کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سترہ کے بغیر نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2315
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلی جگہ پر نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی چیز ( سترہ کے طور پر ) نہیں تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2316
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَنَزَلْنَا عَنْهُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ يَأْكُلُ مِنْ بَقَلِ الْأَرْضِ - أَوْ قَالَ : "نَبَاتِ الْأَرْضِ" - فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَكَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ ؟ قَالَ : لَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : أَكَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ فَقَالَ : لَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اور بنوہاشم سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان گدھے پر سوار ہو کر آئے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ہم اس جانور سے اتر گئے ہم نے اس گدھے کو چھوڑ دیا تاکہ وہ زمین کے سبزے میں سے کھا پی لے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) زمین کے نباتات میں سے کھا پی لے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز میں شامل ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : کیا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی نیزہ ( سترہ کے طور پر لگا ہوا ) تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی نیزہ موجود تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2316
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2317
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَطُوفُونَ بَيْنَ يَدَيْهِ بِغَيْرِ سُتْرَةٍ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ حجراسود کے قریب نماز ادا کر رہے تھے ، آپ کے سامنے کوئی سترہ نہیں تھا اور مرد اور خواتین آپ کے آگے سے خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یاسین الزیات ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2317
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً