کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اونٹ پر نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2283
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كُنَّا فِي غَزْوَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَنَامَ الْبَعِيرِ فَقَامَ يُصَلِّي إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوئے نماز کے لئے اقامت کہی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی کوہان کی طرف رُخ کیا اور کھڑے ہو کر اس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2283
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2284
وَعَنِ الْمِقْدَامِ قَالَ : جَلَسَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَعُبَادَةُ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنَ الْبَعِيرِ فَقَالَ : " مَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : وَالْمِقْدَامُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْحَسَنِ ، قُلْتُ : الْمِقْدَامُ هَذَا هُوَ الرَّهَاوِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
مقدام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ حارث بن معاویہ کے پاس تشریف فرما تھے ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں کس کو یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں مال غنیمت کے اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھائی تھی جب آپ نے نماز مکمل کی تھی تو آپ نے اونٹ کے ایک بال کو لے کر ارشاد فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو چیز مال فے کے طور پر عطا کی ہے ، اس میں سے میرے لئے اتنا لینا بھی حلال نہیں ہے البتہ خمس کا معاملہ مختلف ہے ، اور خمس بھی تمہارے درمیان تقسیم ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : مقدام نامی راوی کے حوالے سے حسن بصری کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے میں یہ کہتا ہوں : مقدام نامی یہ شخص مقدام رہاوی ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2284
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔