کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سترہ کے قریب ہونا
حدیث نمبر: 2285
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَمُرُّ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا "، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص سترہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے تو وہ اس کے قریب ہو ، تاکہ شیطان اس کی نماز کو منقطع نہ کر سکے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے قریب کھڑا ہو ، تاکہ شیطان اس کے اور اس سترے کے درمیان میں سے نہ گزرے “ ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عمیر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ایوب صریفینی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے طبرانی کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2285
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
حدیث نمبر: 2286
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص سترہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے ، تو وہ اس کے قریب ہو ، تاکہ شیطان اس کی نماز کو منقطع نہ کر سکے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2286
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، رواہ البزار ورجالہ ثقات۔
حدیث نمبر: 2287
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْهَقُوا الْقِبْلَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبلہ کا دھیان رکھو !
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2288
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص سترہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے تو وہ اس کے قریب ہو ، تاکہ شیطان اس کی نماز کو منقطع نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه سهل ، رواية الكوفيين عن ابي حازم نافع بن جبير بن مطعم ، 5880»
حدیث نمبر: 2289
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي مُتَرَاخِيًا عَنِ الْقِبْلَةِ فَقَالَ سَهْلٌ : تَقَدَّمْ إِلَى مُصَلَّاكَ لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ صَلَاتَكَ، وَلَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو قبلہ ( کی سمت والی دیوار ) سے ذرا دور ہو کر نماز ادا کر رہا تھا تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنی جائے نماز کی طرف ذرا آگے ہو جاؤ تاکہ شیطان تمہاری نماز کو منقطع نہ کرے میں تمہیں وہ بات بیان کر رہا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2289
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 2290
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَجْوَةٌ - يَعْنِي : فُرْجَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ہرگز ادا نہ کرے ، کہ اس شخص کے اور قبلہ ( یعنی قبلہ کی سمت والی دیوار یا سترہ ) کے درمیان کشادگی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2290
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع اور ضعیف ہے، کیونکہ ابو عبیدہ کا اپنے والد سے سماع ثابت نہیں۔