حدیث نمبر: 2307
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَذَهَبَتْ شَاةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا حَتَّى أَلْزَقَهَا بِالْحَائِطِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ ، وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ التَّمَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ایک بکری آئی اور آپ کے آگے سے گزرنی لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روکنے کی کوشش کی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز کو کوئی چیز منقطع نہیں کرتی ہے ، لیکن تم سے جہاں تک ہو سکے ( آگے سے گزرنے والے کو ) پرے کرو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن میمون تمار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2308
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کو کوئی چیز منقطع نہیں کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 2309
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتے تھے ، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے نوافل کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان چوڑائی کی سمت میں لیٹی ہوئی ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2310
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ : " أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے ، اور وہ آپ کے سامنے چوڑائی کی سمت میں لیٹی ہوئی ہوتی تھیں آپ نے ارشاد فرمایا : کیا یہ خواتین تمہاری مائیں تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں نہیں ہیں ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کیا یہ خواتین تمہاری مائیں تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں نہیں ہیں ؟ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2311
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ يَفْرِشُ لِي حِيَالَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُصَلِّي وَأَنَا حِيَالُهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهَا : "وَكَانَ يُصَلِّي وَأَنَا حِيَالُهُ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی مخصوص جگہ کے سامنے میرا بستر ہوتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے ، اور میں آپ کے سامنے ہوتی تھی ۔ علامہ ہیثمی کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے ، اور میں آپ کے سامنے ہوتی تھی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2312
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدِيَّ فَمَنَعْتُهُ، [فَأَبَى] فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ : لَا يَضُرُّكَ يَا ابْنَ أَخِي . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : میں نماز ادا کر رہا تھا ایک شخص میرے آگے سے گزرنے لگا میں نے اسے منع کیا وہ بات نہیں مانا میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھیجے ! اس نے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2313
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّتْ شَاةٌ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک بکری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزری ۔ آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان میں سے گزری ، لیکن اس نے آپ کی نماز کو منقطع نہیں کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2314
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقْطَعُ الْهِرُّ الصَّلَاةَ وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ : وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بلی نماز کو منقطع نہیں کرتی ہے کیونکہ وہ گھر کے سامان کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔