کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز ترک کرنے کی شدید مذمت
حدیث نمبر: 2159
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ يُنَادِي إِلَى الصَّلَاةِ يَدْعُو إِلَى الْفَلَاحِ فَلَا يُجِيبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ مکمل جفا ہے کفر ہے ، اور منافقت ہے کہ جو شخص اللہ کے منادی کو نماز کی طرف بلاتے ہوئے سنے جو بھلائی کی طرف بلا رہا ہو اور پھر وہ شخص اس کی بات کا جواب نہ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2160
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَسْبُ الْمُؤْمِنِ مِنَ الشَّقَاءِ وَالْخَيْبَةِ أَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنَ يُثَوِّبُ بِالصَّلَاةِ فَلَا يُجِيبُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ زَبَّانُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن کی بدنصیبی کے لئے اور رسوائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مؤذن کو نماز کے لئے بلاتے ہوئے سنے اور پھر اسے جواب نہ دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں بھی ایک راوی زبان ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني بقية الميم رواية ابل الكوفة معاذ بن انس الجهني 17209»
حدیث نمبر: 2161
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ مِنْ غَيْرِ ضُرٍّ وَلَا عُذْرٍ فَلَا صَلَاةَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اذان سنتا ہے ، اور پھر کوئی بیماری یا عذر نہ ہونے کے باوجود اسے جواب نہیں دیتا تو اس شخص کی نماز نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2162
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ أَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر گھروں میں موجود خواتین اور بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کی ہدایت کرتا اور نوجوانوں کو حکم دیتا کہ جو لوگ گھروں میں موجود ہیں انہیں وہ آگ کے ذریعے جلا دیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابومعشر نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2163
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي الْجَمِيعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسجد کے آس پاس موجود رہنے والے وہ لوگ جو عشاء کی نماز باجماعت میں شریک نہیں ہوتے ہیں یا تو وہ اس کام سے باز آ جائیں گے یا پھر میں لکڑی کے گٹھوں کے ذریعے ان کے گھروں کے اردگرد آگ لگا دوں گا “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ان افراد میں سے جو مسجد کے اردگرد رہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2164
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ قَالَ : " فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گھر دور ہے ، اور میری بینائی رخصت ہو چکی ہے ، اور میں اذان کی آواز سنتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اذان سنتے ہو ، تو اس کا جواب دو ( یعنی با جماعت نماز میں شریک ہو ) خواہ گھسٹ کر آنا پڑے یا ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چل کے آنا پڑے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2165
وَعَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً فَقَالَ : " إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجُ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ " فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي ؟ قَالَ : " أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : "فَأْتِهَا" . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے آپ نے لوگوں کی تعداد کم دیکھی تو ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں کسی کو لوگوں کا امام مقرر کروں اور پھر نکل کھڑا ہوؤں ، اور پھر جس بھی شخص پر ق ابوپاؤں جو نماز کو چھوڑ کر اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو اسے آگ لگا دوں سیدنا ابن ام مکتوم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اور مسجد کے درمیان کھجور کے درخت اور دوسرے درخت ہوتے ہیں ، اور مجھے ہر وقت ساتھ لے جانے والا نہیں ملتا ہے کیا میرے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ میں اپنے گھر میں نماز ادا کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اقامت سنتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم یہاں آؤ ۔
میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2166
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ ضَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ فَلَعَلِّي لَا أَجِدُ قَائِدًا وَيَشُقُّ عَلَيَّ ، أَفَأَتَّخِذُ مَسْجِدًا فِي دَارِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيَبْلُغُكَ النِّدَاءُ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَإِذَا سَمِعْتَ فَأَجِبْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ : " فَأَجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ " وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : میں اذان کی آواز سنتا ہوں لیکن بعض اوقات مجھے ساتھ لے کر چلنے والا نہیں ملتا تو آنا میرے لئے مشکل ہوتا ہے کیا میں اپنے گھر میں نماز کے لئے جگہ مخصوص کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم تک اذان کی آواز آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم اسے سنو تو پھر اس کا جواب دو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اللہ تعالی کی طرف سے دعوت دینے والے کو جواب دو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ اس کا محل صدق ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2167
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ - وَهُوَ أَعْمَى وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ " عَبَسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى " وَكَانَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ كَمَا تَرَانِي قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَذَهَبَ بَصَرِي وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي قِيَادُهُ إِيَّايَ ، فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أُصَلِّي فِي بَيْتَيِ الصَّلَوَاتِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ فِي الْبَيْتِ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً ، وَلَوْ يَعْلَمُ هَذَا الْمُتَخَلِّفُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ مَا لِهَذَا الْمَاشِي إِلَيْهَا لَأَتَاهَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ وَقَدْ ضَعَّفَهُمَا الْجُمْهُورُ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے وہ نابینا تھے یہ وہ صاحب ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی : ” اس نے ماتھے پہ بل ڈال لیا اور منہ پھیر لیا جب اس کے پاس نابینا آیا “ ۔ وہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں جیسا کہ آپ مجھے ملاحظہ فرما رہے ہیں میری عمر زیادہ ہو چکی ہے ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں بینائی رخصت ہو گئی ہے ، اور مجھے ساتھ لے کے چلنے والا بعض اوقات نہیں ملتا ہے ، تو کیا آپ میرے لئے بہ رخصت پاتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز ادا کر لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جس گھر میں تم رہتے ہو کیا وہاں تم مؤذن کی آواز سنتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے رخصت نہیں پاتا ہوں باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والے ان افراد کو اگر یہ پتہ چل جائے کہ ان کے لئے چل کے آنے میں کتنا اجر و ثواب ہے ، تو وہ اس ( با جماعت نماز ) میں ضرور شریک ہوں خواہ انہیں ہاتھوں اور پاؤں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے ، اسے علی بن یزید الہانی نے قاسم سے روایت کیا ہے جمہور نے ان دونوں راویوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2168
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ - فَشَكَا إِلَيْهِ وَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ وَقَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْمَسِيلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَسْمَعُ الْأَذَانَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ، مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُذْرَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَلَا أَعْرِفُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کی بینائی کمزور تھی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی اور آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں عشاء اور فجر کی نماز با جماعت میں شریک نہ ہونے ) کی رخصت دے دیں انہوں نے عرض کی : میرے اور آپ کے درمیان نشیبی پانی کی گزرگاہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم آذان کی آواز سنتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ مکالمہ ایک یا شاید دو مرتبہ ہوا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے انہیں اجازت نہیں دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عذرہ بن حارث ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2168
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2169
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِلَالًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَنْصَرِفَ إِلَى قَوْمٍ سَمِعُوا النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِيبُوا فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ بِلَفْظِ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقُ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں بلال کو حکم دوں وہ نماز کے لئے اقامت کہے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جنہوں نے اذان سنی تھی اور اس کا جواب نہیں دیا ( یعنی با جماعت نماز میں شریک نہیں ہوئے ) اور پھر میں ان لوگوں سمیت ان کے گھروں کو آگ لگا دوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام مسلم نے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : ” میں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی شخص کو یہ حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ کی نماز میں شریک نہیں ہوئے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2170
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا دَعَا النَّاسَ إِلَى عِرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوهُ ، وَهُمْ يُدْعَوْنَ إِلَى هَذِهِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ فَلَا يَأْتُونَهَا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ أَنْصَرِفَ إِلَى قَوْمٍ سَمِعُوا النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِيبُوا فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ نَارًا ، إِنَّهُ لَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر کوئی شخص لوگوں کو ایک ہڈی یا دو پایوں کی طرف دعوت دے تو یہ وہاں چلے جائیں گے اور ان لوگوں کو نماز با جماعت کی طرف بلایا جاتا ہے ، تو یہ اس میں شریک نہیں ہوتے ہیں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں کسی شخص کو یہ ہدایت کروں کہ وہ لوگوں کو باجماعت نماز پڑھائے اور پھر میں ان لوگوں کی طرف چلا جاؤں جنہوں نے اذان سنی تھی اور پھر جواب نہیں دیا اور ان کو آگ لگا دوں باجماعت نماز سے کوئی منافق ہی پیچھے رہ سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الأوسط للطبراني باب الألف ، باب من اسمه إبراهيم 2820»
حدیث نمبر: 2171
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ سَمِعَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ تَرَكَ سُنَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” جو شخص حى على الفلاح سنتا ہے ، اور اسے جواب نہیں دیتا وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ترک کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2172
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتَيِ الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ ؛ فَأَمَّا اللَّبَنُ فَيَنْتَجِعُ أَقْوَامٌ بِحُبِّهِ فَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَةُ وَالْجَمَاعَاتِ ، وَأَمَّا الْكِتَابُ فَيُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ مِنْهُ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَبِغَيْرِ لَفْظِهِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَيَأْتِي غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْجُمُعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ کتاب اور دودھ کا ہے جہاں تک دودھ کا تعلق ہے ، تو کچھ لوگ اس کی محبت میں جمعہ اور باجماعت نمازوں کو ترک کر دیں گے اور جہاں تک کتاب کا تعلق ہے ، تو اس کا علم کچھ لوگوں کے لئے کھول دیا جائے گا اور وہ اس کے ذریعے اہل ایمان کے ساتھ بحث کریں گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، تاہم ان کے الفاظ مختلف ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیہ ہے ۔ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے علاوہ دوسری روایات جمعہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف