( ہماری امامت کریں ) تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے ، اگر وہ ( نماز ) مکمل ادا کرتا ہے تو اسے مکمل ثواب ملے گا ، اور لوگوں کو بھی مکمل ثواب ملے گا ، اور اگر وہ ( امام ) مکمل ادا نہیں کرتا تو لوگوں کو مکمل ثواب ملے گا ( اور امام کو ) گناہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے امام طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے امام طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔