حدیث نمبر: 2318
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہو “ ۔ ( یا قرآن کا زیادہ حافظ ہو ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2319
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : كَانَ يَأْتِينَا الرُّكْبَانُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُحَدِّثُونَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ فِي الصَّحِيحِ وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنِ الرُّكْبَانِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سوار ہماری طرف آتے تھے وہ ہمارے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تمہاری امامت وہ شخص کرے جسے زیادہ قرآن آتا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کے حوالے سے حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، اور یہ ان کی نقل کردہ وہ حدیث ہے ، جو سواروں کے حوالے سے ہے ۔
حدیث نمبر: 2320
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ فَكَانَ فِيمَا أَوْصَانَا : " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقَدَّمُونِي . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ وَهُنَا عَنْ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو احکام دیے تھے ان میں یہ بات بھی شامل تھی تمہاری امامت وہ شخص کرے جسے تم میں سے سب سے زیادہ قرآن آتا ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو مجھے ان میں سے سب سے زیادہ قرآن آتا تھا تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، جسے راوی نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور یہاں پر یہ روایت راوی کے حوالے سے منقول ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2321
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ النَّوْفَلِيُّ الْهَاشِمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسَّنَهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتا ہو ( یعنی اس کا زیادہ حافظ ہو ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی نوفلی ہاشمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے امام بزار نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی نوفلی ہاشمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے امام بزار نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2322
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَافَرْتُمْ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَكُمْ ، وَإِذَا أَمَّكُمْ فَهُوَ أَمِيرُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم سفر کرو تو تمہاری امامت وہ شخص کرے جسے سب سے زیادہ قرآن آتا ہو ، خواہ وہ تم میں عمر میں سب سے چھوٹا ہو اور جب وہ تمہاری امامت کرے گا ، تو پھر وہ تمہارا امیر بھی شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2323
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَفِيهِمْ مَنْ هُوَ أَقْرَأُ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنْهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَفَالٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: الْهَيْثَمُ بْنُ عُقَابٍ قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَا يُعْرَفُ، قُلْتُ : ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی قوم کی امامت کرتا ہے ، اور ان لوگوں کے درمیان ایسا شخص موجود ہو جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کا اس سے زیادہ علم رکھتا ہو ( یعنی اس سے زیادہ آیات کا حافظ ہو ) تو ایسے لوگ قیامت کے دن تک پستی میں رہیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عقاب ہے ازدی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عقاب ہے ازدی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2324
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْطَفُّوا وَلْيَتَقَدَّمْكُمْ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ وَهُوَ مَنْسُوبٌ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ صفیں قائم کرو اور نماز میں تمہارے آگے وہ شخص آئے جو تم میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے اور لوگوں ( یعنی انسانوں ) میں سے رسول منتخب کیے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2325
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ سَرَّكُمْ أَنْ تُقْبَلَ صَلَاتُكُمْ فَلْيَؤُمَّكُمْ [خِيَارِكُمْ]، فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر تمہیں یہ بات پسند آتی ہے کہ تمہاری نماز قبول ہو جائے تو تمہارے بہترین لوگ تمہاری امامت کریں کیونکہ وہ اس چیز کے بارے میں تمہارے سفیر ہوں گے ، جو تمہارے اور تمہارے پروردگار کے درمیان ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2326
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ قَدِمُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ؛ لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: شُعَيْبُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ، قُلْتُ : شُعَيْبٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ وَلَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ مہاجرین کی امامت کیا کرتے تھے جب وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تھے ان لوگوں میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، اور دیگر مہاجرین بھی شامل تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن جانتے تھے ( یعنی قرآن کی زیادہ آیات کے حافظ تھے ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ، ” اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سب سے زیادہ قرآن آتا تھا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن ابواشعث ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں : شعیب نامی اس راوی کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب کہ اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی نہ ہو اور بقیہ بن ولید نہ ہو ۔
یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ، ” اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سب سے زیادہ قرآن آتا تھا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن ابواشعث ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں : شعیب نامی اس راوی کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب کہ اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی نہ ہو اور بقیہ بن ولید نہ ہو ۔
حدیث نمبر: 2327
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى مَسْجِدِ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ لَهُ : تَقَدَّمْ فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَكَ وَأَنْتَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا وَأَقْدَمُ مِنِّي هِجْرَةً وَالْمَسْجِدُ مَسْجِدُكَ فَقَالَ فُرَاتٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِيكَ شَيْئًا ، لَا أَتَقَدَّمُكَ أَبَدًا قَالَ : أَشَهِدْتَهُ يَوْمَ أَتَيْتُهُ يَوْمَ الطَّائِفِ فَبَعَثَنِي عَيْنًا ؟ قَالَ : نَعَمْ فَتَقَدَّمَ حَنْظَلَةُ فَصَلَّى بِهِمْ، فَقَالَ فُرَاتٌ : يَا بُنَيَّ عَجِّلْ إِنِّي إِنَّمَا قَدَّمْتُ هَذَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ عَيْنًا إِلَى الطَّائِفِ فَجَاءَهُ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ : صَدَقْتَ ارْجِعْ إِلَى مَنْزِلِكَ فَإِنَّكَ قَدْ سَهِرْتَ اللَّيْلَةَ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ لَنَا : " ائْتَمُّوا بِهَذَا وَأَشْبَاهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن زہیر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا حنظلہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد فرات بن حیان کی طرف گیا نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھیں تو انہوں نے کہا: میں آپ سے آگے نہیں بڑھ سکتا جب کہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں ، اور آپ نے مجھ سے پہلے ہجرت کی تھی اور یہ نماز کی جگہ بھی آپ کی نماز کی جگہ ہے ، تو سیدنا فرات رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں یہ بات کہی تھی تو اس وجہ سے میں تمہارے آگے کبھی نہیں آؤں گا انہوں نے دریافت کیا : تم اس دن موجود تھے جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا یہ غزوہ طائف کے موقع کی بات ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جاسوس بنا کر بھیجا تھا دوسرے صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا فرات رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے ! جلدی کرنا کیونکہ میں نے ان صاحب کو آگے کیا ہے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی طرف جاسوس بنا کر بھیجا تھا پھر یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، اور آپ کو پوری صورت حال کے بارے میں بتایا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے تم اپنی رہائشی جگہ کی طرف واپس چلے جاؤ کیونکہ تم رات بھر جاگتے رہے ہو جب وہ صاحب چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : اس کی اور اس جیسے افراد کی پیروی کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔