کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون سی چیز نماز کو توڑ دیتی ہے ؟
حدیث نمبر: 2291
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إِلَّا الْحِمَارُ وَالْكَافِرُ وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ " . ¤ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسلمان کی نماز کو کوئی بھی چیز منقطع نہیں کرتی ہے البتہ گدھے ، کافر ، کتے اور عورت کا معاملہ مختلف ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں ( یعنی خواتین کو ) برے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2291
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2292
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کتا ، گدھا اور عورت ( نمازی کے آگے سے گزر کر ) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2293
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ دُرَيْحٍ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةَ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کتا گدھا اور عورت ( نمازی کے آگے سے گزر کر ) نماز کو توڑ دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن دریح ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2293
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2294
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَامْرَأَةٌ بِالْبَطْحَاءِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَأَخَّرِي، فَرَجَعَتْ حَتَّى صَلَّى ثُمَّ مَرَّتْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ: ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے میدان سے ایک عورت گزر رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ کیا کہ تم پیچھے ہو جاؤ تو وہ واپس چلی گئی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز ادا کر لی تو پھر وہ گزری ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2294
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2295
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَعْلَى الْوَادِي نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ قَدْ قَامَ وَقُمْنَا إِذَا خَرَجَ عَلَيْنَا حِمَارٌ مِنْ شِعْبِ أَبِي دُبٍّ - شِعْبِ أَبِي مُوسَى - فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُكَبِّرْ، وَأَجْرَى إِلَيْهِ يَعْقُوبُ بْنُ زَمْعَةَ حَتَّى رَدَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی کے بالائی حصے میں موجود تھے ہمارا نماز ادا کرنے کا ارادہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اسی دوران شعب ابودب یعنی شعب ابوموسیٰ میں سے ایک گدھا نکل کر ہمارے سامنے آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے آپ نے تکبیر نہیں کہی آپ نے یعقوب بن زمعہ کو اس کی طرف بھیجا انہوں نے اسے واپس کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2295
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن