کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص اپنے گھر میں نماز ادا کر لے اور پھر وہ لوگوں کو مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے پائے
حدیث نمبر: 2173
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ قَالَ : خَرَجْتُ بِأَبَاعِرَ لِي لِأُصْدِرَهَا إِلَى الرَّاعِي فَمَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَمَضَيْتُ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِي وَرَجَعْتُ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا حِينَ مَرَرْتَ بِنَا ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي قَالَ : "وَإِنْ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
بنو دیل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں اپنے اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ انہیں چرواہے کے سپرد کر دوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا آپ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے میں آگے چلا گیا میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی جب میں اپنے اونٹوں کے ساتھ واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں ادا کی جب تم ہمارے پاس سے گزرے تھے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ ( تم اپنے گھر میں نماز ادا کر چکے تھے پھر بھی تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کرنی تھی ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2174
وَعَنِ ابْنِ أَبِي الْخَرِيفِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أَتَيْتُ أَنَا وَأَخِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ وَقَدْ صَلَّيْنَا الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ فَلَمْ نُصَلِّ مَعَهُمْ فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ " قُلْنَا : قَدْ صَلَّيْنَا الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ الْمَكْتُوبَةَ فِي الْبَيْتِ ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ تَكُونُ صَلَاتُهُ فِي بَيْتِهِ نَافِلَةً" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَابْنُ أَبِي الْخَرِيفِ وَأَبُوهُ لَا أَدْرِي مَنْ هُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوخریف ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت مسجد خیف میں موجود تھے ہم فرض نماز گھر میں ادا کر چکے تھے ہم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی ۔ ہم نے عرض کی : ہم گھر میں فرض نماز ادا کر چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص گھر میں فرض نماز ادا کر چکا ہو اور پھر وہ جماعت کو پا لے ، تو وہ لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لے اس نے گھر میں جو نماز ادا کی تھی وہ نفل شمار ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن ابوخریف اور اس کے والد کے بارے میں ، میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن ابوخریف اور اس کے والد کے بارے میں ، میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں ؟
حدیث نمبر: 2175
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَبْصَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَيْنِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَأَمَرَ بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا مِنَ الصَّلَاةِ مَعَنَا ؟ " قَالَا : صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ : " أَفَلَا صَلَّيْتُمْ مَعَنَا ، فَتَكُونُ تَطَوُّعًا وَتَكُونُ الْأُولَى هِيَ الْفَرِيضَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَخَالَفَ النَّاسُ فِي إِسْنَادِهِ ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَهُشَيْمٌ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ ذِي حِمَايَةَ وَالثَّوْرِيُّ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ . ¤ قُلْتُ : وَرِجَالُ إِسْنَادِ الْحَدِيثِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْحَجَّاجَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد خیف میں دو افراد کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ دو دونوں لوگوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں بلایا گیا تو ان کے اعضاء کانپ رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی ؟ انہوں نے عرض کی : ہم اپنی رہاشی جگہ پر نماز ادا کر چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کر سکتے تھے وہ نفل ہو جاتیں اور پہلے والی فرض رہتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ حجاج بن ارطاۃ نے یعلی بن عطاء کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے ، اور لوگوں نے اس کی سند مختلف نقل کی ہے ، اس روایت کو شعبہ ابوعوانہ ہشیم ابراہیم بن ذی حمایہ ثوری اور ہشام بن حسان نے یعلی بن عطاء کے حوالے سے عطاء کے حوالے سے سیدنا جابر بن یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کی سند کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ حجاج نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے عنعنہ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ حجاج بن ارطاۃ نے یعلی بن عطاء کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے ، اور لوگوں نے اس کی سند مختلف نقل کی ہے ، اس روایت کو شعبہ ابوعوانہ ہشیم ابراہیم بن ذی حمایہ ثوری اور ہشام بن حسان نے یعلی بن عطاء کے حوالے سے عطاء کے حوالے سے سیدنا جابر بن یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کی سند کے رجال ” ثقہ “ ہیں البتہ حجاج نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور اس نے عنعنہ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2176
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْقَوْمُ يُصَلُّونَ فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْعِجْلِيُّ الْوَاسِطِيُّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا لوگ نماز ادا کر رہے تھے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو اور پھر وہ مسجد میں آئے اور لوگ اس وقت نماز ادا کر رہے ہوں تو اس شخص کو ان لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنی چاہیے یہ نماز اس کے لئے نفل ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا ہے اگر تو وہ علی واسطی ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ، اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا ہے اگر تو وہ علی واسطی ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ، اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔