کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عشاء کی نماز اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنا
حدیث نمبر: 2145
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عشاء کی نماز اور صبح کی نماز ( با جماعت ) میں شریک نہ ہونے والوں کو اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں کا اجر کتنا زیادہ ہے ، تو وہ ان دونوں میں شریک ہوں خواہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2146
وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ " ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعَشَاءِ قَالَ أَبُو بِشْرٍ : يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ أَنَسٍ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ أَبِي بَشِيرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمیر بن انس نے اپنے چچاؤں کے حوالے سے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، یہ بات نقل کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ان دونوں ( یعنی عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں ) میں کوئی منافق شریک نہیں ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء اور صبح کی نمازیں تھیں ابوبشر کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان دونوں کو باقاعدگی سے ادا نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمیر بن انس ہے ابوبشیر جعفر بن ابووحشیہ کے علاوہ اور کسی کو میں نے اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2147
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي شُهُودِ الْعَتَمَةِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ لَأَتَوْهَا وَلَوْ حَبْوًا "رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ بدھ کی رات عشاء کی نماز ( با جماعت ) شریک ہونے میں کتنا اجر ہے ، تو وہ اس میں ضرور شریک ہوں خواہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منصور ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2148
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ كَانَ كَعِدْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ غَيْرُ مُتَّهَمٍ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص عشاء کی نماز با جماعت ادا کرتا ہے ، اور پھر مسجد سے باہر جانے سے پہلے چار رکعات ادا کر لیتا ہے ، تو یہ شب قدر کے برابر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہے ، جس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2149
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ النَّخَعِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اعْبُدِ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى، وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُسْتَجَابُ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَشْهَدَ الصَّلَاتَيْنِ الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ وَلَوْ حَبْوًا فَلْيَفْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالرَّجُلُ الَّذِي مِنَ النَّخَعِ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَسَمَّاهُ جَابِرًا . ¤
محمد محی الدین
نخع سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو سنا جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اللہ تعالی کی یوں عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تم اپنا شمار مردوں میں کرو اور مظلوم کی بددعا سے بچ کے رہنا کیونکہ وہ مستجاب ہوتی ہے تم میں سے جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ دو نمازوں عشاء اور صبح ( کی با جماعت نمازوں ) میں شریک ہو سکتا ہو ، تو اسے ایسا کرنا چاہیے ، خواہ وہ گھسٹ کر چل کر جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے نخع سے تعلق رکھنے والے شخص کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے انہوں نے اس شخص کا نام جابر بیان کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2150
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا صَلَاةٌ أَثْقَلُ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا مِنَ الْفَضْلِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” منافقین کے لئے کوئی بھی نماز عشاء اور فجر کی نمازوں سے زیادہ بوجھل نہیں ہے اگر انہیں ان دونوں کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو وہ ان دونوں میں ضرور شریک ہوں خواہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله 9894»
حدیث نمبر: 2151
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِي الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب ہم فجر اور عشاء کی نمازوں میں کسی شخص کو غیر موجود پاتے تھے تو اس کے بارے میں برا گمان رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2152
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ہم صبح کی نمازوں میں کسی شخص کو غیر موجود پاتے تھے تو اس کے بارے میں برا گمان رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2152
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2153
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهِ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص عشاء کی نماز با جماعت ادا کرتا ہے ، تو وہ گویا شب قدر میں سے اپنا حصہ حاصل کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2153
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2154
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : كَانَتْ لَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ وَالْمَطَرِ فَقُلْتُ : لَوْ أَنِّي اغْتَنَمْتُ اللَّيْلَةَ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَعَلْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَنِي وَمَعَهُ عُرْجُونٌ يَمْشِي عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا قَتَادَةُ هَا هُنَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " فَقُلْتُ : اغْتَنَمْتُ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَأَعْطَانِي الْعُرْجُونَ فَقَالَ : " إِنِ الشَّيْطَانَ قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ فَاذْهَبْ بِهَذَا الْعُرْجُونِ فَأَمْسِكْ بِهِ حَتَّى تَأْتِيَ بَيْتَكَ فَخُذْهُ مِنْ زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ بِالْعُرْجُونِ فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَضَاءَ الْعُرْجُونُ مِثْلَ الشَّمْعَةِ نُورًا، فَاسْتَضَأْتُ بِهِ فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَوَجَدْتُهُمْ قَدْ رَقَدُوا، فَنَظَرْتُ فِي الزَّاوِيَةِ فَإِذَا فِيهَا قُنْفُذٌ فَلَمْ أَزَلْ أَضْرِبُهُ بِالْعُرْجُونِ حَتَّى خَرَجَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَيَأْتِي حَدِيثٌ عِنْدَ أَحْمَدَ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا فِي الْجُمُعَةِ وَالسَّاعَةِ الَّتِي فِيهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات بہت زیادہ تاریک اور بارش والی تھی میں نے سوچا اگر میں آج کی رات یہ غنیمت حاصل کر لوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عشاء کی نماز میں شریک ہو جاؤں تو یہ مناسب ہو گا ، تو میں نے ایسا ہی کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس کے ساتھ ٹیک لگا کر آپ چلتے تھے آپ نے فرمایا : اے قتادہ ! کیا وجہ ہے تم اس وقت یہاں کیوں ہو ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے آپ کے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضری کو غنیمت سمجھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شاخ مجھے عطا کی اور فرمایا شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں کے پاس آ گیا تھا تم یہ شاخ لے جاؤ اور اسے اس وقت تک پکڑ کے رکھنا جب تک تم اپنے گھر نہیں پہنچ جاتے اور پھر اپنے گھر کے ہر ایک گوشے میں یہ شاخ مارنا ( سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں مسجد سے نکلا تو وہ شاخ یوں روشن ہو گئی جیسے شمع روشن ہوتی ہے ، میں اس کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر آیا جب میں اپنے گھر آیا تو میں نے اپنے گھر والوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے میں نے گھر کے ایک گوشے میں جائزہ لیا تو وہاں ایک قنفذ موجود تھا میں اُسے مسلسل چھڑی کے ذریعے مارتا رہا یہاں تک کہ وہ باہر چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے آگے چل کر ایک حدیث آئے گی ، جسے امام أحمد نے نقل کیا ہے وہ اس سے زیادہ طویل حدیث ہے وہ جمعہ اور اس میں موجود مخصوص گھڑی سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2155
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَفَرَ ذِمَّةَ اللَّهِ كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ شَيْءٌ مِنْهَا فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص صبح کی نماز با جماعت ادا کرتا ہے وہ اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس باب سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث آگے چل کر فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا اور اس موضوع سے متعلق کچھ روایات نماز کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2155
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2156
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْفَجْرَ كُتِبَتْ صَلَاتُهُ يَوْمَئِذٍ فِي صَلَاةِ الْأَبْرَارِ ، وَكُتِبَ فِي وَفْدِ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص وضو کر کے مسجد آتا ہے ، اور پھر فجر سے پہلے دو رکعات ادا کرتا ہے پھر وہ بیٹھ جاتا ہے یہاں تک کہ فجر کی نماز ادا کرتا ہے ، تو اس کی نماز اس دن میں نیکوکاروں کی نماز میں نوٹ کی جاتی ہے ، اور اس کا شمار رحمان کے ملاقاتیوں ( یعنی مہمانوں ) میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2157
وَعَنْ بِلَالٍ الْمُؤَذِّنِ قَالَ : أَذَّنْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ، ثُمَّ نَادَيْتُ فَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَالَهُمْ ؟ " فَقُلْتُ : مَنَعَهُمُ الْبَرْدُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ احْبِسْ عَنْهُمُ الْبَرْدَ " فَقَالَ بِلَالٌ : فَأَشْهَدُ أَنِّي رَأَيْتُهُمْ يَتَرَوَّحُونَ فِي الصُّبْحِ مِنَ الْحَرِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال مؤذن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سرد رات میں ، میں نے اذان دی تو کوئی شخص نہیں آیا پھر میں نے اذان دی تو پھر کوئی نہیں آیا تین مرتبہ ایسا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : سردی کی وجہ سے وہ نہیں آ سکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! ان سے سردی کو روک دے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ خوشگوار موسم میں صبح کی نماز کے لئے آ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سیار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2157
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2158
وَعَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ الْأَزْهَرِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ حَسَّانَ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذْ ذَاكَ إِذَا تَزَوَّجَ تَخَدَّرَ أَيَّامًا فَلَا يَخْرُجُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَقِيلَ لَهُ : أَتَخْرُجُ ؟ ! وَإِنَّمَا بَنَيْتَ بِأَهْلِكَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ امْرَأَةً تَمْنَعُنِي مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فِي جَمْعٍ لَامْرَأَةُ سُوءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عنبسہ بن ازہر ، سماک کا بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا حارث بن حسان رضی اللہ عنہ نے شادی کی انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا تب یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تھا تو وہ کچھ دن تک صبح کی نماز با جماعت ادا کرنے کے لئے نہیں آیا کرتا تھا ان سے دریافت کیا گیا کیا آپ ( با جماعت نماز کی ادائیگی کے لیے ) جائیں گے جب کہ گزشتہ رات آپ نے اپنی اہلیہ کی رخصتی کروائی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! جو عورت مجھے صبح کی نماز با جماعت ادا کرنے سے روکے گی وہ تو بری عورت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔